Quran Way of Life
ReadSearch
Arabic text: Tanzil Project (tanzil.net) — verified Uthmani text, reproduced verbatim.

Chapter 3

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم - خاتم النبیین

3.1 اسلام : قیامت تک ایک ہی دین اسلام ہے۔

إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَٰمُ وَمَا ٱخْتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ وَمَن يَكْفُرْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

Quran 3:19 · 3.1.i

“بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام حكم برداري ) اپنی مرضی کو اللہ کے سپردکردینا) هي ہے”۔]{3:19} اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت و تعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اب اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کیا، جس میں توحید و رسالت اور آخرت پر اس طرح یقین و ایمان رکھنا ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے بتلایا ہے۔ اب محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اﷲ ایک ہے یا کچھ اچھے عمل کرلینا، یہ اسلام نہیں نہ اس سے نجات آخرت ہی ملے گی۔ ایمان و اسلام اور دین یہ ہے کہ اﷲ کو ایک مانا جائے اور صرف اسی ایک معبود کی عبادت کی جائے، محمد رسول اﷲ ﷺ سمیت تمام انبیاء پر ایمان لایا جائے۔ اور نبی ﷺ کی ذات پر رسالت کا خاتمہ تسلیم کیا جائے اور ایمانیات کے ساتھ ساتھ وہ عقائد و اعمال اختیار کئے جائیں جو قرآن کریم میں یا حدیث رسول ﷺ میں بیان کئے گئے ہیں۔ اب اس دین اسلام کے سوا کوئی اور دین عنداﷲ قبول نہیں ہوگا۔ [

شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحًا وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِۦٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ أَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا۟ فِيهِ كَبُرَ عَلَى ٱلْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ٱللَّهُ يَجْتَبِىٓ إِلَيْهِ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ

Quran 42:13 · 3.1.ii

اللہ کا دین وہی اسلام ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام کو دیا گیا : {42:13} “اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی شریعت مقرر کر دی جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا اور جو بذریعہ وحی ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم ، موسیٰ اورعیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم کرنا اور اس میں تفرقہ میں نہ پڑنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو ان مشرکین پر گراں گزرتی ہے ، اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا برگزیدہ بنا لے ، اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح راہنمائی کرتا ہے۔”

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ ٱلْإِسْلَٰمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

Quran 3:85 · 3.1.iii

اﷲ تعالیٰ اسلام کے سوا کوئی دین قبول نہیں فرمائیگا: “جو شخص اسلام کے سوا اور کسی اور دین کی پیروی کی، اس کا وہ دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔”

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ ٱللَّهِ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 30:30 · 3.1.iv

اللہ کا دین ہی ا صل دین ہے : {30:30} “اے نبی یکسو ہوکر اپنا رخ اس دین کی طرف جما دو، یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے،اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ساخت کو ہرگز بدلا نہیں جاسکتا، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔”

وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ

Quran 98:5 · 3.1.v

اسلام ہی درست اور مضبوط دین ہے: “انہیں اس کے سوا کوئی اورحکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں، ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوۃ دیتے رہیں یہی دین درست اور مضبوط ہے”۔

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحْمُ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلْمُنْخَنِقَةُ وَٱلْمَوْقُوذَةُ وَٱلْمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا۟ بِٱلْأَزْلَٰمِ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ٱلْيَوْمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًا فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِى مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Quran 5:3 · 3.1.vi

آج (حجۃ الوداع کا دن ) اللہ تعالی نے دین اسلام کو مکمل فرمادیا۔ “{5:3}آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تمہیں اپنا انعام بھرپور دے دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ ”

يُرِيدُونَ أَن يُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَيَأْبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ ۝ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ

Quran 9:32,33 · 3.1.vii

اللہ تعالیٰ اسلام کو غالب کرنیوالا ہے : {9:32,33}“ ان کی چاہت ہے کہ نور اللہ اپنے منہ سے بجھا دیں اوراللہ تعالی انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گو کافر ناخوش رہیں"(32)، اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اورسچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اورتمام مذہبوں پر غالب کردے اگرچہ مشرک برامانیں”۔ اسلام کی بنیاد:

3.2 ایمان کیا ہے ?

ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِۦ وَقَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ

Quran 2:285 · 3.2.i

اسلام کے بارے میں مؤمن کے عقائد: {2:285} “رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اترے اور مؤمن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔” ] اس آیت میں پھر ان ایمانیات کا ذکر ہے جن پر اہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔[

· 3.2.ii

{{2:177 “ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں ؛ بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو”

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَمْ يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُو۟لَٰٓئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

Quran 4:152 · 3.2.iii

بغیر کسی فرق کے تمام پیغمبروں پر ایمان لانا : “اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے یہ ہیں جنہیں اللہ ان کے پورا ثواب دے گا ،اللہ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَٰجًا وَذُرِّيَّةً وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِىَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ ۝ يَمْحُوا۟ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلْكِتَٰبِ

Quran 13:38,39 · 3.2.iv

ہر مقررہ وعدے کی ایک لکھت لوح محفوظ میں ہے جو اللہ کے پاس ہے: {13:38,39} “ہم تجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا ، کسی رسول سے نہیں ہو سکتا کہ کوئی نشانی بغیر اللہ کی اجازت کے لے آئے ، ہر مقررہ وعدے کی ایک لکھت ہے (38)اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ”۔ ](39)ہر کام کا وقت مقرر ہے :ارشاد ہے کہ جیسے آپ باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں ۔ ایسے ہی آپ سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے ، کھانا کھاتے تھے ، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، بیوی بچوں والے تھے ۔ اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ آیت (انما انا بشر مثلکم یوحی الی) میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی ربانی کی جاتی ہے ۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا، راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں۔ جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے، وہ میرا نہیں ۔ مسند احمد میں آپ کا فرمان ہے کaہ چار چیزیں تمام انبیاء کا طریقہ ر ہا خوشبو لگانا ، نکاح کرنا ، مسواک کرنا اور مہندی ۔ پھر فرماتا ہے کہ معجزے ظاہر کرنا کسی نبی کے بس کی بات نہیں ۔ یہ اللہ عزوجل کے قبضے کی چیز ہے۔ وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے ، جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے۔ ہر ایک بات مقررہ وقت اور معلوم مدت کتاب میں لکھی ہوئی ہے ۔ ہر شے کی ایک مقدار معین ہے ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا اللہ کو علم ہے؟ سب کچھ کتاب میں لکھا موجود ہے۔ یہ تو اللہ پر بہت ہی آسان ہے۔ ہر کتاب کی جو آسمان سے اتری ہے اس کی ایک اجل ہے اور ایک مدت مقرر ہے ان میں سے جسے چاہتا ہے، منسوخ کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ پس اس قرآن سے جو اس نے اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ پر نازل فرمایا ہے، تمام اگلی کتابیں منسوخ ہو گئیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے سال بھر کے امور مقرر کر دیئے لیکن اختیار سے باہر نہیں۔ جو چاہا باقی رکھا۔ جو چاہا بدل دیا ۔ سوائے شقاوت ، سعادت ، حیات و ممات کے کہ ان سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہو تا ۔ منصور کہتے ہیں میں نے حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الہٰی اگر میرا نام نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کر دے ۔ آپ نے فرمایا یہ تو اچھی دعا ہے، [

3.3 ایمان کی چھ چیزوںمیں سےکسی چیز پر انکار کا عذاب:

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلَّذِى نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِن قَبْلُ وَمَن يَكْفُرْ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

Quran 4:136 · 3.3.i

“جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وہ تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا”۔

قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ فَٱسْتَقِيمُوٓا۟ إِلَيْهِ وَٱسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ ۝ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَٰفِرُونَ

Quran 41:6,7 · 3.3.ii

“جو زکوۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر وں کی بڑی خرابی ہے۔ (41:6,7) “ان مشرکوں کے لئے بڑی ہی خرابی ہے ،() جو زکوۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں”۔ ()

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَٰلَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَهُمْ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ وَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ هُمُ ٱلْأَخْسَرُونَ

Quran 27:4,5 · 3.3.iii

“آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے خسارہ پانے والے ہیں۔(27:4,5) جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے انہیں ان کے کرتوت زینت دار کر دکھائے ہیں۔ پس وہ بھٹکے پھرتے ہیں ۔(4) یہی لوگ ہیں جن کے لئے بری مار ہے اور آخرت میں بھی وہ سخت نقصان یافتہ ہیں”

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَٰهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا ۝ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا لَّهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا

Quran 4:56,57 · 3.3.iv

اللہ کی آیات سے انکار کرنے کا عذاب: (4:56,57) “جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے، جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھا لیں بدل دیں گے تا کہ عذاب چکھتے رہیں۔ یقینا اللہ تعالی غالب حکمت والا ہے(56) اور جولوگ ایمان لائے اور شائستہ اعمال کئے ہم انہیں عنقریب ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گئے ان کے لئے وہاں صاف ستھری ہو یاں ہوں گی اور ہم انہیں گھنی چھاؤں اور پوری راحت میں لے جائیں گے۔”

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا۟ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا

Quran 4:150,151 · 3.3.v

رسولوں میں فرق کرنے والوں کا عذاب“ :جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان راہ نکالیں۔ یقین مانو کہ سب لوگ اصلی کافر ہیں اور کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے”-

مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَىٰلَ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَدُوٌّ لِّلْكَٰفِرِينَ

Quran 2:98 · 3.3.vi

“فرشتوں سے دشمنی رکھنے والوں کا دشمن خود اللہ ہے۔ “جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اوراس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، ایسے کافروں کا دشمن خود اللہ ہے”

3.4 لوح محفوظ میں ہر ایک کی تقدیر لکھی ہے-

مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِى كِتَٰبٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ ۝ لِّكَيْلَا تَأْسَوْا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا۟ بِمَآ ءَاتَىٰكُمْ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ

Quran 57:22,23 · 3.4.i

“نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے یہ کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے۔(22) تاکہ تم اپنے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہوجایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر گھمنڈ میں آجاؤ اور گھمنڈ اور شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا”۔ (57:22,23)

مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُۥ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

Quran 64:11 · 3.4.ii

“کوئی مصیبت بغیر اللہ کی اجازت کے نہیں پہنچ سکتی، جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے”۔(64:11)

أَيْنَمَا تَكُونُوا۟ يُدْرِككُّمُ ٱلْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِى بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا۟ هَٰذِهِۦ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا۟ هَٰذِهِۦ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ فَمَالِ هَٰٓؤُلَآءِ ٱلْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا

Quran 4:78 · 3.4.iii

“تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آپکڑے گی گوتم مضبوط برجوں میں ہوا انہیں اگر کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انہیں برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے انہیں خبر کر دو کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ ایک بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں!”(4:78)

مَّآ أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ وَأَرْسَلْنَٰكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًا

Quran 4:79 · 3.4.iv

“تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔ ہم نے تجھے تمام لوگوں کو پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ بس ہے سامنے دیکھتا”۔ (4:79)

