Quran Way of Life
ReadSearch
Arabic text: Tanzil Project (tanzil.net) — verified Uthmani text, reproduced verbatim.

Chapter 5

آخرت کی زندگی - جنت یا جہنم

ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِۦ كَمِشْكَوٰةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ٱلْمِصْبَاحُ فِى زُجَاجَةٍ ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَٰرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِىٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ يَهْدِى ٱللَّهُ لِنُورِهِۦ مَن يَشَآءُ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَٰلَ لِلنَّاسِ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

Quran 24:35

(24:35) “Allah is the Light of the heavens and the earth.

وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحْمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ

Quran 2:163 · 5.1.i

(2:163) “And your Ilah (God) is One Ilah (God - Allah), La ilaha illa Huwa (there is none who has the right to be worshipped but He), the Most Gracious, the Most Merciful”.

إِنَّ إِلَٰهَكُمْ لَوَٰحِدٌ ۝ رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ ٱلْمَشَٰرِقِ

Quran 37:4,5 · 5.1.ii

(37:4,5) “Verily, your God is indeed One;(4) Lord of the heavens and of the earth, and all that is between them, and Lord of every point of the sun's risings.(5)”

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعْبُدُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

Quran 2:21 · 5.1.iii

(2:21) “O mankind! Worship your Lord (Allah), Who created you and those who were before you so that you may acquire Taqwa.”

فَاطِرُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًا وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ أَزْوَٰجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ

Quran 42:11 · 5.1.iv

“ There is nothing like Him,”

أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا۟ هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَءَاثَارًا فِى ٱلْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٍ ۝ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَكَفَرُوا۟ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ إِنَّهُۥ قَوِىٌّ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

Quran 40:21,22 · 5.16.i

“کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا نتیجہ کیسا ہوا ؟ وہ قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیادہ تھے، پس اللہ نے انھیں ان گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انھیں اللہ کے عذابوں سے بچا لیتا۔یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزے لے لے کر آتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے پس اللہ انھیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وہ زبر دست طاقت والا اور سخت عذابوں والا ہے۔ ”(40:21,22)

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِۦ شَيْـًٔا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُولُوا۟ ٱشْهَدُوا۟ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

Quran 3:64 · 5.16.ii

“کہہ دو کہ اے اہل کتاب ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابرہے کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کریں نہ اسکے ساتھ کسی کوشریک بنا میں نہ اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنا ئیں پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں”۔(3:64)

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ ۝ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَلْبِسُونَ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَٰطِلِ وَتَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

Quran 3:70,71 · 5.16.iii

“اے اہل کتاب تم با وجود قائل ہونے کے پھر بھی دانستہ کفر کیوں کر رہے ہو ؟۔ اے اہل کتاب باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپارہے ہو؟”۔

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَٰهُمْ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

Quran 5:65 · 5.16.iv

ایمان لانے والوں کو جنت حاصل ہوتی ہے: {5:65} “اور اگر یہ اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی تمام برائیاں معاف فرما دیتے اور ضرور انہیں راحت و آرام کی جنتوں میں لے جاتے۔”

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَٰهُمْ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ۝ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا۟ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُونَ

Quran 5:65,66 · 5.16.v

“یہ اہل کتاب ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں معاف فرمادیتے اور ضرور انہیں راحت و آرام کی جنتوں میں لے جاتے”۔(65)اور اگر یہ لوگ توریت و انجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے ان پر پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے۔ باقی ان میں کے اکثر لوگوں کے بڑے برے اعمال ہیں -” (5:65,66)

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِهِۦ هُم بِهِۦ يُؤْمِنُونَ ۝ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦٓ إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِۦ مُسْلِمِينَ ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا۟ وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

Quran 28:52-54 · 5.16.vi

جن کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عنایت فرمائی وہ تو اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب اس کی آیتیں ان کے پاس پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں۔ یہ اپنے کئے ہوئے صبر کے بدلے دوہرا اجر دیے جائیں گے یہ ان کی بدی کو ٹال دیتے ہیں اور ہم نے جو انھیں دے رکھا ہے اس میں سے دیتے رہتے ہیں۔ (28:52-54)

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًا وَكُفْرًا فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

Quran 5:68 · 5.16.vii

“کہہ دے کہ اے اہل کتاب تم دراصل کسی چیز پر نہیں ہو جب تک کہ توریت وانجیل پر اور جو کچھ تمہاری طرف رب کی طرف سے اتارا گیا ہے قائم نہ ہو جاؤ ۔ جو کچھ تیری جانب تیرے رب کی طرف سے اترا ہے وہ ان میں سے اکثر کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا ہی تو تو ان کافروں پر غمگین نہ ہو”۔ (5:68)

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمْ وَٱخْشَوْا۟ يَوْمًا لَّا يَجْزِى وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيْـًٔا إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ

Quran 31:33 · 5.16.viii

لوگو ! اپنے رب سے ڈرو اور حساب کے دن کا خوف رکھو : {31:33} “لوگو اپنے رب کا لحاظ رکھو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے والا ہوگا ،یاد رکھو اللہ کا وعدہ سچا ہے ،دیکھو تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز شیطان تمہیں دھوکے میں ڈال دے۔”

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِۦ جَهَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

Quran 4:115 · 5.16.ix

انسان کو ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہونا چاہتا ہے: (4:115) “جو شخص باوجود راہ ہدایت کی وضاحت ہو جانے کے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کرے اور تمام مؤمنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہواہے اور اسے دوزخ میں ڈال دیں گے، وہ بہت بری جگہ پہنچنے کی۔”

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِۦ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْتَنكَفُوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

Quran 4:173 · 5.16.x

“پس جو لوگ ایمان لاءے ہیں اور شائشتہ اعمال کئے ہیں ان کو ان کا پورا پورا ثواب عنایت فرمائے گا اور اپنے فضل سے انہیں اور زیادتی دے گا ، اور جن لوگوں نے ننگ و عار اور سرکشی کی اور انکار کیا انہیں المناک عذاب کرے لا اور وہ اپنے لئے سوائے خدا کے کوئی حمایتی (دوست اور مدد گار نہیں پا ئیں گے۔”

وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِى ٱلْأَرْضِ لَٱفْتَدَتْ بِهِۦ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ۝ أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَلَآ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۝ هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

Quran 10:54-56 · 5.16.xi

جو لوگ شرک کر کے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں، ان سے کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا “(10:54-56)اور اگر ہر ظلم کرنے والے انسان کے لئے وہ ہو جوروئے زمین پر ہے تو وہ سب اپنے فدیئے میں دیدیں، دل ہی دل میں پشیمان ہوں گے جب کہ عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، عدل کے ساتھ ان میں فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ ظلم نہ کئے جائیں گے۔خبر دار رہو، آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے،خبر دار رہو یقینا اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے لیکن ان میں سے اکثر بے علم ہیں۔ وہی جلاتا اور مارتا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤگے۔”

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ

Quran 68:4 · 5.18.i

” اور بے شک تو (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) بہت بڑے اخلاق پر ہیں ۔” {68:4}

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًا

Quran 33:40 · 5.18.ii

“محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ، لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں، یعنی اللہ تعالی آپ پر نبوت کا خاتمہ فرمادیا،”

وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَٰلَمِينَ

Quran 21:107 · 5.18.iii

“ اور ہم نے تجھے تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔” {21:107} ]آپ ؐ کو جہاں والوں کے لئے رحمت قرار دیا ہے کہ آپؐ کی وجہ سے یہ اُمت، بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کردی گئی جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی رہیں۔ امت محمدیہؐ( جو امت اجابت اور امتِ دعوت کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے ) پر اسطرح کا کلی عذاب نہیں آئیگا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے لئے بددعا نہ کرنا، یہ بھی آپؐ کی رحمت کا ایک حصہّ ہے۔ اسی طرح غصے میں کسی مسلمان کو لعنت نہ کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کا باعث قرار دینا آپ کی رحمت کا حصہّ ہے۔اسی لئے ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا ’’میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں جو اﷲ کی طرف سے اہلِ جہاں کے لئے ہدیہ ہے۔[

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَرْسَلْنَٰكَ شَٰهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ۝ وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذْنِهِۦ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا ۝ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًا

Quran 33:45-47 · 5.18.iv

“اے نبی یقینا ہم نے ہی تجھے گواہیاں دینے والا خوشخبریاں سنانے والا، آگاہ کرنےوالا اوراللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اورروشن چراغ، تو آپ مؤمنوں کو خوشخبری سنادیجئے کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا افضل ہے۔”{33:45-47)

هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

Quran 62:2 · 5.18.v

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھیجنے کا مقصد۔ (62:2)"وہی (اللہ) ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے، یقینا یہ اس سے پہلے گمراہی میں تھے۔

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا۟ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوًا وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ وَٱلْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِۦ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

Quran 2:231 · 5.18.vi

اللہ تعالی کا احسان انسانوں پر۔ (2:231) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور جو کچھ کتاب اور حکمت اس نے نازل فرمایا ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اور اللہ تعالی سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالی ہر چیز کو جانتا ہے۔

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرًا

Quran 33:21 · 5.18.vii

رسول اللہ میں عمدہ نمونہ: {33:21} “یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے ، ہر اس شخص کے لئے جسے اللہ تعالی سے ملاقات کایقین اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، اور جوبکثرت اللہ کو یاد کرتا ہو۔”

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ ٱلْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۝ مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥ وَمَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ

