Quran Way of Life
ReadSearch
Arabic text: Tanzil Project (tanzil.net) — verified Uthmani text, reproduced verbatim.

Chapter 2

آدم علیہ السلام سے حضرت عیسی علیہ السلام تک قرآنی تذکرے

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَآءً وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِى تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلْأَرْحَامَ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا

Quran 4:1

“لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک شخص سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو ، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔”(4:1) آدمؑ کی تخلیق اور سب فرشتوں کو سجدے کا حکم۔ ابلیس کا سجدے سے انکار، آدمؑ کو بہکا کر جنت سے نکلوایا۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کی توبہ قبول کی اور نصیحت کی۔

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّى جَاعِلٌ فِى ٱلْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوٓا۟ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ ٱلدِّمَآءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ۝ وَعَلَّمَ ءَادَمَ ٱلْأَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِـُٔونِى بِأَسْمَآءِ هَٰٓؤُلَآءِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ۝ قَالُوا۟ سُبْحَٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَآ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ۝ قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ أَنۢبِئْهُم بِأَسْمَآئِهِمْ فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُم بِأَسْمَآئِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ غَيْبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ۝ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ ۝ وَقُلْنَا يَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ فَأَزَلَّهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍ ۝ فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ۝ قُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

Quran 2:30-39

آدم کی تخلیق ، تمام فرشتوں کو سجدہ کا حکم ، شیطان تکبر کیا، سجدہ سے انکار کیا، کافروں میں سے ہوگیا، آدم سے دشمنی کی، آدم کو بہکاکر جنت سے نکلوا دیا: {2:30-39} “اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے اورہم تیری تسبیح ،حمد اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے (30)اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے (31)ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم و حکمت والا تو تو ہی ہے(32)اللہ تعالیٰ نے (حضرت) آدم (علیہ السلام) سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دئیے تو فرمایا کہ میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا كه زمین اور آسمان کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(33)اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں سے (34)اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو؛ لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ظالم ہو جاؤ گے(35)لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے(36)حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی، وہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے(37)ہم نے کہا تم سب یہاں سے چلے جاؤ، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف و غم نہیں ہوگا(38)اور جو انکار کر کے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، وہ جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔” (2:34-39)

وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا۟ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُونَ

Quran 5:66 · 2.24.i

“اور اگر یہ لوگ توریت و انجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے ان پر پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے۔ باقی ان میں کے اکثر لوگوں کے بڑے برے اعمال ہیں”۔ (5:66)

يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُۥ وَٱللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

Quran 5:67 · 2.24.ii

“اے میرے پیارے رسول ﷺ! آپ رسالت کا حق ادا کیجیے، اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔(5:67) اے رسول پہنچا دے جو کچھ بھی تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تو نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی، تجھے اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچالے گا بے شک اللہ تعالی کا فرلوگوں کی رہبری نہیں کرتا”۔

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًا وَكُفْرًا فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

Quran 5:68 · 2.24.iii

اے اہلِ کتاب! اگر تم تورات، انجیل اور جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے اس پر قائم نہ ہوئے (یعنی اس پر عمل اور اس کی تبلیغ نہ کی)، تو تمہاری کوئی حیثیت ، وقعت نہیں۔ “(5:68)کہہ دے کہ اے اہل کتاب تم دراصل کسی چیز پر نہیں ہو جب تک کہ توریت وانجیل پر اور جو کچھ تمہاری طرف رب کی طرف سے اتارا گیا ہے قائم نہ ہو جاؤ۔ جو کچھ تیری جانب تیرے رب کی طرف سے اترا ہے وہ ان میں سے اکثر کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا ہی تو تو ان کافروں پر غمگین نہ ہوا”۔ مسلمانوں کو اللہ کی وارننگ اہلِ کتاب میں آج کے مسلمان بھی شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اس وارننگ پر غور و فکر کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین “کہہ دے کہ اے اہل کتاب تم دراصل کسی چیز پر نہیں ہو جب تک کہ توریت وانجیل پر اور جو کچھ تمہاری طرف رب کی طرف سے اتارا گیا ہے قائم نہ ہو جاؤ۔ جو کچھ تیری جانب تیرے رب کی طرف سے اترا ہے وہ ان میں سے اکثر کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا ہی تو تو ان کافروں پر غمگین نہ ہوا”۔ (5:68) ٭٭٭