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ كِتَٰبًا مُّؤَجَّلًا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلْـَٔاخِرَةِ نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَسَنَجْزِى ٱلشَّٰكِرِينَ

Quran 3:145 · 3.4.v

“بغیر اللہ کے حکم کے کوئی جاندار نہیں مرسکتا مقرر شدہ وقت لکھا ہوا ہے دنیا کی چاہت والوں کو ہم کچھ دنیا دے دیتے ہیں اور آخرت کا ثواب چاہنے والے کو ہم وہ بھی دے دیتے ہیں احسان ماننے والوں کو ہم بہت جلد نیک بدلہ دیں گے”۔ (3:145)

3.5 انسان کا انجام عمل پر منحصر ہے

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلَّذِى نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِن قَبْلُ وَمَن يَكْفُرْ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

Quran 4:136

ایمان کے اجزاء پر پختہ اور سچا یقین رکھنے والے ہی ایمان والے ہیں : (4:136) “اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وہ تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔

ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ ۝ وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

Quran 2:3-5

ایمان والے ہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں ۔وہ کون ہیں ؟ {2:3-5} “جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں (3)اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو تجھ سے پہلے اتارا گیا اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں ” (5)- ] اُمور غیبہ سے مراد وہ چیزیں جن کا ادراک عقل و حواس سے ممکن نہیں جیسے ذاتِ باری تعالیٰ، وحی الٰہی، جنت، جہنم، ملائکہ، عذابِ قبر اور حشراجساد وغیرہ سے معلوم ہو ا کہ اﷲ اور رسول اﷲکی بتلائی ہوئی ماورائے عقل کو احساس باتوں پر یقین رکھنا، جزء ایمان ہے۔ اور انکا انکار کفر و گمراہی ہے۔ اقامت صلوٰۃ سے مراد پابندی سے اور سنت نبوی کے مطابق نماز کا اہتمام کرنا ہے، ورنہ نماز تومنافقین بھی پڑھتے ہیں۔[

وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ وَإِلَى ٱللَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ

Quran 31:22

“جو شخص اپنے منہ کو اللہ کی طرف متوجہ کر دے اور ہو بھی وہ نیک کا زیقینا اس نے مضبوط کثر انعام لیا۔ تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے”-

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَهُمْ فِى رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ

Quran 30:15

“جو ایمان لا کر نیک اعمال کرتے رہے وہ تو جنت میں خوش و خرم کر دیئے جائیں گے”۔ (30:15)

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا نِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَٰمِلِينَ ۝ ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

Quran 29:58,59

“جولوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے انہیں ہم قطعا جنت کے ان بلند بالا خانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گئے کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے”۔ (29:58,59)

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُمْ جَنَّٰتُ ٱلنَّعِيمِ ۝ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّا وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

Quran 31:8,9

“بے شک جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور کام بھی مطابق سنت کئے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں(8) جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ کا سچا وعدہ ہے وہ بہت بڑی عزت والا اور کامل حکمت والا ہے” (31:8,9)

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَٰتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِىٓ أُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

Quran 31:7

“جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منہ پھیر لیتا ہے کہ گویا اس نے سناہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ٹینٹ ہیں۔ تو اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دے”۔

أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا لَّا يَسْتَوُۥنَ

Quran 32:18

“کیا وہ جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو؟ برابر نہیں ہو سکتے” ۔ (32:18)

أَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَلَهُمْ جَنَّٰتُ ٱلْمَأْوَىٰ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

Quran 32:19

“جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کئے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں مہمان داری ہے ان کے ان اعمال کے بدلے جو وہ کرتے تھے ”۔ (32:19)

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فَسَقُوا۟ فَمَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ كُلَّمَآ أَرَادُوٓا۟ أَن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَآ أُعِيدُوا۟ فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ۝ وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَدْنَىٰ دُونَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۝ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَآ إِنَّا مِنَ ٱلْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ

Quran 32:20-22

“لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب بھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گئے اس میں لونا دیئے جائیں گے اور کہدیا جائے گا کہ اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو(20) بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے اس کے سوا بھی چکھائیں گے تاکہ وہ لوٹ آ ئیں(21) اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اللہ کی آیتوں سے وعظ کیا گیا۔ پھر بھی اس نے ان سے منہ پھیر لیا یقین مانو کہ ہم بھی گنہگاروں سے انتقام لینے والے ہیں”۔ ((32:20-22

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۝ خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

Quran 2:6,7

“جن کا فروں کو آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا برا بر ہے وہ لوگ ایمان نہ لائیں گے (6) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان ہی کے لئے بڑا عذاب ہے” ۔(2:6,7)

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبِعُوا۟ سَبِيلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَٰيَٰكُمْ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنْ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَىْءٍ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ ۝ وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْـَٔلُنَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ عَمَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

Quran 29:12,13

“کافروں نے ایمانداروں سے کہا کہ تم ہماری راہ کی تابعداری کرو۔ تمہارے گناہ ہم اٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھانے والے یہ تو محض جھوٹے ہیں۔البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھوئیں گے اور وہ اپنے بوجھ کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی_ اور جو کچھ افتراپردازیاں کر رہے ہیں ان سب کی بابت ان سے باز پرس کی جا ئے گی”۔ (29:12,13)

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآئِ ٱلْـَٔاخِرَةِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ فِى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ

Quran 30:16

“اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وہ سب عذاب میں پکڑ وادیے جائیں گے” (30:16)

وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُۥٓ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ۝ نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ

Quran 31:23,24

“کافروں کے کفر سےآپ رنجیدہ نہ ہوں ۔ آخر ان سب کا لو ٹنا تو ہماری ہی جانب ہے۔ اس وقت ان کے کئے ہو ئے اعمال سے اللہ انہیں خبر دار کر دے گا ۔ وہ تو دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔ (23) ہم انہیں کو کچھ یونہی سافائدہ دے دیں لیکن بالا فرہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذابوں کی طرف ہنکا لیے جائیں گے”۔ (24)

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ ۝ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

Quran 2:8,9

“بعض کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ ایماندار نہیں ہوتے۔(8)وہ اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں، لیکن دراصل خود اپنے تئیں دھوکہ دے رہے ہیں مگر سمجھتے نہیں”۔(92:8,)

فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْذِبُونَ

Quran 2:10

“ان کے دلوں میں بیماری تھی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بیماری میں بڑھا دیا اور ان کےجھوٹ کی وجہ سے ان کے لیے دردناک عذاب ہے”۔(102:)

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ۝ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ

Quran 2:11,12

“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔خبردار رہو یقیناً یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن شعور سمجھ نہیں”

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ كَمَآ ءَامَنَ ٱلنَّاسُ قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ كَمَآ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَآءُ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلسُّفَهَآءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ

Quran 2:13

“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں (یعنی صحابہ) کی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ایمان لائیں جیسا بیوقوف لائے ہیں، خبردار ہوجاؤ یقیناً یہی بیوقوف ہیں، لیکن جانتے نہیں-”(2:13)

وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ إِلَىٰ شَيَٰطِينِهِمْ قَالُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ ۝ ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

Quran 2:14,15

“اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایماندار ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو ان سے صرف مذاق کرتے ہیں۔ (14)اللہ تعالی بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اوربڑھا دیتا ہے”۔(2:14,15)

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَٰرَتُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

Quran 2:16

“یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں مول لے لیا، پس نہ تو انکی تجارت نے ان کو فائدہ پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے”۔ (162:)

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِىَ فِى ٱللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِ وَلَئِن جَآءَ نَصْرٌ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ أَوَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِى صُدُورِ ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ وَلَيَعْلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَيَعْلَمَنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ ۝ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبِعُوا۟ سَبِيلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَٰيَٰكُمْ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنْ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَىْءٍ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ

Quran 29:10-12

“بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں لیکن جب اللہ کی راہ میں کوئی مشکل ان پر پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ کے عذاب کی طرح منا لیتے ہیں ہاں اگر اللہ کی مدد آ جائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہی ہیں، کیا دنیا جہان کے دلوں میں جو کچھ ہے اس سے اللہ دانا نہیں؟ (10) جو لوگ ایمان لائے ہیں اللہ انہیں بھی جان کر رہے گا اور منافقوں کو بھی جان کر ہی رہے گا”۔(29:10-12)

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ وَلَوْ يَرَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ إِذْ يَرَوْنَ ٱلْعَذَابَ أَنَّ ٱلْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعَذَابِ

Quran 2:165

“بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اور وں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی اللہ سے ایماندار- اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ یہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذابوں کو دیکھ کر جان لیں گے “(2:165)

إِذْ تَبَرَّأَ ٱلَّذِينَ ٱتُّبِعُوا۟ مِنَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوا۟ وَرَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ ٱلْأَسْبَابُ

Quran 2:166

“کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالی کے عذاب سخت ہیں۔ تو ہر گز شرک نہ کرتے جس وقت پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بیزار ہو جائیں گے اور عذابوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور کل رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے” (2:166)

وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوا۟ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا۟ مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ ٱللَّهُ أَعْمَٰلَهُمْ حَسَرَٰتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنَ ٱلنَّارِ

Quran 2:167

“اور تابع دار لوگ کہنے لگیں گئے کاش کہ ہم پھر دنیا کی طرف دوبارہ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے یہ ہم سے اسی طرح اللہ تعالی انہیں ان کے اعمال کو دکھائے گا ان پر حسرت و افسوس ہے یہ ہرگز جہنم سے نہ نکلیں گے” ۔ (2:167)

وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبْلِسُ ٱلْمُجْرِمُونَ

Quran 30:12

“جس دن قیامت قائم ہوگی، گنہگاروں کی تو امید میں ٹوٹ جائیں گی” ۔ (30:12)

وَلَمْ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَآئِهِمْ شُفَعَٰٓؤُا۟ وَكَانُوا۟ بِشُرَكَآئِهِمْ كَٰفِرِينَ

Quran 30:13

“اور ان تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا شفارشی نہ ہوگا اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہوجائیں گے”۔(30:13)

3.6 حضرت ابراہیم علیہ السلام

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذْ قَالُوا۟ لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُا۟ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةُ وَٱلْبَغْضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَحْدَهُۥٓ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ ۝ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَٱغْفِرْ لَنَا رَبَّنَآ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ۝ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ ۝ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً وَٱللَّهُ قَدِيرٌ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Quran 60:4-7 · 3.6.ii

حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ : {60:4-7} “مسلمانو! تمہارے لئے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے اور اچھی پیروی موجود ہے ، جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں ہم تمہارے عقائد کے منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لئے بغض و عداوت ظاہر ہوگیا لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے(4) خدایا! تو ہمیں کافروں کا زیر دست اور تختہ مشق نہ بنا اور اے ہمارے پالنے والے ہماری خطاؤں کو بخش دے، بیشک تو ہی غالب، حکمتوں والا ہے(5)یقیناً تمہارے لئے ان میں اچھا نمونہ اور عمدہ پیروی ہے خاص کر ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کا اعتقاد رکھتا ہو اور اگر کوئی روگردانی کرے تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور وہ سزاوار حمد و ثنا ہے(6) کیا عجب کہ عنقریب ہی اللہ تعالیٰ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں محبت پیدا کر دے، اللہ کو سب قدرتیں ہیں ، اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔”