Quran 30:43,44 · 5.18.viii

اﷲ کا فرمان کہ رسول اﷲ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف رکھیں :پس تو اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھ اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس کی باز گشت) ٹل جانا (اللہ کی طرف سے ہے ہی نہیں ، اس دن سب متفرق ہوجائیں گے۔کفر کرنے والوں پر ان کا کفر ہوگا ،اور نیک عمل کرنے والے اپنی ہی آرام گاہ سنوار رہے ہیں۔(30:43,44)

أَوَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ

Quran 7:98 · 5.1.v

“یا ان شہریوں پر دن چڑھے ہمارے عذابوں کے آجانے سے یہ نڈر ہیں کہ اس وقت یہ اپنے کھیل کود میں مشغول ہوں؟”{7:98}

5.2 Attributes of Allah

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ۝ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ۝ هُوَ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْـَٔاخِرُ وَٱلظَّٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

Quran 57:1-3 · 5.2.i

“(57:1-6) “Whatever is in the heavens and the earth glorifies Allah --and He is the Almighty, All-Wise.(1) His is the kingdom of the heavens and the earth. It is He Who gives life and causes death; and He is Able to do all things. (2) He is Al-Awwal and Al-Akhir, Az-Zahir and Al-Batin. And He is the All-Knower of everything. (3)

وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦ وَٱلْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ مَطْوِيَّٰتٌۢ بِيَمِينِهِۦ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

Quran 39:67 · 5.2.ii

(39:67) “They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. And on the Day of Resurrection the whole of the earth will be grasped by His Hand and the heavens will be rolled up in His Right Hand. Glorified be He, and High be He above all that they associate as partners with Him! THE FAREWELL PILGRIMAGE “O people! Listen to what I say. I do not know whether I will ever meet you at this place once again after this current year.It is unlawful for you to shed the blood of one another or take (unlawfully) the fortunes of one another. They are as unlawful (Haram) as shedding blood on such a day as today and in such a month as this Haram month and in such a sanctified city as this sacred city. (i.e;Makkah and the surrounding areas).” “Behold! All practices of paganism and ignorance are now under my feet. The blood-revenge of the Days of Ignorance (pre-Islamic time) are remitted. The first claim on blood I abolish is that of Ibn Rabi’a bin Harith who was nursed in the tribe of Sa’d and whom Hudhail killed. Usury is forbidden, and I make a beginning by remitting the amount of interest which ‘Abbas bin “Abdul Mutalib has to receive. Verily, it is remitted entirely.” “O people! Fear Allah concerning women. Verily you have taken them on the security of Allah and have made their persons lawful unto you by Words of Allah! It is incumbent upon them to honour their conjugal right and, not to commit acts of impropriety which, if they do, you have authority to chastise them, yet not severely. If your wives refrain from impropriety and are faithful to you, clothe and feed them suitably.” “Verily, I have left amongst you the Book of Allah and the Sunnah (Tradition) of His Messenger which if you hold fast, you shall never go astray.” “O people, I am not succeeded by a Prophet and you are not succeeded by any nation. So I recommend you to worship your Lord, to pray the five prayers, to fast during Ramadan and to offer the Zakat (poor-due) of your provision willingly. I recommend you to do the pilgrimage to the Sacred House of your Lord and to obey those who are in charge of you then you will be awarded to enter the Paradise of your Lord.” “And if you were asked about me, what would you say?” They replied, “We bear witness that you have conveyed the message and discharged your ministry”. He (pbuh) then raised his forefinger skywards and then moved it down towards people while saying: ‘O Allah, Bear witness”, He said that phrase thrice. The one who repeated the Prophet’s statements loudly at Arafat was Rabi’a bin Omaiyah bin Khalaf. As soon as the Prophet (pbuh) had accomplished delivering the speech, the following Qur’anic verse was revealed to him:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحْمُ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلْمُنْخَنِقَةُ وَٱلْمَوْقُوذَةُ وَٱلْمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا۟ بِٱلْأَزْلَٰمِ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ٱلْيَوْمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًا فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِى مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Quran 5:3

(5:3) “This day, I have perfected your religion for you, completed My favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion.” At the daytime of the tenth of Dhul-Hijjah on the Slaughtering Day (Yaum An-Nahr) The prophet (pbuh) delivered another speech. That was in the morning, while he was mounting a grey mule. ‘Ali conveyed his statements to the people, who were standing or sitting. He repeated some of the statements that he had previously said the day before. The two Sheik (Bukhari and Muslim) reported a version narrated by Abi Bakrah who said: The Prophet (pbuh) made a speech on Yaum An-Nahr (day of slaughtering) and said: “Time has grown similar in form and state to the time when Allah created the heavens and the earth. A year is twelve months. Four of which are Sacred Month (Hurum). Three of the four months are successive.They are Dhul-Qa’dah,Dul-Hijjah, and Al-Muharram. The fourth Month is Rajab Mudar, which comes between Jumada and Sha’ ban”. “What month is this month?” He asked. We said: “Allah and His Messenger know best of all”. He kept silent for a while till we thought he would attach to it a different appellation. “Is it not Dhul-Hijjah?” He wondered. “Yes It is.” We said. Then he asked, “What is this town called?”We said:“Allah and His Messenger know best of all”. He (pbuh) was silent for a while till we thought he would give it a different name. “Is it not Al Baldah? (i.e., the town)” asked he. “Yes, It is”, we replied. Then he (pbuh) asked again, “What day is it today?” We replied: “Allah and His Messenger know best of all. “Then he (pbuh) kept silent for a while and said wondering; “Is it not ‘ An-Nahr’ (i.e. slaughtering Day?)” “Yes, it is” said we. Then he said: “(Shedding) the blood of one another and eating or taking one another’s provisions (unwillingly), and your honour are all inviolable (Haram). It is unlawful to violate their holiness. They must be as sacred to one another as this sacred day, in this sacred month, in this sacred town.” “You will go back to be resurrected (after death) to your Lord. There you will be accounted for your deeds. So do not turn into people who go astray and kill one another.” “Have I not delivered the Message (of my Lord)?” “Yes you have” said they.“O Allah! Bear witness! Let him that is present convey it unto him who is absent. For haply, many people to whom the Message is conveyed may be more mindful of it than the audience”. Said he (pbuh). In another version it is said that the Prophet (pbuh) had said in that very speech: “He whoever plunges into misfortune will certainly aggrieve himself. So let no one of you inflict an evil upon his parents. Verily Satan has utterly despaired being worshipped in this country of yours; but he will be obeyed at your committing trivial things you disdain. Satan will be contented with such things.” ***

5.4 ہر جاندار کی موت یقینی ہے۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ وَنَبْلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ

Quran 21:35 · 5.4.i

Every soul shall have the taste of death. (21:35) “Everyone is going to taste death, and We shall test you with evil and with good by way of trial. And to Us you will be returned.”

أَفَعَيِينَا بِٱلْخَلْقِ ٱلْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِى لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ ۝ وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِۦ نَفْسُهُۥ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ ۝ إِذْ يَتَلَقَّى ٱلْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ ٱلْيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ قَعِيدٌ ۝ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ

Quran 50:15-18 · 5.4.ii

“پس ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم خوب واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔(16)جس وقت کہ وہ لینے والے لینے جاتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔ (17) انسان کوئی لفظ منہ سے نکالنے نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے”۔ (50:16-18)

5.5 جانکنی ، موت، قبر اور عالم برزخ :

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ وَنَبْلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ

Quran 21:35 · 5.5.i

Every soul shall have the taste of death. (21:35) “Everyone is going to taste death, and We shall test you with evil and with good by way of trial. And to Us you will be returned.”

وَجَآءَتْ سَكْرَةُ ٱلْمَوْتِ بِٱلْحَقِّ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ

Quran 50:19 · 5.5.ii

(50:19) “And the stupor of death will come in truth.”

فَلَوْلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلْحُلْقُومَ ۝ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ ۝ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ۝ فَلَوْلَآ إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ۝ تَرْجِعُونَهَآ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

Quran 56:83-87 · 5.5.iii

The condition of a dying person.(56:83-87) Then why do you not (intervene) when it reaches Al- Hulqum, (83)And you at the moment are looking.(84) But We are nearer to him than you, but you see not.(85) Then why do you not- if you are not Madinin?(86) Return the soul, if you are truthful? [the throat, at the time of death; "If you do not believe that you will be reckoned, recompensed, resurrected and punished, then why do you not return this soul to its body.'']

ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ

Quran 80:21 · 5.5.iv

The instruction of burial in the grave after death. (80:21) “Then He causes him to die and puts him in his grave.”

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ أَلْهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ ۝ حَتَّىٰ زُرْتُمُ ٱلْمَقَابِرَ ۝ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ۝ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ

Quran 102:1-4 · 5.5.v

The passion for worldly things.(102:1-4) “The mutual increase diverts you,(l) Until you visit the graves.(2) Nay! You shall come to Know? (3) Again nay! You shall come to know!”

لَعَلِّىٓ أَعْمَلُ صَٰلِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّآ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا وَمِن وَرَآئِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

Quran 23:100 · 5.5.vi

Condition after death. (23:100) “And in front of them is Barzakh until the Day when they will be resurrected.”

5.6 قیامت کا آنا یقینی ہے۔

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثًا

Quran 4:87 · 5.6.i

There is no doubt about the Day of Resurrection.(4:87) “Allah! None has the right to be worshipped but He. Surely, He will gather you together on the Day of Resurrection about which there is no doubt. And who is truer in statement than Allah.”

وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَآ أَمْرُ ٱلسَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ ٱلْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Quran 16:77 · 5.6.ii

قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے اس کے حکم "کن " سے قیامت قائم ہو جائےگی: {16:77}”آسمان وزمین کا علم صرف اللہ ہی کومعلوم ہے قیامت کا امر تو ایساہی ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے”۔

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً يَسْـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 7:187 · 5.6.iii

قیا When will the Day of Judgement come? (7:187) “They ask you about the Hour (Day of Res-rection): "When will be its appointed time!" Say: "The knowledge thereof is with my Lord (Alone). None can reveal its time but He. Heavy is its burden through the heavens and the earth. It shall not come upon you except all of a sudden." They ask you as if you have a good knowledge of it. Say: "The knowledge thereof is with Allah (Alone), but most of mankind know not.''”

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ ٱلسَّاعَةِ شَىْءٌ عَظِيمٌ ۝ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى ٱلنَّاسَ سُكَٰرَىٰ وَمَا هُم بِسُكَٰرَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ ٱللَّهِ شَدِيدٌ

Quran 22:1,2 · 5.6.iv

The first earthquake of the judgment day.(22:1,2)“O mankind! Have Taqwa (Fear) of your Lord! Verily, the earthquake of the Hour is a terrible thing.(l) The Day you shall see it, every nursing mother will forget her nursling, and every pregnant one will drop her load, and you shall see mankind as in a drunken state, yet they will not be drunk, but Allah’s torment is severe.” .(2)

وَيَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَٰخِرِينَ

Quran 27:87 · 5.6.v

When the horn will be blown! (27:87) “And (remember) the Day on which the Trumpet (Sur) will be blown and all who are in the heavens and all who are on the earth, will be terrified except him whom Allah wills. And all shall come to Him humbled.”

يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا

Quran 78:18 · 5.6.vi

The day the horn will be blown on. (78:18) “The Day when the Trumpet will be blown, and you shall come forth in crowds.”

وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ ذَٰلِكَ يَوْمُ ٱلْوَعِيدِ ۝ وَجَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَشَهِيدٌ ۝ لَّقَدْ كُنتَ فِى غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ ٱلْيَوْمَ حَدِيدٌ ۝ وَقَالَ قَرِينُهُۥ هَٰذَا مَا لَدَىَّ عَتِيدٌ ۝ أَلْقِيَا فِى جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ ۝ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ ۝ ٱلَّذِى جَعَلَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِى ٱلْعَذَابِ ٱلشَّدِيدِ

Quran 50:20-26 · 5.6.vii

{{50:20-26 (50:20-26) “This is what you have been avoiding!'' And every person will come forth along witha Sa'iq and a Shahid. (20) (It will be said to the sinners): "Indeed you were heedless of this. (21) Now We have removed from you, your covering, and sharp is your sight this Day!''”(22) “And his companion (angel) will say: "Here is (his record) ready with me!'' (23) (Allah will say to the angels:) "Both of you throw into Hell every stubborn disbeliever.'' (24) "Hinderer of good, transgressor, doubter,'' (25) "Who set up another god with Allah. Then both of you cast him in the severe torment.''

5.7 میدانِ حشر

يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ

Quran 14:48 · 5.7.i

The field of Doomsday.(14:48) “On the Day when the earth will be changed to another earth so will be the heavens, and they (all creatures) will appear before Allah, the One, the Irresistible.”

وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ ۝ سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ ۝ لِيَجْزِىَ ٱللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

Quran 14:49–51 · 5.7.iii

The sinners will be driven towards hell, their Destination. (14:49–51) Andyou will see the criminals that Day, Muqarranun (bound together) in fetters.(49) Their garments will be of Qatiran (tar), and fire will cover their faces.(50) That Allah may requite each person according to what he has earned.Truly, Allah is swift at reckoning.”(51)

يَوْمَ تَرَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَٰنِهِم بُشْرَىٰكُمُ ٱلْيَوْمَ جَنَّٰتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

Quran 57:12 · 5.7.v

Light of their faith will guide them through the darkness of Doomsday. (57:12) “On the Day you shall see the believing men and the believing women- their light running forward before them and in their right hands. Glad tidings for you this Day! Gardens under which rivers flow (Paradise), to dwell therein forever: Truly, this is the great success!”

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ تُوبُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ يَوْمَ لَا يُخْزِى ٱللَّهُ ٱلنَّبِىَّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَٰنِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَٱغْفِرْ لَنَآ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Quran 66:8 · 5.7.vi

Believers will pray to Allah, for complete bliss of Allah.(66:8) "Our Lord! Keep perfect our light for us and grant us forgiveness. Verily, You are Able to do all things."

يَوْمَ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱنظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ٱرْجِعُوا۟ وَرَآءَكُمْ فَٱلْتَمِسُوا۟ نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُۥ بَابٌۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحْمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلْعَذَابُ ۝ يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَٱرْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ ٱلْأَمَانِىُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمْرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ

Quran 57:13,14 · 5.7.vii

On the Doomsday hypocrites will be told to go back to their worldly life- if they can, to seek God’s mercy. (57:13,14) “On the Day when the hypocrites’ men and women will say to the believers: "Wait for us: Let us get something from your light!" It will be said: "Go back to your rear! Then seek a light!" So, a wall will be put up between them, with a gate therein. Inside it will be mercy, and outside it will be torment. (13) (The hypocrites) will call the believers: "Were we not with you?" The believers will reply: "Yes! But you led yourselves into temptations, you lookesd forward to our destruction; and you doubted, and you were deceived by false hopes, till the command of Allah came to pass. And the deceiver deceived you in regard to Allah." Saying of the Prophet(pbuh) On the day of Judgment the believers will have Light (of faith) before them: ‘Who will be under the shade of Arsh (the throne of God ) on the day of judgment?’ The Prophet (pbuh) Said, “Allah will provide shelter to seven types of people on the Day of Judgment and on the day there will be no shelter except the shade of the “Arsh.’ Those seven types of people are as follows: 1.Just king, or any head of the State who rules with Justice. 2.The youth who spends his life in Allah’s devotion. 3.The man who remembers Allah in his seclusion, and tears roll down his eyes, out of Allah’s love or fear. 4.The man whose heart is always in the mosque, prays (salat) in congregation and when he leaves the mosque, eagerly awaits for the next salat. 5.Those who love each other for Allah’s sake, and part with each other for Allah’s sake. 6.The man who rejects the invitation of a beautiful young woman because of Allah’s fear. 7.The man who spends for the love of Allah secretly, so that his left hand knows not what his right hand has given. “On the Day of Judgment, the sun will come down closer to a mile’s distance, and the people will suffer from the scorching heat and perspiration. At that time, there will be no shelter except the shade of ‘Arsh’ of God: the merciful Lord will then protect the faithful and elevate those in respect”.

فِى جَنَّٰتٍ يَتَسَآءَلُونَ ۝ عَنِ ٱلْمُجْرِمِينَ ۝ مَا سَلَكَكُمْ فِى سَقَرَ ۝ قَالُوا۟ لَمْ نَكُ مِنَ ٱلْمُصَلِّينَ ۝ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ ٱلْمِسْكِينَ ۝ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلْخَآئِضِينَ ۝ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ۝ حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلْيَقِينُ

Quran 74:40-47 · 5.7.iv

The destiny of those who did not pray or did not feed the indigent.(74:40-47) In Gardens they will ask one another,(40) About criminals (and they will say to them): (41) "What has caused you to enter Hell." (42) They will say: "We were not to those who used to offer the Salah." (43) "Nor did we feed the poor,"(44) And we used to speak falsehood with Vain speakers." (45) And we used to deny the Day of Recompense," (46) "Until Al-Yaqin (the certainty) came to us." (47)

5.8 میدان حشر میں حساب کتا ب:

هَٰذَا كِتَٰبُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِٱلْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

Quran 45:29 · 5.8.i

نامۂ اعمال میں ہر لمحہ اعمال لکھے جا رہے ہیں: “یہ ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے تھے۔”{45:29} ] اس کتاب سے مراد‘ وہ رجسٹر ہیں جن میں انسان کے تمام اعمال درج ہوں گے۔ (الزمر۔69) ’’اعمال نامے سامنے لائے جائیں گے ‘ نبیوں اور شهداء کو گواہی کے لئے پیش کیا جائے گا ۔‘‘ یہ اعمال نامے انسانی زندگی کے ایسے مکمل ریکارڈ ہوں گے جن میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوگی انسان انکو دیکھ کر پکار اُٹھے گا ۔’’یہ کیسا اعمال نامہ ہے جس نے چھوٹی بڑی چیز کسی کو بھی نہیں چھوڑا‘ سب کچھ ہی تو اس میں درج ہے‘‘(الکہف:49) یعنی ہمارے علم کے علاوہ فرشتے بھی ہمارے حکم سے تمہاری ہر چیز نوٹ کرتے ہیں اور محفوظ رکھتے ہیں۔[

وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَٰفِظِينَ ۝ كِرَامًا كَٰتِبِينَ ۝ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ

Quran 82:10-12 · 5.8.ii

معزز نگران فرشتے کراماً کاتبین : “یقیناً تم پر نگہبان(10)بزرگ لکھنے والے مقرر ہیں(11)جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں۔”(82:10-12)

· 5.8.iii

45: 28}} آخرت کی پیشی اور نامۂ اعمال کی تقسیم “تو دیکھے گا کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج تمہیں اپنے کئے کا بدلہ دیا جائے گا۔”

وَنَضَعُ ٱلْمَوَٰزِينَ ٱلْقِسْطَ لِيَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَٰسِبِينَ

Quran 21:47 · 5.8.iv

قیامت کے دن ترازو لائی جائے گی: {21:47} “ہم درمیان میں لا رکھیں گے عدل کے ترازو کو۔ قیامت کے دن ـ پھر کسی پر کچھ ظلم بھی نہ کیا جائے گا، ایک رائی کے دانے کے برابر جو عمل ہوگا، ہم اسے لا حاضر کریں گے۔اور هم حساب كرنےكو كافى ہیں-”

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُۥ ۝ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُۥ

Quran 99:7,8 · 5.8.v

ذرہ برابر نیکی۔ ذرہ برابر بدی بھی تولی جائے گی : “پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا(7)اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا-“

فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

Quran 23:102 · 5.8.vi

جن کے پلڑے (نیکیوں سے) بھاری ہوں گے : “جن کی ترازو کا پلہ (نیکیوں سے)بھاری ہوگیا، وہ تو نجات والے ہوگئے۔”

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فِى جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ

Quran 23:103 · 5.8.vii

جن کے پلڑے (نیکیوں)ہلکے ہونگے: {23:103} “اور جن کی نیکیوں کا پلہ ہلکا ہوگیا، یہ ہیں وہ جنہوں نے اپنا نقصان آ پ کرلیا جو ہمیشہ کے لئے جہنم واصل ہوئے”

فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ ۝ فَهُوَ فِى عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ

Quran 101:6,7 · 5.8.viii

بھاری پلڑے والے جنتی ہوں گے: {101:6,7} “ہاں جس کا پلہ(نیکیوں سے) بھاری ہوگیا۔وہ تو من مانتی آرام کی زندگی میں ہوگا۔”

وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ ۝ فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٌ ۝ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا هِيَهْ ۝ نَارٌ حَامِيَةٌۢ

Quran 101:8-11 · 5.8.ix

ہلکے پلڑے والے دوزخی ہوں گے: “ اور جس کی تول (نیکیوں سے)ہلکی ہوگی۔ اس کی ماں ہاویہ ہے۔ تجھے کس نے بتایا کہ وہ کیا ہے؟۔ وہ تیز تند آگ ہے۔”(101:8-11)

5.9 نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ؟

وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ

Quran 14:34 · 5.9.i

اللہ کی نعمتوں کو گن نہیں سکتے: {14:34} “اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے ، اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے ،) یقیناً انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے(۔”

ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ

Quran 102:8 · 5.9.ii

“پھر اس دن تم سے ضرور ضرور نعمتوں کا سوال ہوگا۔ ”

لِلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِرَبِّهِمُ ٱلْحُسْنَىٰ وَٱلَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُۥ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفْتَدَوْا۟ بِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ سُوٓءُ ٱلْحِسَابِ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

Quran 13:18 · 5.9.iii

اﷲ کا حکم ماننے والوں کیلئے بھلائی: {13:18} “جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔”

لِلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِرَبِّهِمُ ٱلْحُسْنَىٰ وَٱلَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُۥ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفْتَدَوْا۟ بِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ سُوٓءُ ٱلْحِسَابِ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

Quran 13:18 · 5.9.iv

حساب سُوء : بھاری حساب :) (13:18 “اور جن لوگوں نے اس کے حکم برداری نہ کی، اگر ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے، سب کچھ ہو اور اسی کے ساتھ ویسا ہی اور بھی ہو، تو وہ سب کچھ اپنے بدلے میں دے دیں ، یہی ہیں جن کے لئے حساب کی سختی ہے اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے۔”

· 5.9.v

{{36:65 ہاتھ اور پاؤں کی گواہی {{36:65 “ ہم آج ان کے منہ پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جنہیں وہ کرتے تھے۔” ]یہ مہر لگانے کی ضرورت اس لئے پیش آئے گی کہ ابتداء مشرکین قیامت والے دن بھی جھوٹ بولیں گے اور کہیں گے۔ (الانعام 23) ’’اللہ کی قسم‘ جو ہمارا رب ہے‘ ہم مشرک نہیں تھے۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگادے گا۔ جس سے وہ خود تو بولنے کی طاقت سے محروم ہوجائیں گے البتہ اللہ تعالیٰ اعضائے انسانی کو قوت گویائی عطا فرمادے گا ہاتھ بولیں گے کہ ہم سے اس نے فلاں فلاں کام لیا تھا۔ اور پاؤں اس پر گواہی دیں گے۔ یوں گویا اقرار اور شہادت دونوںمرحلے طے ہوجائیں گے۔(صحیح مسلم)[

وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَآءُ ٱللَّهِ إِلَى ٱلنَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ۝ حَتَّىٰٓ إِذَا مَا جَآءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَٰرُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

Quran 41:19,20 · 5.9.vi

قیامت کے دن ۔ کان ۔ آنکھ جسم کی کھالیں گواہی دیں گے : {41:19,20} “اور جس دن دشمنان رب دوزخ کی طرف لائے جائیں گے اور ان سب کو جمع کر دیا جائے گایہاں تک کہ جب بالکل جہنم کے پاس آجائیں گے ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔”

يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ۝ بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا

Quran 99:4,5 · 5.9.vii

زمین کی گواہی : {99:4,5} “اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی(4)اس لئے کہ تیرے رب نے اسے یہ حکم دیا ہے ۔(5)”

· 5.9.viii

{{75:36 کان آنکھ دل سے بھی باز پرس ہوگی : {{75:36 “کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا"۔ ] یعنی جس چیز کے پیچھے تم پڑو گے اس کے متعلق کان سے سوال ہوگا کہ کیا اس نے سنا تھا، آنکھ سے سوال ہوگا کہ کیا اس نے دیکھا تھا اور دل سے سوال ہوگا کیا اس نے جانا تھا؟ کیوں کہ یہی تینوں علم کا ذریعہ ہیں۔ یعنی ان اعضاء کو اﷲ تعالیٰ قیامت والے دن قوت گویائی عطا فرمائے گا اور ان سے پوچھاجائے گا۔[

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًا

Quran 17:36 · 5.9.ix

حساب یسر: ہلکا حساب : {17:36} “جس بات کی تمہیں خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے”۔ ]حدیث شریف: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نماز میں یہ کہتے سنا کہ اَللّهم حَاسِبْنِی حِسَاباً یَسِیْراً ( ترجمہ) اے اللہ مجھ سے میرے اعمال کا آسان حساب لے۔ میں نے پوچھا۔ اے اللہ کے نبی ؐ ! آسان حساب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ بندہ کو اسکے اعمال نامه دکھایا جائے گا (یعنی اسکا گناہ) پھر معاف کردیا جائے گا۔ اے عائشہؓ اس روز جس سے حساب کی پوری جانچ ہوگی اور پورا پورا حساب لیا جائے گا وہ ہلاک ہوا (احمد)[

5.11 جنت كا راسته (پل صراط)

وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ۝ ثُمَّ نُنَجِّى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ وَّنَذَرُ ٱلظَّٰلِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا

Quran 19:71,72 · 5.11.i

پُل صراط جہنم کے اوپر راستہ ہے جنت تک پہنچنے کا: {19:71,72} “تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، طے شدہ امر ہے، پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچا لیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے ۔” ” ]اسکی تفسیر صحیح احادیث میں اسطرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر پل بنایا جائے گا ۔ جس میں سے ہر مؤمن وکافر کو گذرنا ہوگا۔ مؤمن تو اپنے اپنے اعمال کے مطابق جلد یا بہ دیر گذرجائیں گے کچھ تو پلك جھپکتے میں ۔ کچھ بجلی اور ہوا کی طرح ۔ کچھ پرندوں کی طرح اور کچھ عمدہ گھوڑوں اور دیگر سواریوں کی طرح گذرجائیں گے یوں کچھ بالکل صحیح سالم۔ کچھ زخمی تاہم پل عبور کرلیں گے کچھ جہنم میں گرپڑیں گے جنھیں بعد میں شفاعت کے ذریعے سے نکال لیا جائے گا ۔ لیکن کافر اس پل کو عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے اور سب جہنم میں گرپڑیں گے۔ (البخاری۔ کتاب الجنائز ومسلم کتاب البر) پل صراط ایک راستہ ہوگا جو جہنم کے اوپر سے ہوکر گذرے گا اور ہر انسان کو لازماً اسکے اوپر سے گذرنا ہوگا۔ چاہے وہ نیک ہو یا بد۔قیامت کے روز سب لوگ پل صراط پر ہوں گے۔

5.12 جنت اور جہنم : نیکوکار کے لئے جنت اور گنہگاروں کے لئے جہنم

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ جَنَّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ نِعْمَ ٱلثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا

Quran 18:30,31

“یقیناً جو لوگ ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں تو ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ثواب ضائع نہیں کرتے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، ان کے نیچے نہریں جاری ہونگی، وہاں یہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز رنگ کے نرم اور باریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں گے وہاں تختوں کے اوپر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔ کیا خوب بدلہ ہے، اور کس قدر عمدہ آرام گاہ ہے۔”

إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ۝ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ ٱللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ۝ يُوفُونَ بِٱلنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُۥ مُسْتَطِيرًا ۝ وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ۝ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَآءً وَلَا شُكُورًا ۝ إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا ۝ فَوَقَىٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمِ وَلَقَّىٰهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا ۝ وَجَزَىٰهُم بِمَا صَبَرُوا۟ جَنَّةً وَحَرِيرًا ۝ مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا ۝ وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَٰلُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا ۝ وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِـَٔانِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا۠ ۝ قَوَارِيرَا۟ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا ۝ وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا ۝ عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا ۝ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَٰنٌ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا ۝ وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا ۝ عَٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ وَحُلُّوٓا۟ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَىٰهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا ۝ إِنَّ هَٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا

Quran 76:5-22

“بیشک نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس کی ملونی کافور کی ہے۔(5) جو ایک چشمہ ہے جس سےاللہ کےبندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لی جائیں گی (جدھر چاہیں (6)جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چو طرف پھیل جانے والی ہے (7) اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین یتیم اور قیدیوں کو(8) ہم تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری(9) بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو تنگی اور سختی والا ہوگا پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی(11) اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے(12)یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں نہ جاڑے کی سختی(13) ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہونگے اور ان کے میوے اور گچھے نیچے لٹکے ہوئے ہونگے(14) اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا جو شیشے کے ہونگے(15)شیشے بھی چاندی کے جن کو ساقی نے اندازے سے ناپ رکھا ہے(16)اور انہیں وہاں جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہوگی(17) جنت کی ایک نہر جس کا نام سلسبیل ہے(18) اور ان کے ارد گرد گھو متے پھرتے ہیں وہ کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں ، جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے سچے موتی ہیں (19)تو وہاں یہاں کہیں بھی نظر ڈال سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا(20)ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے، اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا ، اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا(21)یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوششوں کی قدر دانی۔”(76:5-22)

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

Quran 7:42

ایمان والوں پر اﷲ کا انعام : {7:42} “جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے نیک اعمال کئے نا ممکن ہے کہ ہماری طرف سے کسی پر وہ بوجھ ڈالا جائے جس کا وہ متحمل نہ ہوسکے ، یہ لوگ جنتی ہیں اور یہ وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔”

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلَآ أَنْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ وَنُودُوٓا۟ أَن تِلْكُمُ ٱلْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

Quran 7:43

جنت میں داخل ہونیوالوں کا ترانہ : “ان کے سینوں میں جو کینہ تھا، ہم نے سب نکال دیا، ان کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، یہ کہیں گے کہ مکمل تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی ، ہم تو اس کی راہ پاہی نہ سکتے تھے اگر اللہ تعالی ہماری رہبری نہ کرتا یقینا ہمارے پاس رب کے رسول حق لائے ، منادی کی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنے کئے ہوئے اعمال کے وارث بنا دیئے گئے ہو ۔”

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ ۝ ٱلَّذِى جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُۥ ۝ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخْلَدَهُۥ ۝ كَلَّا لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلْحُطَمَةِ ۝ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحُطَمَةُ ۝ نَارُ ٱللَّهِ ٱلْمُوقَدَةُ ۝ ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ ۝ إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ ۝ فِى عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍۭ

Quran 104:1-9

جہنم کی ہولناکیاں:عیب ٹٹولنے والوں اور مال جمع کر کے گنتے جانے والوں کے لئے: (104:1-9) “بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے والا غیبت کرنے والا ہو(1)جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے(2) سمجھے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ کی زندگی دے دے گا(3)نہیں نہیں یہ تو توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا (4)تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہے؟(5)یہ اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہے(6)جو دلوں پر چڑھتے چلی جاتی ہے(7)جو ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہے(8) بڑے بڑے لمبے ستونوں میں۔”(9)

إِنَّهُۥ مَن يَأْتِ رَبَّهُۥ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُۥ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ

Quran 20:74

جہنم میں نہ موت ہوگی نہ زندگی: {20:74} “بات یہی ہے کہ جو بھی گناہ گار بن کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوگا، اس کے لئے دوزخ ہے، جہاں نہ موت ہوگی اور نہ زندگی۔”

وَمَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِهِۦ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَٰهُمْ سَعِيرًا

Quran 17:97

جہنم کی آگ کبھی نہ بجھے گی : “اللہ جس کی رہنمائی کرے، وہ تو راہ یاب ہے، اور جسے وہ راہ سے کھو دے،ناممکن ہے کہ تو اس کا رفیق اس کے سوا کسی اور کو پالے، ایسے لوگوں کا ہم بروز قیامت اوندھے منہ حشر کریں گے دراں حالیکہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہونگے ، ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا، جب کبھی وہ ہلکی ہونے لگے گی، ہم ان پر اسے اور بھڑکا دیں گے-“

إِذَآ أُلْقُوا۟ فِيهَا سَمِعُوا۟ لَهَا شَهِيقًا وَهِىَ تَفُورُ ۝ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ ٱلْغَيْظِ كُلَّمَآ أُلْقِىَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَآ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ

Quran 67:7,8

جہنم غصے سے پھٹی پڑتی ہوگی: “اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لئے جہنم کا عذاب ہے جو بری جگہ ہے(7)جب اس میں یہ ڈالے جائیں گے تو اس کی گدہے کی سی آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔قریب ہے کہ غصے کے مارے پھٹ جائے ، جب کبھی اس میں کوئی گروہ ڈالا جاتا ہے اس سے جہنم کے داروغے پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والا کوئی نہیں آیا ۔”

كَلَّآ إِنَّهَا لَظَىٰ ۝ نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ

Quran 70:15,16

کھال اُدھیڑ ڈالے گی: “مگر یہ ہرگز نہ ہوگا، یقیناً وہ شعلہ والی آگ ہے ۔ جو منہ اور سر کی کھال کھینچ لانے والی ہے ۔(70:15,16)

مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ فِيهَآ أَنْهَٰرٌ مِّن مَّآءٍ غَيْرِ ءَاسِنٍ وَأَنْهَٰرٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُۥ وَأَنْهَٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّٰرِبِينَ وَأَنْهَٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَٰلِدٌ فِى ٱلنَّارِ وَسُقُوا۟ مَآءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَآءَهُمْ

Quran 47:15

کھولتا پانی جو آنتوں کو کاٹ ڈالے گا : {47:15}“جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی-”

وَقُلِ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَآءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَآءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّآ أَعْتَدْنَا لِلظَّٰلِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِن يَسْتَغِيثُوا۟ يُغَاثُوا۟ بِمَآءٍ كَٱلْمُهْلِ يَشْوِى ٱلْوُجُوهَ بِئْسَ ٱلشَّرَابُ وَسَآءَتْ مُرْتَفَقًا

Quran 18:29

پگھلتی دھات جو منہ کو بھون ڈالے گی: {18:29} “اعلان کر دے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ ظالموں کے لئے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کے شعلے انہیں گھیر لیں گے ۔ اگر وہ فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے جیسا ہوگا ، جو تیرے جو چہرے بھون دے گا، بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی بری آرام گاہ (دوزخ) ہے۔”

مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٍ صَدِيدٍ ۝ يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأْتِيهِ ٱلْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٌ

Quran 14:16,17

کچ لہو، جو حلق سے نہ اُترے گا : {14:16,17} “اس کے سامنے دوزخ ہے جہاں پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ جسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پئے گا(16)پھر بھی اسے گلے سے اتار نہ سکے گا ہر جگہ سے موت آتی دکھائی دے گی لیکن وہ مرنے والا نہیں ، پھر اس کے پیچھے بھی سخت عذاب ہے۔ (17)

لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ ۝ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِن جُوعٍ

Quran 88:6,7

خاردار جھاڑی کی غذا : {88:6,7} “ان کے لئے سوائے کانٹوں دار درخت کے اور کچھ کھانا نہ ہوگاجو نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے۔”

هَٰذَانِ خَصْمَانِ ٱخْتَصَمُوا۟ فِى رَبِّهِمْ فَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ ٱلْحَمِيمُ ۝ يُصْهَرُ بِهِۦ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَٱلْجُلُودُ ۝ وَلَهُم مَّقَٰمِعُ مِنْ حَدِيدٍ ۝ كُلَّمَآ أَرَادُوٓا۟ أَن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا۟ فِيهَا وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

Quran 22:19-22

آگ کے کپڑے : {22:19-22} “یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے والے ہیں، پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے بیونت کر کے کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں کے اوپر سے سخت گرم پانی کا تریڑا بہایا جائے گا۔ جس سےان کےپیٹ کی سب چیزیں اور کھالیں گلادی جائیں گی، اور ان کی سزا کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہیں، یہ جب بھی وہاں سے وہاں کے غم سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے، وہیں لوٹا دیئے جائیں گے کہ جلنے کا عذاب چکھتے رہو۔ ”

5.13 اللہ تعالی قادر مطلق ہے ، ہر ایک کی آزمائش کے بعد انصاف سے فیصلہ کرتا ہے، یہی اللہ کا طریقہ ہے جو بدلا نہیں کرتا-

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ تَبَٰرَكَ ٱلَّذِى بِيَدِهِ ٱلْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Quran 67:1 · 5.13.i

اللہ کل کائنات کا مالک ہے: {67: 1} “بہت بابرکت ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہرچیز پر قدرت رکھ والا ہے۔”

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ۝ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ۝ هُوَ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْـَٔاخِرُ وَٱلظَّٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

Quran 57:1-3 · 5.13.ii

آسمانوں اور زمینوں میں جو ہے سب اللہ کی تسبیح کر رہا ہے وہ زبر دست با حکمت ہے ۔ (1) آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی اور وہ ہر ہر چیز پر قادر ہے۔(2) وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی اور وہ ہر چیز کو بخوبی جانے والا ہے۔ {57:1-3}

وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ ٱلرِّيَٰحُ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ مُّقْتَدِرًا

Quran 18:45

دنیا کی حقیقت : {18:45} “ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کر جیسے کہ پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اور اس سے زمین کو روئیدگی ملتی ہے ، پھر آخرکار وہ چورا چورا ہو جاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں، اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے ۔”

وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَلَلدَّارُ ٱلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

Quran 6:32

“دنیا کی زندگی تو صرف ایک کھیل تماشا ہے، ہاں بیشک پرہیزگاروں کے لئے آخرت کا گھر بہت ہی بہتر ہے ، کیا تم لوگ عقل ہی نہیں رکھتے۔ ”(6:32)