3.7 رسول بدلنے کے بعد شریعت بدلنے کا ذکر-

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلْنَٰهُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ وَءَاتَيْنَٰهُم بَيِّنَٰتٍ مِّنَ ٱلْأَمْرِ فَمَا ٱخْتَلَفُوٓا۟ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۝ ثُمَّ جَعَلْنَٰكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ ٱلْأَمْرِ فَٱتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۝ إِنَّهُمْ لَن يُغْنُوا۟ عَنكَ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ وَٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلْمُتَّقِينَ ۝ هَٰذَا بَصَٰٓئِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ

Quran 45:16-20 · 3.7.i

“یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکومت اور نبوت دی تھی اور ہم نے انہیں پاکیزہ اور نفیس روزیاں دی تھیں اور انہیں دنیا والوں پر فضیلت دی تھی(16) اور ہم نے انہیں دین کی صاف صاف دلیلیں دیں، پھر انہوں نے اپنے پاس علم کے پہنچ جانے کے بعد آپس کی ضد بحث سے ہی اختلاف بر پا کر ڈالا(17) یہ جن جن چیزوں میں اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ قیامت والے دن ان کے درمیان خود اللہ کرے گا۔ پھر ہم نے تجھے دین کی ظاہر راہ پر قائم کر دیا ہے سوتو اسی پر لگارہ اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑ (18)یا درکھ یہ لوگ اللہ کے کسی عذاب کو تجھ سے ہٹا نہیں سکتے ۔ سمجھ لے کہ ظالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیز گاروں کا رفیق اللہ تعالیٰ ہے(19) یہ قرآن لوگوں کے لئے نصیحتیں اور ہدایت ورحمت ہے اس جماعت کے لئے جو یقین رکھتی ہے-” ( 45:16-20)

ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

Quran 7:157 · 3.7.ii

“جو اس پیغمبر نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جس کے اوصاف اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھے ہوئے پاتے ہیں، جو انہیں اچھائیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور پاک چیزیں ان پر حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے اور ان سے ان کے بوجھ اتارتا ہے اور وہ طوق بھی جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے تھے، پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی عزت اور مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اتارا گیا' وہی کامیاب نجات یافتہ ہیں”۔ (7:157)

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ۝ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ

Quran 9:128,129 · 3.7.iii

پیغمبر محمد ﷺ کی آمد کا اعلان {9:128, 129}: “لوگو تمہارے پاس تم میں سے ہی ایک رسول آگئے ہیں۔ جن پر تمہاری تکلیف بہت ہی دشوار گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے خواہاں ہیں۔ جو مسلمانوں پر بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں(128)تو اس پر بھی اگر یہ پھر جائیں تو اعلان کردے کہ مجھے اللہ کافی ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے ۔” (129) ] آپ کی لائی ہوئی شریعت اور دین رحمت سے ۔ (حدیث شریف: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ آیت حسبی الله (الآیہ) صبح اور شام سات سات مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے فکر و مشکلات کو کافی ہو جائے گا )۔ (سنن ابی داؤد نمبر: 5081)[

3.8 حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہیں خاتم النبین محمد ﷺ -

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرَىٰهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًا سِيمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمَثَلُهُمْ فِى ٱلْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسْتَغْلَظَ فَٱسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعْجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلْكُفَّارَ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًۢا

Quran 48:29 · 3.8.i

“ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں-“

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًا

Quran 33:40 · 3.8.ii

“ محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ، لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں]، یعنی اللہ تعالی آپ پر نبوت کا خاتمہ فرمادیا-”(33:40)[

وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَٰلَمِينَ

Quran 21:107 · 3.8.iii

“ اور ہم نے تجھے تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ”: (21:107) آپ ؐ کو جہاں والوں کے لئے رحمت قرار دیا ہے کہ آپؐ کی وجہ سے یہ اُمت، بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کردی گئی جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی امت محمدیہؐ( جو امت اجابت اور امتِ دعوت کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے) پر اسطرح کا کلی عذاب نہیں آئیگا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے لئے بددعا نہ کرنا، یہ بھی آپؐ کی رحمت کا ایک حصہّ ہے۔ اسی طرح غصے میں کسی مسلمان کو لعنت نہ کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کا باعث قرار دینا آپ کی رحمت کا حصہّ ہے۔اسی لئے ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا ’’میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں جو اﷲ کی طرف سے اہلِ جہاں کے لئے ہدیہ ہے۔[

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَرْسَلْنَٰكَ شَٰهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ۝ وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذْنِهِۦ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا ۝ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًا

Quran 33:45-47 · 3.8.iv

“اے نبی یقینا ہم نے ہی تجھے گواہیاں دینے والا خوشخبریاں سنانے والا، آگاہ کرنےوالا اوراللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اورروشن چراغ، تو آپ مؤمنوں کو خوشخبری سنادیجئے کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا افضل ہے”۔ {33:45-47

قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِىِّ ٱلْأُمِّىِّ ٱلَّذِى يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

Quran 7:158 · 3.8.v

محمدﷺ سب کی طرف رسول بناکر بھیجے گئے: {7:158} “اعلان کردے کہ اے لوگو ! میں تم سب کی جانب اس اللہ کا رسول ہوں، جس کے قبضے میں آسمان و زمین کی بادشاہت ہے، جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، وہی جلاتا اور مارتا ہے، پس تم سب اللہ پر اور اس کے نبی امی پر ایمان لاؤ جو اللہ پر اور اللہ کی باتوں پر ایمان رکھتا ہے اور تم اسی (نبی امی) کی پیروی کرو تاکہ راہ راست پاؤ۔”

وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 34:28 · 3.8.vi

محمد ﷺ تمام جہاں والوں کے لئے رسول بناکر بھیجے گئے: {34:28} “ہم نے تمہیں تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ ہاں لیکن اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے۔”(اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے نبیﷺ کی رسالت عامہ کا بیان فرمایا ہے کہ آپﷺ کو پوری نسلَ انسانیت کا ہادی اور رہنما بنا کر بھیجا گیا )

هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

Quran 62:2 · 3.8.vii

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھیجنے کا مقصد:(62:2) “وہی (اللہ) ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے، یقینا یہ اس سے پہلے گمراہی میں تھے”۔

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا۟ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوًا وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ وَٱلْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِۦ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

Quran 2:231 · 3.8.viii

اللہ تعالی کا احسان انسانوں پر: “ (2:231) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور جو کچھ کتاب اور حکمت اس نے نازل فرمایا ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اور اللہ تعالی سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالی ہر چیز کو جانتا ہے”۔

وَٱذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِى بُيُوتِكُنَّ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱلْحِكْمَةِ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا

Quran 33:34 · 3.8.ix

رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کو اللہ کی نصیحت:“تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی جو حدیثیں پڑھی جاتی ہیں یاد رکھو، یقینا اللہ تعالی لطف کرنے والا خبردار ہے”۔

قُلْ إِنَّنِى هَدَىٰنِى رَبِّىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

Quran 6:161 · 3.8.x

“کہہ دے کہ مجھےتو میرے پروردگار نے سیدھی راہ کی ہدایت کردی ہے یعنی سچا دین ابراہیم کی ملت جو اللہ سے یکسو تھے اور مشرکوں میں نہ تھے۔”

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ ٱلْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۝ مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥ وَمَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ

Quran 30:43,44 · 3.8.xi

“پس تو اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھ اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس کےٹل جانے کی اللہ تعالی کی طرف سے ہرگز کوئی صورت نہیں ہے، اس دن سب متفرق ہوجائیں گے۔جس نے جو کیا اس کا وبال اسی پر ہوگا، اور جس نے نیک عمل کئے وہ ہی اپنی آرام گاہ سنوار ےگا(30:43,44) -”

أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ إِنَّنِى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ

Quran 11:2 · 3.8.xii

اﷲ واحدہے۔ محمد ﷺ ڈرانے والے بشارت دینے والے ہیں : “یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں تمہیں اس ایک كي طرف سے ڈرانے اور بشارت سنانے والا ہوں۔”

قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ فَمَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَٰلِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدًۢا

Quran 18:110 · 3.8.xiii

محمدﷺ تو تم جیسےہی ایک انسان ہیں : {18:110}“اعلان کردےکہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں ہاں میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، پس جس کو بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔”

3.9 محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں-

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًا

Quran 33:40 · 3.9.i

“لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں-” ]آپ کے بعد اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے[ {33:40}

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ

Quran 68:4 · 3.9.ii

“ اور بے شک تو (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) بہت بڑے اخلاق پر ہیں ۔” {68:4}]اللہ فرماتا ہے کہ اے نبی ! تو بحمدللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لئے اجرعظیم ہے اور ثواب بے پایاں ہے جو نہ ختم ہو نہ ٹوٹے نہ کٹے کیونکہ تونے حق رسالت ادا کردیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں، ہم تجھے بے حساب بدلہ دیں گے، توبہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پرہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا، سعید فرماتے ہیں یعنی جیسےکہ قرآن میں ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ صدیقہ نے پوچھا کہ کیا تونے قرآن نہیں پڑھا؟ سائل حضرت سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے، آپ نے فرمایا بس تو آپ کا خلق قرآن کریم تھا، مسلم میں یہ حدیث پوری پوری ہے [

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

Quran 3:132 · 3.9.iii

اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے والوں پر اللہ رحم کرتا ہے:“اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے -”(3:132)

مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا

Quran 4:80 · 3.9.iv

“جس نے رسول (ﷺ) کی اطاعت کی، اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیر لے تو ہم نے تم کو(آپ کو) کچھ ان لوگوں پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔” (4:80)

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ ۝ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ إِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ ۝ وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ ۝ فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكْرَىٰ ۝ سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ ۝ وَيَتَجَنَّبُهَا ٱلْأَشْقَى ۝ ٱلَّذِى يَصْلَى ٱلنَّارَ ٱلْكُبْرَىٰ ۝ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ ۝ قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ۝ وَذَكَرَ ٱسْمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ ۝ بَلْ تُؤْثِرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ۝ وَٱلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰٓ

Quran 87:6-17 · 3.9.v

رسول اﷲ ﷺ کی تعلیم و تربیت اﷲ ہی کی طرف سے ہے : {87:6-17} “ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا ()مگر جو کچھ اللہ چاہے، وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے()-ہم تجھے سہج سہج آسانی تک پہنچا دیں گے- () تو تو نصیحت کرتا رہ اگر نصیحت کچھ فائدہ دے()-ڈرنے والا تو عبرت حاصل کر لے گا()-ہاں یہ بد بخت لوگ اس سے دور رہ جائیں گے()-جو بڑی آگ میں جائیں گے()-جہاں پھر نہ وہ مریں گے نہ جئیں گے()-بیشک ان لوگوں نے فلاح پالی جو پاک ہوگئے- ()اور جنہوں نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پرھتے رہے()-لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو()-اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے”۔

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرًا

Quran 33:21 · 3.9.vi

رسول اللہ میں عمدہ نمونہ: {33:21} “یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے ، ہر اس شخص کے لئے جسے اللہ تعالی سے ملاقات کایقین اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، اور جوبکثرت اللہ کو یاد کرتا ہو”۔]یعنی آپ ﷺ کے اُسوۂ ِ حسنہ کو سامنے رکھ کر اسکی اقتدا کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ یعنی آپؐ کے تمام اقوال ، افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لئے آپ ؐ کی اقتدا ضروری ہے چاہے انکا تعلق عبادات سے ہو یا معاشرت سے، معیشت سے یا سیاست سے، زندگی کے ہر شعبے میں آپ کی ہدایات واجب الاتباع ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوگیا کہ اسوۂ رسول ﷺ کو وہی اپنائے گا جو آخرت میں اﷲ کی ملاقات پر یقین رکھتا اور کثرت سے اﷲ کا ذکر کرتا ہے۔ آج مسلمان بالعموم ان دونوں وصفوں سے محروم ہیں۔ اس لئے اسوۂ رسول ﷺ کی بھی کوئی اہمیت ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ (جسکی وجہ سے دنیا میں ذلت و رسوائی اُٹھانا پڑ رہا ہے۔)[

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

Quran 33:56 · 3.9.vii

33:56 نبی ﷺ پر اﷲ اور فرشتے دورد و سلام بھیجتے ہیں: {33:56} “اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو "۔] طبری)رح(فرما تے ہیں، بہت سے ایسے اوقات ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا ہمیں حکم ملا ہے لیکن بعض وقت واجب ہے۔ اور بعض جگہ واجب نہیں۔[

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

Quran 4:59 · 3.9.viii

“اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرو رسول کی اور تم میں سے اختیار والوں کی، پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے رجوع کرو اللہ کی طرف اور رسول کی طرف اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے، یہ بہت بہتر ہے اور با اعتبار انجام کے بہت اچھا ہے”- {4:59}

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝ قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْكَٰفِرِينَ

Quran 3:31,32 · 3.9.ix

اطیعواﷲ و الرسول : {3:31,32} “کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ پھیر لیں تو بیشک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا ۔”

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَ وَحَسُنَ أُو۟لَٰٓئِكَ رَفِيقًا

Quran 4:69 · 3.9.x

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا انعام : “جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے، وہ ان کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے، جیسے انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور نیک لوگ، یہ لوگ بھی کیاہی بہتر رفیق ہیں”۔ {4:69}

لَّا تَجْعَلُوا۟ دُعَآءَ ٱلرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُم بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِۦٓ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

Quran 24:63 · 3.9.xi

رسول کی مخالفت کرنیوالوں کا انجام : {24:63} “سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دکھ کی مار نہ پڑے”۔]اس آفت سے مراد دلوں کی وہ کجی ہے جو انسان کو ایمان سے محروم کردیتی ہے۔ یہ نبی ﷺ کے احکام سے سرتابی اور ان کی مخالفت کرنے کا نتیجہ ہے اور ایمان سے محرومی اور کفر پر خاتمہ کا نتیجہ جہنم کا دائمی عذاب ہے۔ اس لئے کہ آپؐ کا فرمان ہے ’’ جس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریقہ پر نہیں وہ مردود ہے ۔[

3.10 ایمان کی شرط-

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

Quran 4:65 · 3.10.i

ایمان کی شرط: {4:65}“سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دے، ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں ”۔

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Quran 3:31 · 3.10.ii

اتباع رسولﷺ کی اہمیت{3:31}: “کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے”۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ٱلْأَذَلِّينَ ۝ كَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا۠ وَرُسُلِىٓ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ ۝ لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوْ كَانُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَٰنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُو۟لَٰٓئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا رَضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ أُو۟لَٰٓئِكَ حِزْبُ ٱللَّهِ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

Quran 58:20-22 · 3.10.iii

“بیشک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں(20) اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ بیشک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے یقینا اللہ تعالیٰ زور آور اور غالب ہے (21)اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائے گا گووہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ قبلے کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں یہ اللہ کا لشکر ہے آگاہ رہو بیشک اللہ کے گروہ والے ہی کامیاب لوگ ہیں-” (58:20-22)

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرَىٰهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًا سِيمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمَثَلُهُمْ فِى ٱلْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسْتَغْلَظَ فَٱسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعْجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلْكُفَّارَ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًۢا

Quran 48:29 · 3.10.iv

مومن آپس میں رحم دل لیکن کفار پر بہت سخت ہوتے ہیں-(48:29) “محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جولوگ آپ کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں۔ تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں پس ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے ان کی یہی صفت تو رات میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں ہے مثل اس کھیتی کے جس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہو گیا، پھر اپنی جڑ پر سیدھا کھڑا ہو گیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تا کہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے ان ایمان والوں اور شائستہ اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے”۔

3.11 قرآن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ تَبَارَكَ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِۦ لِيَكُونَ لِلْعَٰلَمِينَ نَذِيرًا

Quran 25:1

آپ ﷺ پر فرقان اتاری گئی :{25:1} “بہت بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر فرقان (کسوٹی) اتارا تاکہ وہ (نبی ﷺ) تمام جہانوں کے لئے آگاہ کرنے والا بن جائے-” ]فرقان کے معنی ہیں حق وباطل، توحید وشرک اور عدل وظلم کے درمیان فرق کرنیوالا، اس قرآن نے کھول کر ان امور کی وضاحت کر دی ہے اس لئے اسے فرقان سے تعبیر کیا۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ رسول اﷲ ﷺ کی نبوت عالم گیر ہے۔ اور آپؐ تمام انسانوں اور جنوں کے لئے ہادی ورہنما بنا کر بھیجے گئے ہیں۔[

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ ٱلْكِتَٰبَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُۥ عِوَجَا ۝ قَيِّمًا لِّيُنذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِّن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا ۝ مَّٰكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا ۝ وَيُنذِرَ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدًا ۝ مَّا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِـَٔابَآئِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَٰهِهِمْ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا

Quran 18:1-5

“تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں (1)بلکہ تمام ٹھیک ٹھاک رکھا تا کہ اپنے باپ کی سخت سزا سے ہوشیار کر دے اور ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبریاں سنادے کہ ان کے لئے بہترین بدلے ہیں (2)جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے(3) اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دے جو کہتے ہیں۔ کہ اللہ تعالی اولا در کھتا ہے (4) در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو یہ تو تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منہ نکل رہی ہے نرا جھوٹ بک رہے ہیں-“(1

إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ قُل رَّبِّىٓ أَعْلَمُ مَن جَآءَ بِٱلْهُدَىٰ وَمَنْ هُوَ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

Quran 28:85

قرآن مومن پر فرض کیا گیا ہے - “جس اللہ نے تجھ پر قرآن نازل فرمایا ہے وہ تجھے دوبارہ پہلی جگہ لانے والا ہے کہہ دے کہ میرا رب اسے بخوبی جانتا ہے جو ہدایت لایاہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہے”۔

ٱتْلُ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ ٱللَّهِ أَكْبَرُ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ

Quran 29:45

قرآن کو پڑھنے کا حکم :{29:45} “جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے، اسے پڑھئے ۔”

فَٱسْتَمْسِكْ بِٱلَّذِىٓ أُوحِىَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝ وَإِنَّهُۥ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔلُونَ

Quran 43:43,44

“قرآن کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم” پس جو وحی تیری جانب کی گئی ہےتو اسے مضبوط تھامے رہ، یقین مان کہ تو راہ راست پر ہے۔ اور یقیناً (خود) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے”۔

وَإِذَا قُرِئَ ٱلْقُرْءَانُ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥ وَأَنصِتُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

Quran 7:204

قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو: {7:204} “اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو تم اس کی طرف کان لگا ئے رہو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے ”

فَإِذَا قَرَأْتَ ٱلْقُرْءَانَ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ ۝ إِنَّهُۥ لَيْسَ لَهُۥ سُلْطَٰنٌ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

Quran 16:98,99

قرآن پڑھنے سے پہلے اعوذباﷲ پڑھنے کا حکم : {16:98,99} “قرآن پڑھنے کے وقت راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کر لیا کرو(98)ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر زور مطلقًا نہیں چلتا ۔”(99)

وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ ۝ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَٔايَٰتِى وَلَمْ تُحِيطُوا۟ بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۝ وَوَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُوا۟ فَهُمْ لَا يَنطِقُونَ

Quran 27:83-85

قرآن پر عمل کرنے کے بارے میں پرشش ہوگی -{27:83-85} اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروہ کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کر لائیں گے پھر وہ سب کے سب الگ کردیئے جائیں گے ، جب سب کے سب آپہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے میری آیتوں کو باوجودیکہ تمہیں ان کا پورا علم نہ تھا کیوں جھٹلایا ؟ اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کرتے رہے ؟ بسبب اس کے کہ انھوں نے ظلم کیا تھا ان پر بات جم جائے گی اور وہ کچھ بول نہ سکیں گے” –

كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ إِلَيْكَ مُبَٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

Quran 38:29

“یہ قرآن بابرکت کتاب ہے۔ جوهم نے تيري طرف اس لئے نازل فرمائي هےكه لوگ اس كي آيتوں پر غور و فكر كر یں اور عقل مند اس سے نصيحت حاصل كر يں”۔{38:29}

وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

Quran 6:155

“اور اس بابرکت کتاب کو بھی ہم نے نازل فرمایا ہے پس تم اس کی اتباع(پیروی ) کروا اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔”(6:155)

ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ

Quran 7:3

“اسی کی پیروی کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتارا گیاہے، اس کے سوا اور رفیقوں کی تابعداری میں نہ لگ جانا، تم تو بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو”-

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِيهِ ٱخْتِلَٰفًا كَثِيرًا

Quran 4:82

قرآن اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیاگیا ہے ، ہر اختلاف سے پاک ہے : {4:82} “کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔”

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

Quran 15:9

قرآن اﷲ تبارک و تعالیٰ کا نازل کیا ہوا ہے اور اﷲ ہی اسکا محافظ ہے : {15:9} “ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں”۔] قرآن کو دست بردزمانہ سے اور تحریف و تغیر سے بچانا یہ ہمارا کام ہے۔ چنانچہ قرآن آج تک اسی طرح محفوظ ہے جس طرح یہ اترا تھا۔ قرآن کو یہاں ’ذکر‘ (نصیحت) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اہلِ جہاں کے لئے ’ذکر‘ (یاد دہانی اور نصیحت ہونے ) کے پہلو کو نبی ﷺ کی سیرت کے تابندہ نقوش اور آپ کے فرمودات کو بھی محفوظ کرکے، قیامت تک کے لئے باقی رکھا گیا ہے، گو یا یہ قرآن کریم اور سیرت نبوی ؐ کے حوالے سے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کا راستہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے۔ یہ شرف و محفوظیت کا مقام پچھلی کسی بھی کتاب اور رسول کو حاصل نہیں ہوا۔ (یہ اس لئے کہ اسلام آخری دین ہے۔ قرآن آخری کتا ب ہے اور قیامت تک محفوظ رکھی گئی ہے۔ رسول اﷲ ﷺ خاتم النبین ہیں ،آپ ؐ کی سیرت قیامت تک محفوظ رہے گی۔ اس لئے کہ قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے )قرآن کی عظمت کے کئی آیات قرآن میں موجود ہیں جو سبکے سب نہیں لکھے گئے۔ اﷲ سے دُعا ہے کہ مطالعہ بین حضرات اور دیگر مسلم اصحاب کو قرآن پڑھکر سمجھکر عمل کرکے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ![

وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِـَٔايَةٍ قَالُوا۟ لَوْلَا ٱجْتَبَيْتَهَا قُلْ إِنَّمَآ أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ مِن رَّبِّى هَٰذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

Quran 7:203

قرآن ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے ( قیامت تک قرآن خود بہت بڑا معجزہ ہے ): {7:203} “ا ان کے سامنے جب تو کوئی خاص معجزہ پیش نہیں کرتا تو وہ کہتے ہیں کہ تو اسے بھی اپنی طرف سے کیوں نہ چھانٹ لایا؟ جواب دے کہ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری جانب پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے یہ قرآن بصارتوں والا تمہارے رب کی طرف کا موجود ہے جو ایمانداروں کے لئے سراسر ہدایت و رحمت ہے۔”

تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْحَكِيمِ ۝ هُدًى وَرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِينَ ۝ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

Quran 31:2-5

نماز قائم کرنیوالے، زکوٰۃ ادا کرنیوالے اور آخرت پر (کامل) یقین رکھنے والے ہی فلاح پانیوالے ہیں : {31:2-5} “یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں (2)جو نیکوکاروں کے لئے رہبر اور سراسر رحمت ہے(3)جو لوگ نماز وں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں (4)یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں ”۔ (5)

103}:3} “اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالوتفرقہ میں نہ پڑجاؤ”۔] ، حبل اللہ سے مراد عہد اللہ ہے جیسے إلا بحبل من الله الخ، میں "حبل" سے مراد قرآن ہے، ایک ا روایت میں ہے کہ قرآن (کتاب اللہ) آسمان سے زمین کی طرف اللہ تعالی کی طرف سے لٹکائی ہوئی رسی ہے، اور حدیث میں ہے کہ یہ قرآن اللہ سبحانہ کی مضبوط رسی ہے، یہ نور ظاہر ہے سراسر شفا دینے والا اور نفع بخش ہے، اس پر عمل کرنے والے کے لئے یہ بچاؤ ہے، اس کی پیروی کرنے والے کے لئے یہ نجات ہے۔[

121}:2} “جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وہ نقصان والا ہے ”۔

إِنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ لِلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِۦ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ

Quran 39:41

“تجھ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لئے نازل فرمائی ہے۔ پس جو شخص راہ راست پر آ جائے اس کے اپنے لئے نفع ہے اور جو گمراہ ہو جائے اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہے تو ان کا ذمہ دار نہیں ”۔ {39:41}

وَٱلَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِٱلْكِتَٰبِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُصْلِحِينَ

Quran 7:170

“جو کتاب اللہ کو مضبوطی سے لئے رہیں گے اور نماز کی پابندی کریں، یقینا ہم ایسے نیکی اور اصلاح کرنے والوں کا ثواب برباد نہیں کرتے”۔(7:170)

أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ

Quran 7:185

“کیا انہوں نے کبھی آسمان اور زمین کی مملکت میں اور اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز میں کبھی غور نہیں کیا? اور اس بات پر کہ ممکن ہے ان کی اجل ہی قریب آگئی ہو? پھر اب یہ اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے (7:185) ?” ] آسمان و زمین پر بھی غور کریں تو یقینا یہ اﷲ پر ایمان لے آئیں گے۔ اسکے رسول کی تصدیق اور اسکی اطاعت اختیار کر لینگے۔ اور انہوں نے جو اﷲ کے شریک بنا رکھیں ہیں انہیں چھوڑ دیں گے اور اس بات سے ڈریں کہ انہیں موت اس حال میں آجائے کہ وہ کفر پر قائم ہوں۔ حدیث سے مراد یہاں قرآن کریم ہے۔ یعنی نبی ﷺ کے انذار و تہدید اور قرآن کریم کے بعد بھی اگر یہ ایمان نہ لائیں تو ان سے بڑھ کر انہیں ڈرانے والی چیز اور کیا ہوگی جو اﷲ کی طرف سے نازل ہو اور پھر یہ کس پر ایمان لائیں گے؟[

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ حمٓ ۝ تَنزِيلُ ٱلْكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ ۝ إِنَّ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَـَٔايَٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۝ وَفِى خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِن دَآبَّةٍ ءَايَٰتٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ۝ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ ءَايَٰتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ۝ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَ ٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ يُؤْمِنُونَ

Quran 45:1-6

“یہ کتاب اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے ، آسمان اور زمینوں میں ایمانداروں کے لئے یقینا بہت سے دلائل ہیں اور خود تمہاری پیدائش میں، جانوروں کے پھیلانے میں، یقین رکھنے والی قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں ، اور رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ روزہ اللہ تعالی آسمان سے نازل فرما کر زمین کو اس ذی موت کے بعد زندہ کردیتا ہے، اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں بھی ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں دلائل ہیں، یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنہیں ہم تجھے راستی سے سنا رہے ہیں، پس اللہ تعالی اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔” (45:1-6)

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ۝ كُلُوا۟ وَتَمَتَّعُوا۟ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ ۝ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ۝ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرْكَعُوا۟ لَا يَرْكَعُونَ ۝ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ۝ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ

Quran 77:45-50

“(اے جھٹلانے والو تم دنیا میں) تھوڑا سا کھالو برت لو بے شک تم گہنگار ہو. قیامت کے دن کو جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے. جب ان سے کہا جاتاہےکہ رکوع کرلو تو نہیں کرتے. اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے. اب اس قرآن کے بعدکس بات پر ایمان لا ئیں گے?” (77:45-50)

تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَ ٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ يُؤْمِنُونَ ۝ وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ۝ يَسْمَعُ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ۝ وَإِذَا عَلِمَ مِنْ ءَايَٰتِنَا شَيْـًٔا ٱتَّخَذَهَا هُزُوًا أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ۝ مِّن وَرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ وَلَا يُغْنِى عَنْهُم مَّا كَسَبُوا۟ شَيْـًٔا وَلَا مَا ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْلِيَآءَ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۝ هَٰذَا هُدًى وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ

Quran 45:6-11

“یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنہیں ہم تجھے راستی سے سنا رہے ہیں، پس اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان لائیں گے (6) ویل اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر(7) جو اللہ کی آیتیں اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑار ہے کہ گو یا سنی ہی نہیں، تو ایسے لوگوں کو درد دینے والے عذاب کی خبر پہنچادے(8) وہ جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پالیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے یہی لوگ ہیں جن کے لئے رسوائی کی مار ہے(9) ان کے پیچھے دوزخ ہے جو کچھ انہوں نے حاصل کیا تھا وہ انہیں کچھ بھی نفع نہ دے گا اور وہ کچھ کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوار فیق دوست بنارکھا تھا، ان کے لئے تو بہت بڑا عذاب ہے(10) یہ سرتا پاہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کی نہ مانا ان کے لئے بہت سخت درد ناک عذاب ہے(45:6-11)- ”

فَٱصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْعَزْمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍۭ بَلَٰغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

Quran 46:35

“پس (اے پیغمبر!) تم ایسا صبر کرو جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا اور ان کے لئے عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کرو یہ جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وعدہ دیئے جاتے ہیں تو ( یہ معلوم ہونے لگے گا کہ ) دن کی ایک گھڑی ہی ( دنیا میں ) ٹہرے ر ہے تھے یہ ہے پیغام پہنچا دینا- بدکاروں کے سوا کوئی ہلاک نہ کیا جائے گا(46:35)- ”

3.12 اُسوۂ حسنہ: رسول اللہ ایمان والوں کے لئے بہترین نمونہ:

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرًا

Quran 33:21 · 3.12.i

33:21}} اُسوۂ حسنہ: بہترین نمونہ: {33:21} “یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے ، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے”-

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

Quran 49:1 · 3.12.ii

اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو،یقیناً اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے”۔ (49:1)

ٱلنَّبِىُّ أَوْلَىٰ بِٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمْ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُهَٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفْعَلُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِكُم مَّعْرُوفًا كَانَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْكِتَٰبِ مَسْطُورًا

Quran 33:6 · 3.12.iii

محبت رسولﷺ کیا ہے؟: {33:6} “پیغمبر مؤمنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں” ۔۔ حدیث شریف:’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔ (صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 31، شعبہ الایمان بیہقی جلد 3 صفحہ 422) [

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

Quran 33:56 · 3.12.iv

نبی ﷺ پر اﷲ اور فرشتے دورد و سلام بھیجتے ہیں: {33:56} “اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو ۔” ] طبری)رح(فرما تے ہیں، بہت سے ایسے اوقات ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا ہمیں حکم ملا ہے لیکن بعض وقت واجب ہے۔ اور بعض جگہ واجب نہیں۔[

مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ كَىْ لَا يَكُونَ دُولَةًۢ بَيْنَ ٱلْأَغْنِيَآءِ مِنكُمْ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

Quran 59:7 · 3.12.v

اسلام میں محمد ﷺ کا مقام : {59:7} “تمہیں جو کچھ رسول د یں لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ- اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيْتَ ٱلْمُنَٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا

Quran 4:61 · 3.12.vi

احکام رسول ﷺ سے سرتابی کفر ہے : “ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ تو دیکھ لےگا کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر ٹک جاتے ہیں ”۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًۢا ۝ بَشِّرِ ٱلْمُنَٰفِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

Quran 4:137,138 · 3.12.vii

ایمان لاکر کفر کرنیکا عذاب : {4:137,138} “جن لوگوں نے ایمان قبول کرکے پھر کفر کیا، پھر ایمان لا کر پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے اللہ تعالیٰ یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راہ ہدایت سمجھائے گا۔(137)منافقوں کو اس امر کی خبر پہنچا دو کہ ان کے لئے دردناک عذاب یقینی ہے”۔

3.13 مشرکوں کا اصرار کہ معجزہ دکھاؤ-

وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِى مَا ٱلْكِتَٰبُ وَلَا ٱلْإِيمَٰنُ وَلَٰكِن جَعَلْنَٰهُ نُورًا نَّهْدِى بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝ صِرَٰطِ ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ أَلَآ إِلَى ٱللَّهِ تَصِيرُ ٱلْأُمُورُ