ٱلْمَالُ وَٱلْبَنُونَ زِينَةُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱلْبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّٰلِحَٰتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا

Quran 18:46

مال اور اولاد تو دنیا کی زینت ہے “مال و اولاد تو دنیا کی زینت ہے ، ہاں البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ثواب اور آئندہ کی اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں۔”

وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَأَوْلَٰدُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌ

Quran 8:28

مال اور اولاد فتنہ ہے : (8:28) “ اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں فتنہ ہیں اور یہ بھی جان لو کہ اللہ تعالی ہی کے پاس بہت بڑا ثواب اور اجر ہے۔” ]پھر فرماتا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو؟ یا ان میں مشغول ہو کر ، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے ۔ اس کا ارشاد ہے کہ مسلمانو ںمال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا ۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں اور آیت میں ہے کہ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا ۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بےنفع ہوتے ہیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف و مالک ہے ، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں ، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا ، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے ، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں ۔صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی -1-جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو ،-2 جو محض اللہ کے لئے دوستی رکھتا ہو اور -3جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنا معلوم ہوتا ہو۔ بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا’ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں’ ۔[

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمْ وَٱخْشَوْا۟ يَوْمًا لَّا يَجْزِى وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيْـًٔا إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ

Quran 31:33

دنیا کی زندگی کا دھوکہ: “یاد رکھو اللہ کا وعدہ سچا ہے ،دیکھو تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز شیطان تمہیں دھوکے میں ڈال دے۔”(31:33)

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَٰلُكُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

Quran 63:9

“ اے مسلمانو! تمہارے مال اور اولاد تمہیں اﷲ کے ذکر سے غافل نہ کردیں (63:9) : “اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے جو ایسا کریں وہ بڑے ہی زیاں کار ہیں۔”

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ ٱللَّهَ مَآ أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ

Quran 66:6

آگ سے بچاؤ اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو {66:6} : “اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر، ] جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔[”

مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصْلَىٰهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا ۝ وَمَنْ أَرَادَ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَٰٓئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا

Quran 17:18,19

دنیا و آخرت کا طلبگار : (17:18,19) “جس کا ارادہ صرف اس جلدی والی دنیا کا ہو، اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں بالآخر اس کے لئے ہم جہنم مقرر کر دیتے ہیں، جہاں وہ برے حالوں میں دھتکارا ہوا داخل ہوگا ۔ (18)اور جس کا ارادہ آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہئے، وہ کرتا بھی ہو اور وہ با ایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدر دانی کی جائے گی۔(19) ”

مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلْـَٔاخِرَةِ نَزِدْ لَهُۥ فِى حَرْثِهِۦ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَا لَهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ

Quran 42:20

دنیا کے طلبگار : (42:20) “جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے ہی کچھ دے دیں گے ، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔”] جو شخص دنیا میں اپنے اعمال و محنت کے ذریعے سے آخرت کے اجرو ثواب کا طالب ہے تو اﷲ تعالیٰ اسکی آخرت کی کھیتی میں اضافہ فرمائیگا کہ ایک نیکی کا اجر دس گناسے لیکر سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک بھی عطا کردیگا۔ طالب دنیا کو دنیا تو ملتی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی وہ چاہتا ہے بلکہ اتنی ہی ملتی ہے جتنی اﷲ کی مشیت اور تقدیر کے مطابق ہوتی ہے۔ دنیا تو اﷲ تعالیٰ ہر ایک کو اتنی ضرور دیتا ہے جتنی اس نے لکھدی ہے، کیوں کہ وہ سب کی روزی کا ذمہ لئے ہوئے ہے۔ طالب دنیا کو بھی اور طالب آخرت کو بھی۔ تاہم جو طالب آخرت ہوگا یعنی آخرت کے لئے کسب و محنت کرے گا تو قیامت والے دن اﷲ تعالیٰ اسے اَضْغافاً مُّضاَعَفَةًاجر و ثواب عطا فرمائیگا۔ جب کہ طالب دنیا کے لئے آخرت میں سوائے جہنم کے عذاب کے کچھ نہیں ہوگا۔ اب یہ انسان کو خود سوچ لینا چاہئے کہ اسکا فائدہ طالب دنیا بننے میں ہے یا طالب آخرت بننے میں۔[

وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحْمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ

Quran 2:163

"تم سب کا معبود ایک اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ بہت بڑا بخشش کرنے والا اور بڑا مہربان ہے ۔" (2:163)

وَإِذْ قَالَ لُقْمَٰنُ لِٱبْنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَٰبُنَىَّ لَا تُشْرِكْ بِٱللَّهِ إِنَّ ٱلشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

Quran 31:13

“! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔”{31:13}

فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلْمَلِكُ ٱلْحَقُّ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْكَرِيمِ ۝ وَمَن يَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرْهَٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْكَٰفِرُونَ

Quran 23:116,117

“اللہ تعالی سچا بادشاہ ہے۔ وہ بڑی بلندی والا ہے، اس کے سوا کوئی معبودنہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے ۔(116)جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے بے شک کافرلوگ نجات سے محروم ہیں”۔ (117)

وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٌ فِى ٱلْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ وَلِىٌّ مِّنَ ٱلذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًۢا

Quran 17:111

“اور یہ کہتا رہ کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتاہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کوشریک وساجھی رکھتا ہے۔ نہ وہ ایسا حقیر کہ اس کا کوئی حمایتی ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتارہ”۔(17:111)

وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ إِلَٰهَيْنِ ٱثْنَيْنِ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ فَإِيَّٰىَ فَٱرْهَبُونِ ۝ وَلَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًا أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ

Quran 16:51,52

“اللہ تعالیٰ ارشاد فرما چکا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ معبود تو صرف وہی اکیلا ہی ہے پس تم سب صرف میرا ہی ڈر خوف رکھو۔(51) آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اس کی عبادت لازم ہے کیا پھر بھی تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے رہتے ہو؟” (16:51,52)

حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِۦ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ ٱلطَّيْرُ أَوْ تَهْوِى بِهِ ٱلرِّيحُ فِى مَكَانٍ سَحِيقٍ

Quran 22:31

شرک کرنیوالوں کا انجام: {22:31} “یکسو ہوکر اللہ کےبندے بنو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ سنو! اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا تو گویا آسمان سے گر پڑا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پھینک دے گی۔”

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

Quran 4:116

اللہ تعالیٰ شرک کو قطعاً نہیں بخشے گا“{4:116}:اسے تو اللہ تعالیٰ قطعًا نہ بخشے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے، ہاں شرک کے علاوہ گناہ (سب کچھ معاف کیا جاسکتا ہےجسے وہ معاف کرنا چاہے) اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جاپڑا۔”

لَقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ

Quran 5:72

اللہ مشر ک پر قطعا جنت کو حرام کر دیتا ہے: “{5:72}یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے، اللہ اس پر قطعا جنت کو حرام کر دیتا ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گناہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں”۔

أَفَحَسِبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن يَتَّخِذُوا۟ عِبَادِى مِن دُونِىٓ أَوْلِيَآءَ إِنَّآ أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَٰفِرِينَ نُزُلًا

Quran 18:102

اﷲ کے سوا بندوں کو اپنا حمایتی بنالینے والوں کا انجام : “کیا کافر یہ خیال کئے بیٹھے ہیں؟ میرے سوا وہ میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنالیں گے؟ سنو ہم نے تو ان کفار کی مہمان نوازی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھی ہے” ۔(کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں ، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے،غم ورنج ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے)

5.14 اللہ تعالی اپنے بندوں کو شرک سے بچانے اور توحید کی تعلیم دینے کے لئے اپنے رسولوں کو ان کی قوموں میں بھیجتا رہا۔

وَكَمْ أَرْسَلْنَا مِن نَّبِىٍّ فِى ٱلْأَوَّلِينَ ۝ وَمَا يَأْتِيهِم مِّن نَّبِىٍّ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ۝ فَأَهْلَكْنَآ أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ ٱلْأَوَّلِينَ

Quran 43:6-8 · 5.14.i

“اور ہم نے اگلے لوگوں میں بھی بہت سے نبی بھیجے (6) جو نبی ان کے پاس آیا انہوں نے اسے ہنسی مذاق میں اڑایا (7) پس ہم نے ان کے زیادہ زور آوروں کو تباہ کر ڈالا اور اگلوں کی حقیقت گذر چکی ہے”۔ (43:6-8)

وَمَا نُرْسِلُ ٱلْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ فَمَنْ ءَامَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَمَسُّهُمُ ٱلْعَذَابُ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

Quran 6:48,49 · 5.14.ii

ایمان لانے والوں کو جنت کی خوشخبری اور جھٹلانے والےکو جہنم کا عذاب: {6:48,49} “ہم تو رسولوں کو صرف خوشخبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے بناکر ہی بھیجتے ہیں پھر جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں، ان پر نہ تو کوئی ڈر خوف ہے نہ اداسی اور مایوسی۔ ()اور جو ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، انہیں ان کی بدکاری کے باعث عذاب پہنچیں گے۔”

5.15 ہلاک کئے گئے قوموں کا ان کے پیغمبروں کے ساتھ سلوک ۔

أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا ٱللَّهُ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فِىٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِى شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍ

Quran 14:9 · 5.15.i

“کیا تمہارے پاس تم سے پہلے کے لوگوں کی خبریں نہیں آئیں ؟ یعنی قوم نوح کی اور عاد وثمود کی اور ان کے بعد والوں کی جنہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا، ان کے پاس ان کے رسول معجزے لائے، لیکن وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ میں پھیر لے گئے اور صاف کہہ دیا کہ جو کچھ تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کے منکر ہیں اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو ہمیں تو اس میں بڑا بھاری شبہ ہے۔ ہم اس سے خاطر جمع نہیں ”۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِى ٱللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَٰنٍ مُّبِينٍ

Quran 14:10 · 5.15.ii

“ان کے رسولوں نے انہیں کہا کہ کیا حق تعالی کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمان و زمین کا بنا نے والا ہے، وہ تو تمہیں اس لئے بلا رہا ہے کہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے اور ایک مقرر وقت تک تمہیں مہلت عطا فرمائے، وہ کہنے لگے تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو، تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روک دو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ، اچھا تو ہمارے سامنے کوئی کھلی سند پیش کرو”۔

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَٰنٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ۝ وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيْتُمُونَا وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

Quran 14:11,12 · 5.15.iii

“ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے بے حکم اللہ ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزہ تمہیں لا دکھائیں ، ایمانداروں کو صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ (11) آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ رکھیں جبکہ اسی نے ہمیں ہماری راہیں سمجھائی ہیں۔ واللہ جو ایذائیں تم ہمیں دو گے ہم ان پر صبر ہی کریں گے توکل کرنے والوں کو یہی لائق ہے اللہ ہی پر توکل کریں” ۔ (14:11,12)

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ

Quran 14:13,14 · 5.15.iv

“کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں ملک بدر کردیں گے یا تم پھر سے ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہی غارت کردیں گے () اور ان کے بعد ہم خود تمہیں اس زمین میں بسائیں گے یہ ہے ان کے لیے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھیں اور میرے وعدہ سے خوف زدہ رہیں-” 5.16 شدید طاقت والی قومیں جب اپنے رسولوں کو جھٹلائیں تو اللہ تعالی نے ان کو برباد کر دیا، ان کے آثار رہتی دنیا تک عبرت کے لئے باقی رکھے جائیں گے۔

5.17 اللہ تعالیٰ کی حكم برداري هي دین اسلام ہے-

إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَٰمُ وَمَا ٱخْتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ وَمَن يَكْفُرْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

Quran 3:19 · 5.17.i

“بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام حكم برداري ) یعنی اپنی مرضی کو اللہ کے سپردکردے) هي ہے”۔ {3:19}

شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحًا وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِۦٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ أَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا۟ فِيهِ كَبُرَ عَلَى ٱلْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ٱللَّهُ يَجْتَبِىٓ إِلَيْهِ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ

Quran 42:13 · 5.17.ii

اللہ کا دین وہی اسلام ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام کو دیا گیا : {42:13} “اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی شریعت مقرر کر دی جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا اور جو بذریعہ وحی ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم ، موسیٰ اورعیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم کرنا اور اس میں تفرقہ میں نہ پڑنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو ان مشرکین پر گراں گزرتی ہے ، اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا برگزیدہ بنا لے ، اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح راہنمائی کرتا ہے۔”

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ ٱلْإِسْلَٰمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

Quran 3:85 · 5.17.iii

اﷲ تعالیٰ اسلام کے سوا کوئی دین قبول نہیں فرمائیگا: {3:85} “جو شخص اسلام کے سوا اور کسی اور دین کی پیروی کی، اس کا وہ دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔”

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ ٱللَّهِ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 30:30 · 5.17.iv

اللہ کا دین ہی ا صل دین ہے : {30:30} “اے نبی یکسو ہوکر اپنا رخ اس دین کی طرف جما دو، یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے،اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ساخت کو ہرگز بدلا نہیں جاسکتا، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔”

وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ

Quran 98:5 · 5.17.v

اسلام ہی درست اور مضبوط دین ہے: “{98:5}انہیں اس کے سوا کوئی اورحکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں، ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوۃ دیتے رہیں یہی دین درست اور مضبوط ہے۔”

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًا

Quran 48:28 · 5.17.vi

“وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین بر حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کردے، اور اللہ تعالی کافی ہے اظہار حق کرنے والا-“

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرَىٰهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًا سِيمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمَثَلُهُمْ فِى ٱلْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسْتَغْلَظَ فَٱسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعْجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلْكُفَّارَ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًۢا

Quran 48:29

"محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں-”{48:29}

5.19 مؤمن ہونے کے شرائط۔

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

Quran 4:65 · 5.19.i

: “سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دے، ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں ۔”

مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا

Quran 4:80 · 5.19.ii

رسول اﷲ ﷺ کی اطاعت کرنا اﷲ کی اطاعت کرنا ہے: {4:80} “اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت جو کرے، اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیرے تو ہم نے تجھے کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا”۔

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

Quran 4:59 · 5.19.iii

مؤمنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری کریں {4:59} “:اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول اللہ علیہ و سلم کی اور تم میں سے اختیار والوں کی، پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے رجوع کرواللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے، یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے”-

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًا مُّبِينًا

Quran 33:36 · 5.19.iv

رسول اﷲ کے فیصلہ کے بعد کسی مسلمان مردوعورت کو کسی امر میں اختیار نہیں {33:36} “:کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا ، یاد رکھو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جوبھی نافرمانی کرے، وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔”

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

Quran 3:132 · 5.19.v

“ اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔”(3:132)

5.20 قرآن اللہ کی نازل کی ہوئی آخری کتاب ہے قیامت تک ہدایت کا راستہ بتانے والی ہے۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ تَبَارَكَ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِۦ لِيَكُونَ لِلْعَٰلَمِينَ نَذِيرًا

Quran 25:1 · 5.20.i

آپ ﷺ پر فرقان اتاری گئی : {25:1} “بہت بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر فرقان (کسوٹی) اتارا تاکہ وہ (نبی ﷺ) تمام جہانوں کے لئے آگاہ کرنے والا بن جائے” ] فرقان کے معنی ہیں حق و باطل ، توحید و شرک اور عدل و ظلم کے درمیان فرق کرنیوالا، اس قرآن نے کھول کر ان امور کی وضاحت کر دی ہے اس لئے اسے فرقان سے تعبیر کیا۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ رسول اﷲ ﷺ کی نبوت عالم گیر ہے۔ اور آپؐ تمام انسانوں اور جنوں کے لئے ہادی و رہنما بنا کر بھیجے گئے ہیں۔[

فَٱسْتَمْسِكْ بِٱلَّذِىٓ أُوحِىَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝ وَإِنَّهُۥ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔلُونَ

Quran 43:43,44 · 5.20.ii

“قران كو مضبوطى تھا نے كا حكم: “پس جو وحی تیری جانب کی گئی ہےتو اسے مضبوط تھامے رہ، یقین مان کہ تو راہ راست پر ہے۔ اور یقیناً (خود) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے۔”

وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِـَٔايَةٍ قَالُوا۟ لَوْلَا ٱجْتَبَيْتَهَا قُلْ إِنَّمَآ أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ مِن رَّبِّى هَٰذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

Quran 7:203 · 5.20.iii

قرآن ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے ( قیامت تک قرآن خود بہت بڑا معجزہ ہے ): {7:203} “ا ان کے سامنے جب تو کوئی خاص معجزہ پیش نہیں کرتا تو وہ کہتے ہیں کہ تو اسے بھی اپنی طرف سے کیوں نہ چھانٹ لایا؟ جواب دے کہ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری جانب پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے یہ قرآن بصارتوں والا تمہارے رب کی طرف کا موجود ہے جو ایمانداروں کے لئے سراسر ہدایت و رحمت ہے۔”

وَأَنِيبُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا۟ لَهُۥ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ۝ وَٱتَّبِعُوٓا۟ أَحْسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ

Quran 39:54,55 · 5.20.iv

اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے توبہ و استغفار میں جلدی کرو: {39: 54,55} “تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کئے چلے جاؤ، اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آجائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے(54)اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے- اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو” (55)-

قُلْ يَٰعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ أَسْرَفُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا۟ مِن رَّحْمَةِ ٱللَّهِ إِنَّ ٱللَّهَ يَغْفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

Quran 39:53 · 5.20.v

اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں“{39:53}:میری جانب سےکہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی، بخشش بڑی رحمت والا ہے”-

وَهُوَ ٱلَّذِى يَقْبَلُ ٱلتَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِۦ وَيَعْفُوا۟ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ

Quran 42:25 · 5.20.vi

اللہ ایمان والوں کی دُعا سنتا ہے: (42:25) “وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے ۔”

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَبَيَّنُوا۟ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

Quran 2:160 · 5.20.vii

جو توبہ کرلیں اور اصلاح کریں تواللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لیتاہے: {2:160} “مگر وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کریں اور بیان کر دیں تو میں ان کی توبہ قبول کر لیتا ہوں اور میں تو توبہ قبول کرنے والا رحم وکرم کرنے والا ہوں۔”

فَمَن تَابَ مِنۢ بَعْدِ ظُلْمِهِۦ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Quran 5:39 · 5.20.viii

“جو توبہ کرلیں اور اصلاح کریں تواللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اس کی طرف لوٹتا ہے {5:39} “:جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اس کی طرف لوٹتا ہے ، یقیناً اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا مہربانی کرنے والا ہے”-

إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَٰلِحًا فَأُو۟لَٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمْ حَسَنَٰتٍ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

Quran 25:70 · 5.20.ix

توبۃ النصوحاً کرنے والوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتے ہیں: {25:70} “سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے ، اللہ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔”

وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ وَإِلَى ٱللَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ

Quran 31:22 · 5.20.x

“اور جوشخص اپنے آپ کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی نیک کار یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا ، تمام کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہے”- {31:22}

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِىَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ فَلَن يَهْتَدُوٓا۟ إِذًا أَبَدًا

Quran 18:57 · 5.20.xi

“اللہ کی آیتوں سے منہ پھیرنے والے ہی سب سے بڑے ظالم ہیں ان کا انجام: {18:57} “اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے، وہ پھر بھی منہ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے، اسے بھول جائے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، گو تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا رہے، لیکن یہ کبھی بھی ہدایت نہیں پانے کے۔”

وَرَبُّكَ ٱلْغَفُورُ ذُو ٱلرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا۟ لَعَجَّلَ لَهُمُ ٱلْعَذَابَ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌ لَّن يَجِدُوا۟ مِن دُونِهِۦ مَوْئِلًا

Quran 18:58 · 5.20.xi

ایمان لاکر اللہ سے معافی چاہنے والوں کواللہ معاف کردیتا ہے:“ {18:58}تیرا پروردگار بہت ہی بخشش والا اور مہربانی والا ہے، وہ اگر ان کے اعمال کی سزا میں پکڑے تو بیشک انہیں جلدہی عذاب کرے،بلکہ انکے لئے ایک وعدے کی گھڑی مقرر ہے جس سے وہ سرکنے کی جگہ ہی نہیں پائیں گے۔”

فَإِنْ أَعْرَضُوا۟ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ وَإِنَّآ إِذَآ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ كَفُورٌ

Quran 42:48 · 5.20.xii

انسان اللہ کی نعمتوں پر خوش ہوجاتا ہے (شکر ادا نہیں کرتا) جب مصیبت آتی ہے تو ناشکری کرتا ہے: “اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا، آپ کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے ہم جب کبھی انسان کو اپنی مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے اور اگر انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو بیشک بڑا ہی ناشکرا ہے۔”

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِىَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ فَلَن يَهْتَدُوٓا۟ إِذًا أَبَدًا

Quran 18:57 · 5.20.xiii

ظالم کون ہے؟{18:57} “اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے، وہ پھر بھی منہ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے، اسے بھول جائے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، گو تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا رہے، لیکن یہ کبھی بھی ہدایت نہیں پانے کے”

5.21 عذاب کیوں آتاہے؟” عذاب کس کس طرح آتاہے؟”

وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّبِىٍّ إِلَّآ أَخَذْنَآ أَهْلَهَا بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ

Quran 7:94 · 5.21.i

“اورہم نےجس بستی میں جس نبی کوبھیجاوہاں والوں کو تنگی اور سختی رنج و تکلیف میں مبتلا کرکے موقع دیا کہ وہ عاجزی اور زاری کرلیں- {7:94}

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا۟ وَّقَالُوا۟ قَدْ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذْنَٰهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

Quran 7:95 · 5.21.ii

اچانک عذا ب : {7:95} “پھر ہم نے اس تکلیف کے بدلے راحت و آسانی اس قدر دی کہ وہ بھول گئے اور کہنے لگے ، ہمارے باپ دادوں کو بھی تو سختی نرمی پہنچتی تھی ، آخرش) پھر( ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی۔”

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْقُرَىٰٓ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَٰتٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا۟ فَأَخَذْنَٰهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

Quran 7:96 · 5.21.iii

اگر ایمان لاتے اور اﷲ کے احکام مانتے تو اﷲ ان پر برکتیں کھول دیتا {7:96}: “اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کشادہ کر دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا، تو ہم نے بھی ان کے کر تو توں (اعمال) کے بدلے انہیں گرفتار کرلیا۔”

أَفَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَٰتًا وَهُمْ نَآئِمُونَ

Quran 7:97 · 5.21.iv

اﷲ کے احکام نہ مان کر بے فکر ہو جانے سے اچانک عذاب آتاہے“{7:97}:کیا شہروں کے رہنے والے اس سے بے خوف ہوچکے ہیں؟ کہ ان کے پاس راتوں رات ہمارے عذاب آجائیں؟ اور وہ سوئے پڑے ہوئے ہوں؟”

أَفَأَمِنُوا۟ مَكْرَ ٱللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

Quran 7:99 · 5.21.vi

“ کیا یہ اللہ کے داؤں سے مطمئن ہوچکے ہیں؟ یاد رکھو اللہ کے داؤں گھات سے بے خوف وہی ہوتے ہیں جو سخت نقصان اٹھانے والے ہوں۔”{7:99}

أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ أَهْلِهَآ أَن لَّوْ نَشَآءُ أَصَبْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

Quran 7:100 · 5.21.vii

“ اس زمین پر رہنے سہنے والوں کے بعد جو اس کے وارث بنتے ہیں، کیا انہیں بھی یہ ہدایت نہیں ہوتی کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں بھی ان کی بد کرداریوں پر عذاب کریں اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ یہ سنیں ہی نہیں”- {7:100}

5.22 بندوں كو الله كى نصيحتيں

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ تَبَٰرَكَ ٱلَّذِى بِيَدِهِ ٱلْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Quran 67:1 · 5.22.i

اللہ کل کائنات کا مالک ہے: {67: 1} “بہت بابرکت ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔”

تُسَبِّحُ لَهُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ ٱلسَّبْعُ وَٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِۦ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

Quran 17:44 · 5.22.ii

ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ 17:44}} “ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وہ بڑا برد بار اور بخشنے والا ہے۔”

وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦ وَٱلْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ مَطْوِيَّٰتٌۢ بِيَمِينِهِۦ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

Quran 39:67 · 5.22.iii

“اور ان لوگوں نے جیسی عظمت اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی،ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔”{39:67}

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

Quran 57:4 · 5.22.iv

ہروقت اللہ تمہارے ساتھ ہے : {57: 4} “ جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ دیکھ رہا ہے۔”

وَأَسِرُّوا۟ قَوْلَكُمْ أَوِ ٱجْهَرُوا۟ بِهِۦٓ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ۝ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ

Quran 67:13,14 · 5.22.v

اللہ تعالی سینوں کےرازبخوبی جانتا ہے: {67:13,14} “تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ظاہر کرو ، وہ تو سینوں کی پوشیدگیوں کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ کیا وہ بھی بے علم ہوسکتا ہے جو خالق ہو؟ پھر باریک بین اور باخبر ہو۔”

أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَٰكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ

Quran 23:115 · 5.22.vi

کیا اﷲ نے انسان کو یونہی بیکار پیدا کیا ہے؟: {23:115} “ اے کاش! تم اسے پہلے ہی جان لیتے؟ کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے؟”

وَكُلَّ إِنسَٰنٍ أَلْزَمْنَٰهُ طَٰٓئِرَهُۥ فِى عُنُقِهِۦ وَنُخْرِجُ لَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ كِتَٰبًا يَلْقَىٰهُ مَنشُورًا ۝ ٱقْرَأْ كِتَٰبَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ ٱلْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا ۝ مَّنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا

Quran 17:13-15 · 5.22.vii

انسان کا اعمال نامہ اسکے گلے میں : (17:13-15) “ہم نے ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگا دیا ہے ، اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پائے گا۔ (13) لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے۔ آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے۔ (14)جو راہ راست حاصل کر لے وہ خود اپنے ہی بھلے کے لئے راہ یافتہ ہوتا ہے، اور جو بھٹک جائے اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہے، کوئی بوجھ والا کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہ لادے گا ، اور ہماری عادت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں ۔”(15)

وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًٔا وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا

Quran 4:36 · 5.22.viii

توحید ، والدین کے ساتھ حسن ِ سلوک کرنے کا حکم: {4:36} “اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راہ کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں ، یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔”

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمْ وَٱخْشَوْا۟ يَوْمًا لَّا يَجْزِى وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيْـًٔا إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ

Quran 31:33 · 5.22.ix

لوگو ! اپنے رب سے ڈرو اور حساب کے دن کا خوف رکھو: {31:33} “لوگو اپنے رب کا لحاظ رکھو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے والا ہوگا ،یاد رکھو اللہ کا وعدہ سچا ہے ،دیکھو تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز شیطان تمہیں دھوکے میں ڈال دے۔”

ٱلْمَالُ وَٱلْبَنُونَ زِينَةُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱلْبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّٰلِحَٰتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا

Quran 18:46 · 5.22.x

“مال و اولاد تو دنیا کی زینت ہے ، ہاں البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ثواب اور آئندہ کی اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں۔”

أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَدْ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا ۝ رَّسُولًا يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَٰتٍ لِّيُخْرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعْمَلْ صَٰلِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا قَدْ أَحْسَنَ ٱللَّهُ لَهُۥ رِزْقًا

Quran 65:10,11 · 5.22.xi

، پس اللہ سے ڈرو اے عقل مند ایمان والو۔ یقیناً اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتار دی ہے۔ یعنی رسول جو تمہیں اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں وہ تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں، جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے۔ (65:10,11)

وَٱتَّبِعُوٓا۟ أَحْسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ

Quran 39:55 · 5.22.xii

“اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے۔ اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو ۔‘‘ (یعنی عذاب آنے سے قبل توبہ اور عمل صالح کا اہتمام کر لو ) (39:55)

أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَٰحَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِى جَنۢبِ ٱللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ ٱلسَّٰخِرِينَ

Quran 39:56 · 5.22.xiii

“ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص کہے ، ہائے افسوس، اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا۔” ٭٭٭

← Chapter 4