Quran 42:52,53 · 3.13.i

وحی (قرآن) کے آنے سے پہلے رسول اﷲ ﷺ جانتے ہی نہ تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے ؟“اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے ؟ لیکن ہم نے اسے نور بناکر اس کے ذریعے سے جسے چاہا ہدایت دیدی، بیشک آپ راہ راست کی رہنمائی کر رہے ہیں(52)یہ اس اللہ کی راہ ہےجس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ آگاہ رہو سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔” (53) ] روح سے مراد قرآن ہے یعنی جس طرح آپؐ سے پہلے اور رسولوں پر ہم وحی کرتے رہے، اسی طرح ہم نے آپؐ پر قرآن کی وحی کی ہے۔ قرآن کو روح سے اس لئے تعبیر کیا ہے کہ قرآن سے دلوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے۔ جیسے روح میں انسانی زندگی کا راز مضمر ہے۔ کتا ب سے مراد قرآن ہے یعنی نبوت سے پہلے قرآن کا بھی کوئی علم آپکو نہیں تھا۔ اور اسی طرح ایمان کی ان تفصیلات سے بھی بے خبر تھے جو شریعت میں مطلوب ہیں۔ قرآن کو نور بنایا، اسکے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے ہم جس کو چاہتے ہیں ہدایت سے نوازتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن سے ہدایت و رہنمائی انہی کو ملتی ہے جن میں ایمان کی طلب اور تڑپ ہوتی ہے۔ وہ اس طلبِ ہدایت کی نیت سے پڑھتے ، سنتے اور غور و فکر کرتے ہیں، چنانچہ اﷲ ان کی مدد فرماتا ہے اور ہدایت کا راستہ ان کے لئے ہموار کردیتا ہے۔ جس پہ وہ چل پڑتے ہیں، ورنہ جو اپنی آنکھوں کو ہی بند کرلیں، کانوں میں ڈاٹ لگالیں اور عقل و فہم کو ہی بروئے کار نہ لائیں تو انہیں ہدایت کیوں کر نصیب ہو سکتی ہے۔ [

وَقَالُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةً وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 6:37 · 3.13.ii

{6:37} رسول اﷲ ﷺ سے مشرکین کا اصرار کہ کوئی معجزہ دکھاؤ، اور اﷲ کا جواب : “کہتے ہیں اس پر (نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر) کوئی نشاني کیوں نہیں اتاری گئی ؟ تو جواب دے کہ اللہ ہر نشاني کے اتارنے پر قادر ہے مگر ان میں سے اکثر بے علم ہیں ”-

قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحْزُنُكَ ٱلَّذِى يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

Quran 6:33 · 3.13.iii

اﷲ کا جواب : “ہمیں بخوبی علم ہے کہ تمہیں ان کی باتیں رنجیدہ کرتی ہیں، یقین رکھو کہ درحقیقت یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں”۔

وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ ٱسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقًا فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِى ٱلسَّمَآءِ فَتَأْتِيَهُم بِـَٔايَةٍ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى ٱلْهُدَىٰ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

Quran 6:35 · 3.13.iv

“اگر ان کی سرتابی تجھ پر گراں گذر رہی ہے تو اگر تجھ سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ لگا کر یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگا کر انہیں کوئی معجزہ لادے، اگر اللہ کو منظور ہوتا تو ان سب کو راہ راست پر جمع کر دیتا خبر دار کہیں تو جاہلوں میں سے نہ ہوجانا”۔ {6:35}

إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَٰقُهُمْ لَهَا خَٰضِعِينَ

Quran 26:4 · 3.13.v

“اگر ہم چاہتے تو جو چاہے نشانی آسمان سے اتار دیتے کہ ان کی گردنیں خم ہو جائیں : {26:4} “اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشاني اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہوجاتیں”۔

أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ

Quran 7:185 · 3.13.vi

کائنات کی تخلیق اور قرآن معجزہ ہیں۔(7:185) کیا انہوں نے کبھی آسمان اور زمین کی مملکت میں اور اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز میں کبھی غور نہیں کیا? اور اس بات پر کہ ممکن ہے ان کی اجل ہی قریب آگئی ہو? پھر اب یہ اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے?” ] آسمان و زمین پر بھی غور کریں تو یقینا یہ اﷲ پر ایمان لے آئیں گے۔ اسکے رسول کی تصدیق اور اسکی اطاعت اختیار کر لینگے۔ اور انہوں نے جو اﷲ کے شریک بنا رکھیں ہیں انہیں چھوڑ دیں گے اور اس بات سے ڈریں کہ انہیں موت اس حال میں آجائے کہ وہ کفر پر قائم ہوں۔ حدیث سے مراد یہاں قرآن کریم ہے۔ یعنی نبی ﷺ کے انذار و تہدید اور قرآن کریم کے بعد بھی اگر یہ ایمان نہ لائیں تو ان سے بڑھ کر انہیں ڈرانے والی چیز اور کیا ہوگی جو اﷲ کی طرف سے نازل ہو اور پھر یہ کس پر ایمان لائیں گے؟[

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ وَلَئِن جِئْتَهُم بِـَٔايَةٍ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ ۝ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 30:58,59 · 3.13.vii

جو سمجھنا نہیں چاہتے اللہ ان کے دلوں پر مہر کر دیتا ہے: {30:58,59} “بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے سامنے کل مثالیں بیان کر دی ہیں ، آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لائیں یہ کافر تو یہی کہیں گے کہ تم بیہودہ گو بالکل جھوٹے ہو۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے یوں ہی مہر لگا دیتا ہے”۔

3.14 سب قوموں نے اپنے اپنے رسول کو جھٹلایا مرنے کے بعد قیامت میں دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں یقین نہیں رکھتے تھے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَٰهُم بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ ۝ فَلَوْلَآ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا۟ وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

Quran 6:42,43 · 3.14.i

“اور ہم نے تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف اپنے رسول بھیجے، آخر ہم نے انہیں تنگی اور تکلیف میں مبتلا کردیا تاکہ وہ عاجزی کریں (42) ، پھر عذاب کے ان کے پاس آچکنے کے بعد بھی انہوں نے عاجزی کیوں نہ کی۔لیکن ان کے دل سخت ہوگئے اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں ، اسے شیطان نے ان کی نظر میں زینت دے دی، جو نصیحت انہیں کی گئی تھی”۔

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَثَمُودُ ۝ وَقَوْمُ إِبْرَٰهِيمَ وَقَوْمُ لُوطٍ ۝ وَأَصْحَٰبُ مَدْيَنَ وَكُذِّبَ مُوسَىٰ فَأَمْلَيْتُ لِلْكَٰفِرِينَ ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ۝ فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ ۝ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَآ أَوْ ءَاذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى ٱلْأَبْصَٰرُ وَلَٰكِن تَعْمَى ٱلْقُلُوبُ ٱلَّتِى فِى ٱلصُّدُورِ

Quran 22:42-46 · 3.14.ii

“اگر یہ لوگ تجھے جھٹلا ئیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور عاد اور ثمود (42) اور قوم ابراہیم اور قوم لوط اور مدین والے بھی اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں موسیٰ بھی جھٹلائے جاچکے ہیں تو میں نے کافروں کو یونہی مہلت دی۔ پھر انہیں دھرد بایا پھر میر اعذاب کیسا ہوا؟(43) بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہہ وبالا کر دیا اس لئے کہ وہ ظالم تھے۔ پس وہ اپنی چھتوں کے بل اوندھی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنویں بے کام پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں(44) کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی؟ جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان واقعات کو سن لیتے بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں (22:42-46)

أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعْجِزَهُۥ مِن شَىْءٍ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا

Quran 35:44 · 3.14.iii

“کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے جو لوگ ان سے بہت زیادہ قوی اور زور آور تھے ان کا کیا کچھ انجام ہوا؟ یاد رکھو آسمان وزمین میں کوئی چیز اللہ کو ہر گز عاجز نہیں کر سکتی۔ وہی تو پورے علم والا اور کامل قدرت والا ہے” ۔(35:44)

جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّنَ ٱلْأَحْزَابِ ۝ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو ٱلْأَوْتَادِ ۝ وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَٰبُ لْـَٔيْكَةِ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلْأَحْزَابُ

Quran 38:11-13 · 3.14.iv

“ان سے پہلے بھی قوم نوح نے اور عادیوں نے اور میخوں والے فرعون نے جھٹلایا تھا(11) اور عمودیوں نے اور قوم لوط نے اور ایکہ کے رہنے والوں نے بھی۔ یہی بڑے بڑے لشکر تھے (12) ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہو پس میری طرف کی سزا ان پر ثابت ہو گئی(38:11-13)- ”

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَٰبُ ٱلرَّسِّ وَثَمُودُ ۝ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَٰنُ لُوطٍ ۝ وَأَصْحَٰبُ ٱلْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ كُلٌّ كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ ۝ أَفَعَيِينَا بِٱلْخَلْقِ ٱلْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِى لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ

Quran 50:12-15 · 3.14.v

“ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں نے اور ثمود یوں نے () اور عادیوں نے اور فرعون نے اور برادران لوط نے() اور ا یکہ والوں نے اور تبع کی قوم نےبھی تکذیب کی تھی سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا پس میرا وعدہ عذاب ان پر صادق آگیا() کیا پس ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں-” :

فَٱصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ

Quran 40:77 · 3.14.vi

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت “ (40:77):پس تو صبر کر اللہ کا وعدہ قطعا سچا ہے۔ انہیں ہم نے جو وعدے دے رکھے ہیں ان میں سے کچھ ہم تجھے دکھا ئیں تو یا یونہی تجھے ہم فوت کر لیں تو ان کا لوٹا یا جاتا تو ہماری ہی طرف ہے”۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُم مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِىَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ فَإِذَا جَآءَ أَمْرُ ٱللَّهِ قُضِىَ بِٱلْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلْمُبْطِلُونَ

Quran 40:78 · 3.14.vii

“یقینا ہم تجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے واقعات ہم تجھے سنا چکے ہیں اور ان سے بعض کے قصے تو ہم نے تجھے سنائے ہی نہیں۔ کسی رسول کا یہ مقدور نہ تھا کہ کوئی معجزہ اللہ کی اجازت کے بغیر لا سکے۔ پھر جس وقت اللہ کا حکم آئے گا، حقانیت کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس جگہ اہل باطل خسارے میں رہ جائیں گے”-

قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلُ كَانَ أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ ۝ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ ٱلْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۝ مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥ وَمَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ ۝ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن فَضْلِهِۦٓ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْكَٰفِرِينَ

Quran 30:42-45 · 3.14.viii

{30:42-45}“زمین پر چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ اگلوں کا انجام کیا ہوا؟ جن میں اکثر لوگ مشرک تھے (42)پس تو اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھ اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جس کی بازگشت اللہ کی طرف سے ہے ہی نہیں ۔ اس دن سب متفرق ہو جائیں گے (43)کفر کرنے والوں پر ان کا کفر ہوگا، اور نیک عمل کرنے والے اپنی ہی آرام گاہ سنوار رہے ہیں (44)تا کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ کافروں کو دوست رکھتا ہی نہیں-”

3.15 لوگ (اہل کتاب) آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے-

وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ لَئِن جَآءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى ٱلْأُمَمِ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا

Quran 35:42 · 3.15.i

“پہلے تو یہ لوگ تاکیدی قسمیں کھا رہے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آجا تا تو یہ ہر ایک امت سے زیادہ راہ یافتہ ہوتے ۔ پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا پیغمبر آ گیا تو یہ تو اور بھی بیزاری اور بدکنے میں بڑھ گئے”۔ (35:42)

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ۝ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ

Quran 9:128,129 · 3.15.ii

پیغمبر محمد ﷺ کی آمد کا اعلان (9:128,129): “لوگو تمہارے پاس تم میں سے ہی ایک رسول آگئے ہیں۔ جن پر تمہاری تکلیف بہت ہی دشوار گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے خواہاں ہیں۔ جو مسلمانوں پر بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں(128)تو اس پر بھی اگر یہ پھر جائیں تو اعلان کردے کہ مجھے اللہ کافی ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے (129)”۔ ] آپ کی لائی ہوئی شریعت اور دین رحمت ہے ۔ (حدیث شریف: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ آیت حسبی الله (الآیہ) صبح اور شام سات سات مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے فکر و مشکلات کو کافی ہو جائے گا )۔ (سنن ابی داؤد نمبر: 5081)[

ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

Quran 7:157 · 3.15.iii

“جو اس پیغمبر نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جس کے اوصاف اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھے ہوئے پاتے ہیں جو انہیں اچھائیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور پاک چیزیں ان پر حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے اور ان سے ان کے بوجھ اتارتا ہے اور وہ طوق بھی جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئےتھے، پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی عزت اور مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اتارا گیا، وہی کامیاب نجات یافتہ ہیں”۔ (7:157)

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ ٱلْكِتَٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم مِّنْهُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ ۝ لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّآ أَذًى وَإِن يُقَٰتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ ٱلْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ ۝ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوٓا۟ إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ ٱلنَّاسِ وَبَآءُو بِغَضَبٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْمَسْكَنَةُ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

Quran 3:110-112 · 3.15.iv

“تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے ہی پیدا کی گئی ہے۔ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر تھا، ان میں ایمان والے بھی ہیں لیکن اکثر تو فاسق ہیں (110)یہ لوگ تمہیں ستانے کے سوا اور زیادہ کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے، اگر لڑائی کا موقعہ آجائے تو پیٹھ موڑ لیں گے پھر مدد نہ کئے جائیں گے۔(111) ہر جگہ ہی ذلیل ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالی کی یالوگوں کی پناہ میں ہوں۔ یہ اللہ کے غضب کے مستحق ہو گئے اور ان پر فقیری ڈال دی گئی یہ اس لئے کہ یہ لوگ اللہ تعالی کی آیتوں سے کفر کرتے تھے اور بے وجہ انبیاء کوقتل کرتے تھے یہ بدلہ ہے ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا(3:110-112)- ”

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَٰهُمْ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

Quran 5:65 · 3.15.v

“یہ اہل کتاب ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں معاف فرمادیتے اور ضرور انہیں راحت و آرام کی جنتوں میں لے جاتے”۔(5:65)

وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا۟ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُونَ

Quran 5:66 · 3.15.vi

“اور اگر یہ لوگ توریت و انجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے ان پر پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے۔ باقی ان میں کے اکثر لوگوں کے بڑے برے اعمال ہیں -” (5:66)

يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُۥ وَٱللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

Quran 5:67 · 3.15.vii

“اے رسول پہنچا دے جو کچھ بھی تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تو نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی، تجھے اللہ تعالی لوگوں سے بچالے گا بے شک اللہ تعالیٰ کا فرلوگوں کی رہبری نہیں کرتا”۔ (5:67)

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًا وَكُفْرًا فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

Quran 5:68 · 3.15.viii

“کہہ دے کہ اے اہل کتاب تم دراصل کسی چیز پر نہیں ہو جب تک کہ توریت وانجیل پر اور جو کچھ تمہاری طرف رب کی طرف سے اتارا گیا ہے قائم نہ ہو جاؤ ۔ جو کچھ تیری جانب تیرے رب کی طرف سے اترا ہے وہ ان میں سے اکثر کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا ہی تو تو ان کافروں پر غمگین نہ ہو”۔ (5:68)

لَّقَدْ صَدَقَ ٱللَّهُ رَسُولَهُ ٱلرُّءْيَا بِٱلْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَامَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا۟ فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَٰلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا

Quran 48:27 · 3.15.ix

“یقینا اللہ تعالی نے اپنے رسول کے مطابق واقعہ خواب سچا کر دکھایا کہ ان شاء اللہ تم یقینا پورے امن و امان کے ساتھ مسجد حرام میں جاؤ گے سر منڈواتے ہوئے اور سر کے بال کتر واتے ہوئے چین کے ساتھ نڈر ہو کر وہ ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی”۔(48:27)

يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ ۝ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ

Quran 61:8,9 · 3.15.x

{61;8,9} “وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین ناخوش ہوں”۔{61:8,9}

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرَىٰهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًا سِيمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمَثَلُهُمْ فِى ٱلْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسْتَغْلَظَ فَٱسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعْجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلْكُفَّارَ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًۢا

Quran 48:29 · 3.15.xi

“محمد(صلى الله عليه وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں۔ تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں پس ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے ان کی یہی صفت تو رات میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں ہے مثل اس کھیتی کے جس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہو گیا، پھر اپنی جز پر سیدھا کھڑا ہو گیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تا کہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے ان ایمان والوں اور شائستہ اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے”۔(48:29)

3.16 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حنیف پر رہنے کا حکم -

قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمْ فِى شَكٍّ مِّن دِينِى فَلَآ أَعْبُدُ ٱلَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِنْ أَعْبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۝ وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۝ وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

Quran 10:104-106

“اعلان کر دے کہ اے لوگو اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو میں تو ان کی عبادت کرنے کا نہیں جن کی عبادت تم اللہ کو چھوڑ کر کر رہے ہو بلکہ میں تو اسی اپنے اللہ کی عبادت کرتا رہوں گا جو تمہیں وفات دیتا ہے۔ مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں با ایمان ہی رہوں(104) اور یہ کہ اپنا منہ اسی دین کی طرف سیدھا رکھ۔ مخلص ہو کر اور ہرگز مشرکوں کے گروہ میں سے نہ ہونا (105)اللہ کے سوا کسی اور سے دعا نہ کر جو نہ تجھے نفع دے سکے نہ نقصان پہنچا سکے اگر تو نے ایسا کیا تو پھر تو تو یقینا ظالموں میں سے ہی ہو جائے گا”.-

3.17 جنات بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے –

وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ ٱلْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقُرْءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓا۟ أَنصِتُوا۟ فَلَمَّا قُضِىَ وَلَّوْا۟ إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ

Quran 46:29 · 3.17.i

“اور یاد کر جب کہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا وہ قرآن سن رہے تھے پس جب نبی کے پاس پہنچ گئے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے خاموش ہو جاؤ پھر جب ختم ہو گیا تو اپنی قوم کو آگاہ کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے” ۔ (46:29)

قَالُوا۟ يَٰقَوْمَنَآ إِنَّا سَمِعْنَا كِتَٰبًا أُنزِلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ

Quran 46:30 · 3.17.ii

“کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقینا وہ کتاب سنی ہے جو موسی کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو بچے دین کی اور راہ راست کی رہبری کرتی ہے(46:30)- ”

يَٰقَوْمَنَآ أَجِيبُوا۟ دَاعِىَ ٱللَّهِ وَءَامِنُوا۟ بِهِۦ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ

Quran 46:31 · 3.17.iii

“اے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو اس پر ایمان لاؤ تو اللہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناہ دے گا(46:31)”

يَٰقَوْمَنَآ أَجِيبُوا۟ دَاعِىَ ٱللَّهِ وَءَامِنُوا۟ بِهِۦ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ

Quran 46:31 · 3.17.iv

(46:32) ” اور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وہ زمین میں کہیں بھاگ کر اللہ کو تھکا نہیں سکتا اور نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مددگار ہوں گے یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں ”۔

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ بَلَىٰٓ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Quran 46:33 · 3.17.v

“کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کے پیدا کرنے سے وہ نہ تھکا وہ یقینا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے ” (46:33)

وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيْسَ هَٰذَا بِٱلْحَقِّ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

Quran 46:34 · 3.17.vi

“بے شک وہ ایساہی ہے وہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا جس دن جہنم کے سامنے لائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی حق ہے۔ اللہ فرمائے گا اب اپنے کفر کے بدلے کے عذاب کا مزہ چکھو(46:34)- ”

3.18 مومنوں کو دنیا و آخرت کی خوشخبریاں-

بَلِ ٱللَّهُ مَوْلَىٰكُمْ وَهُوَ خَيْرُ ٱلنَّٰصِرِينَ

Quran 3:150 · 3.18.i

“بلکہ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہی بہترین مددگار ہے”۔ (3:150)

مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

Quran 16:97 · 3.18.ii

“جو شخص نیک عمل کرلے مرد ہو یا عورت ہو لیکن ہو باایمان تو ہم یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انھیں دیں گے”۔ (16:97)

إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ

Quran 16:128 · 3.18.iii

“یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے”۔ (16:128)

إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ۝ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَخْشَ ٱللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ

Quran 24:51,52 · 3.18.iv

“ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انھیں اس لیے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا ، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرمان برداری کریں، خوف الٰہی رکھیں اور اس کے عذابوں سے ڈرتے رہیں، وہی نجات پانے والے ہیں” ۔ {24:51,52}

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ كَمَا ٱسْتَخْلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ ٱلَّذِى ٱرْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِى لَا يُشْرِكُونَ بِى شَيْـًٔا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

Quran 24:55 · 3.18.v

“تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں، اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ انھیں ضرور ملک کا حاکم بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو حاکم بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے یقیناً ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف و خطر کو وہ امن وامان سے بدل دے گا کہ میری عبادت کرتے رہیں گے، میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے، اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں” ۔ (24:55)

مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ

Quran 40:40 · 3.18.vi

“اور جس نے نیکی کی ہے خواہ وہ مرد ہو خواہ عورت اور ہو ایماندارتو یہ لوگ وہ ہیں جو جنت میں جائیں گے اور وہاں بیشمار روزی پائیں گے ”۔(40:40)

إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ ٱلْأَشْهَٰدُ

Quran 40:51 · 3.18.vii

“یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے ”۔ (40:51)

إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُوا۟ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَبْشِرُوا۟ بِٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ ۝ نَحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِىٓ أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ۝ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ

Quran 41:30-32 · 3.18.viii

“جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے ، پھر اسی پر قائم رہے، ان کے پاس فرشتے یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو بلکہ اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو ۔تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے ۔جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب جنت میں موجود ہے۔ غفور و رحیم اللہ کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے”۔ (41:30-32)

إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُوا۟ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

Quran 46:13,14 · 3.18.ix

“بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پالنے والا اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم گین ہوں گے ۔یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے”۔ (46:13,14)

3.19 مومن کی آزمائش کی جاتی ہے-

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ ۝ ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَٰتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ

Quran 2:155-157 · 3.19.i

“اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ہی لیا کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔انہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں”۔ {2:155-157}

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ ٱلْبَأْسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوا۟ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصْرُ ٱللَّهِ أَلَآ إِنَّ نَصْرَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ

Quran 2:214 · 3.19.ii

“کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے؟ حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے ۔ انھیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے”۔ (2:214)

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ ٱلصَّٰبِرِينَ

Quran 3:142 · 3.19.iii

“کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے یہ معلوم نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں-”

أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتْرَكُوٓا۟ أَن يَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ۝ وَلَقَدْ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ وَلَيَعْلَمَنَّ ٱلْكَٰذِبِينَ

Quran 29:2,3 · 3.19.iv

“کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں، ہم انھیں بغیر آزمائے ہی چھوڑ دیں گے ؟ (2) ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا یقیناً اللہ تعالیٰ انھیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انھیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں”۔ (3)

3.20 اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا -

لَّقَدْ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا۟ وَقَتْلَهُمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ ۝ ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ

Quran 3:181,182 · 3.20.i

“یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں ، ان کے اس قول کو ہم لکھ لیں گے اور ان کا انبیاء کو قتل کرنا بھی اور ہم ان سے کہیں گے کہ جلنے والا عذاب چکھو۔یہ ہے بدلہ اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے پہلے بھیجا ، اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں”۔ (3:181,182)

أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَٰهِيمَ وَأَصْحَٰبِ مَدْيَنَ وَٱلْمُؤْتَفِكَٰتِ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

Quran 9:70 · 3.20.ii

“کیا انھیں اپنے سے پہلے کے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں، قوم نوح اور عاد و ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل موتفکات، ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے، اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ انھوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا”۔ (9:70)

وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِىٓ أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِنَا وَمَا كُنَّا مُهْلِكِى ٱلْقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَٰلِمُونَ

Quran 28:59 · 3.20.iii

“تیرا رب کسی ایک بستی کو بھی اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بڑی بستی میں اپنا کوئی پیغمبر نہ بھیج دے جو انھیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے ، ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب کہ وہاں والے ظلم و ستم پر کمر کس لیں” ۔ (28:59)

وَقَٰرُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَٰمَٰنَ وَلَقَدْ جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كَانُوا۟ سَٰبِقِينَ ۝ فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنۢبِهِۦ فَمِنْهُم مَّنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَمِنْهُم مَّنْ أَخَذَتْهُ ٱلصَّيْحَةُ وَمِنْهُم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ ٱلْأَرْضَ وَمِنْهُم مَّنْ أَغْرَقْنَا وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

Quran 29:39,40 · 3.20.iv

“ اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی، ان کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے پھر بھی انھوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے ۔()پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کرلیا ، ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا ، اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا ، اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا اللہ تعالیٰ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے”۔(29:39,40)

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

Quran 16:118 · 3.20.v

“یہودیوں پر جو کچھ ہم نے حرام کیا تھا اسے ہم پہلے ہی سے آپ کو سنا چکے ہیں، ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے”۔

مَّنْ عَمِلَ صَٰلِحًا فَلِنَفْسِهِۦ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّٰمٍ لِّلْعَبِيدِ

Quran 41:46 · 3.20.vi

“جو شخص نیک کام کرے گا، وہ اپنے نفع کے لیے اور جو برا کام کرے گا، اس کا وبال بھی اسی پر ہے، تیرا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ”۔(41:46)

3.21 کیسے لوگوں کے دل پر اللہ تعالی مہر کر دیتا ہے-

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۝ خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

Quran 2:6,7 · 3.21.i

“جن کافروں کو آپ کا ڈرانا، یا نہ ڈرانا برابر ہے، یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ، ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے” ۔(2:6,7)

أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ أَهْلِهَآ أَن لَّوْ نَشَآءُ أَصَبْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

Quran 7:100 · 3.21.ii

“اس زمین پر رہنے سہنے والوں کے بعد جو اس کے وارث بنتے ہیں، کیا انہیں بھی یہ ہدایت نہیں ہوتی کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں بھی ان کی بدکرداریوں پر عذاب کریں اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ یہ سنیں ہی نہیں”۔ (7:100)

تِلْكَ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآئِهَا وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ مِن قَبْلُ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْكَٰفِرِينَ

Quran 7:101 · 3.21.iii

“یہ ہیں وہ بستیاں جن کے کچھ حالات ہم تجھے سنارہے ہیں ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانات لے کر پہنچ چکے لیکن جسے وہ اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے اسے مان کرہی نہ دیا، منکروں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ اسی طرح مہر کر دیا کرتا ہے-” (7:101)

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ

Quran 10:74 · 3.21.iv

“جو ہماری آیتوں کو جھٹلا رہے تھے، تو آپ دیکھ لے کہ جنہیں ڈرایا گیا تھا، ان کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ نوح کے بعد بھی ہم نے پیغمبروں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس دلیلیں لے کر پہنچے مگر جس چیز کو وہ پہلے سے جھٹلا چکے تھے، اس پر ایمان لانے کے لئے وہ تیار نہ ہوئے، حد سے نکل جانے والوں پر ہم اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں”۔(10:74)

ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِىٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَٰنٍ أَتَىٰهُمْ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ

Quran 40:35 · 3.21.v

“جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں ، اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضگی کی چیز ہے ، اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر ایک مغرور سرکش کے دل پر مہر کردیتا ہے”۔(40:35)

3.22 اللہ کے نزدیک عقل والے کون؟

يُؤْتِى ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ وَمَن يُؤْتَ ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِىَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

Quran 2:269 · 3.22.i

“جس کو حکمت عطا کی گئی اس کو خیر کثیر مل گیا “(2:269):وہ جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جوشخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وہ بہت ساری بھلائی دیا گیا اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔”

إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَـَٔايَٰتٍ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ۝ ٱلَّذِينَ يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَٰطِلًا سُبْحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

Quran 3:190,191 · 3.22.ii

“آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقینا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں(190) جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں، کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے اور آسمان وزمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں ) اے ہمارے پروردگار تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا تو پاک ہے پس ہمیں عذاب آگ سے بچالے”۔(3:190,191)

كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ إِلَيْكَ مُبَٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

Quran 38:29 · 3.22.iii

“یہ بابرکت کتاب جو ہم نے تیری طرف اس لئے نازل فرمائی ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کر لیں اور عقل مند اس سے نصیحت حاصل کرلیں-” (38:29)

أَمَّنْ هُوَ قَٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ سَاجِدًا وَقَآئِمًا يَحْذَرُ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَيَرْجُوا۟ رَحْمَةَ رَبِّهِۦ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

Quran 39:9 · 3.22.iv

“بھلا جو شخص راتوں کے وقت سجدے اور قیام کی حالت میں عبادت گزار ہتا ہو آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہوبتلا و تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہوں-” (39:9)

وَٱلَّذِينَ ٱجْتَنَبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ لَهُمُ ٱلْبُشْرَىٰ فَبَشِّرْ عِبَادِ

Quran 39:17 · 3.22.v

“جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے پر ہیز کیا اور ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ر ہے وہ خوش خبری سےمستحق ہیں پس میرے بندوں کو خوشخبری سنادے”۔

ٱلَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُۥٓ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمْ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

Quran 39:18 · 3.22.vi

“جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو اس پر عمل کرتے ہیں یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقل مند بھی ہیں -”(39:18)

أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهُۥ يَنَٰبِيعَ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَٰنُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُۥ حُطَٰمًا إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ

Quran 39:21 · 3.22.vii

“کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالی آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچا تا ہے۔ پھر اسی کے ذریعے سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا ہے۔ پھر وہ خشک ہو جاتی ہیں اور تو ا نہیں زردرنگ دیکھتا ہے۔پھر انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے اس میں عقل مندوں کے لئے بڑی بھاری عبرت ہے”۔ (39:21)

وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِۦ فَحَاسَبْنَٰهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا ۝ فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَٰقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا ۝ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَدْ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا

Quran 65:8-10 · 3.22.viii

“اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور ان دیکھی آفت ان پر ڈال دی۔(8)پس انھوں نے اپنے کرتوت کا وبال چکھ لیا اور انجام کار ان کا خسارہ ہی ہوا۔(9) ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل مند ایمان والو۔ یقیناً اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتار دی ہے”۔

أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَدْ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا ۝ رَّسُولًا يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَٰتٍ لِّيُخْرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعْمَلْ صَٰلِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا قَدْ أَحْسَنَ ٱللَّهُ لَهُۥ رِزْقًا

Quran 65:10-11 · 3.22.ix

“ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل مند ایمان والو۔ یقیناً اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتار دی ہے۔ (10)یعنی رسول جو تمہیں اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں وہ تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں، جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے” (65:10-11) ۔ ٭٭٭ فہرست آیات کے خاکے نمبر شمار عنوانات صفحہ نمبر 1 1.1 الله نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا یقیننا تم سب کا معبودایک ہی ہے آسمانوں زمینوںاور ان کے درمیان کی تمام چیزوںاور مشرقوںکا رب وہی ہے 153 2 1.2 معبودانِ باطل کی مثال 154 3 1.3 اللہ پاک ہے ہر اس چیز سے جو یہ مشرک بیان کرتے ہیں۔ 155 4 1.4 شرک سے بچنے کی تاکید 156 5 1.5 اللہ کی شان 157 6 1.6 اللہ کی قدرت کی نشانیاں۔ 158 7 1.7 زمین آسمان اور ان کے درمیان سب چیزوں کا مالک کون ہے؟ جوا ب اللہ ۔ 158 8 1.8 اللہ تعالی کے علاوہ کس کی قدرت ہے۔ جو یہ کرے؟ 159 9 1.9 اللہ تعالی ساری کائنات کو انسان کے تابع کر دیا۔ 160 10 1.10 زمین آسمان اور اس کے درمیان مخلوق کو پیدا کرنے کا مقصد 160 11 1.11 رسول کو بھیجنے کا مقصد ۔ ایک اللہ کی عبادت سکھانا ۔ 162 12 1.12 قیامت کے دن مشرکوں کے معبودا ور شرک کرنے والوں کا حال: 162 13 1.13 قیامت کے دن مشرکوں کا حال: -1 مشرکوں کا رشتہ ان کے معبودوں سے ٹوٹ جائے گا 162 14 1.14 قیامت کے دن مشرکوں کا حال: -2 حشر کے دن مشرکوں کے معبود ان کے ماننے والے کے دشمن ہو جائیں گے۔ 162 15 1.15 قیامت کے دن مشرکوں کا حال -3 حشر کے دن مشرکوں اور ان کے معبدوں کی گفتگو۔ 163 16 1.16 قیامت کے دن مشرکوں کا حالجو لوگ شرک کر کے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں، ان سے کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا۔ 163 17 2.1 اللہ سے شیطان کا مکالمہ 164 18 2.2 قوموں کا رسولوں کو جھٹلا نا اور ان پر عذاب

← Chapter 2Chapter 4 →