2.2 آدمؑ علیہ السلام

وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ۝ وَٱلْجَآنَّ خَلَقْنَٰهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ ۝ وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّى خَٰلِقٌۢ بَشَرًا مِّن صَلْصَٰلٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ۝ فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَٰجِدِينَ ۝ فَسَجَدَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ۝ إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰٓ أَن يَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ ۝ قَالَ يَٰٓإِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ ۝ قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُۥ مِن صَلْصَٰلٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ۝ قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ۝ وَإِنَّ عَلَيْكَ ٱللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ ۝ قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۝ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ ۝ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ ۝ قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۝ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ ۝ قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ ۝ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ ۝ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ ۝ لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَٰبٍ لِّكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُومٌ ۝ إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍ وَعُيُونٍ ۝ ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ ۝ وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَٰبِلِينَ ۝ لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ ۝ نَبِّئْ عِبَادِىٓ أَنِّىٓ أَنَا ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ۝ وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ

Quran 15:26-50

انسان کو اﷲ اشرف المخلوقات بنایا ہے، تمام کائنات کو انسان کے لئے مسخر کردیا، فرشتوں کو بھی سجدہ کا حکم دیا : {15:26-50} “یقیناً ہم نے انسان کو خشک مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی تھی(26)پیدا فرمایا ہے ۔اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا(27)جب کہ تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں(28)تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں ,میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لئے سجدے میں گر پڑنا (29)چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کر لیا (30) مگر ابلیس کے، کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شمولیت کرنے سے صاف انکار کر دیا(31)فرمایا اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟(32)وہ بولا کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے (33) فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کیونکہ تو راندہ درگاہ ہے(34اور تجھ پر میری پھٹکار ہے قیامت کے دن تک (35) کہنے لگا اے میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوبارہ اٹھا کر کھڑے کئے جاویں(36) فرمایا کہ اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت ملی ہے(37) روز مقرر کے وقت تک کی(38کہنے لگا اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے گناہوں کو خوبصورت بنا کر ان سب کو بہکاؤں گا (39)بجز تیرے ان بندوں کے جو منتخب کرلئے گئے ہیں (40) ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے (41) میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں ، لیکن ہاں جو گمراہ لوگ تیری پیروی کریں (42) یقیناً سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے (43)جس کے سات دروازے ہیں۔ہر دروازے کے لئے ان کا ایک حصہ بنا ہوا ہے (44) پرہیزگار لوگ جنتی باغوں اور چشموں میں ہونگے (45) سلامتی اور امن کے ساتھ یہاں آجاؤ(46)ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش و کینہ تھا، ہم سب کچھ نکال دیں گے ، وہ بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہونگے (47) نہ تو وہاں انہیں کوئی تکلیف چھو سکتی ہے اور نہ وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے () میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا اور بڑا ہی مہربان ہوں (49) اور ساتھ ہی میرے عذاب بھی نہایت دردناک ہیں”۔ ابليس كا سجده کرنےسے انكار,الله كا جواب۔

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّى خَٰلِقٌۢ بَشَرًا مِّن طِينٍ ۝ فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَٰجِدِينَ ۝ فَسَجَدَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ۝ إِلَّآ إِبْلِيسَ ٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ ۝ قَالَ يَٰٓإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَىَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْعَالِينَ ۝ قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍ ۝ قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ۝ وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ ۝ قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۝ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ ۝ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ ۝ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۝ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ ۝ قَالَ فَٱلْحَقُّ وَٱلْحَقَّ أَقُولُ ۝ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ

Quran 38:71-85

شیطان غرور و تکبر کرکے مردود ہوا “:اﷲ نے فرمایا سچ تو یہ ہے کہ تجھ سے اور تیرے ماننے والوں سے میں بھی جہنم بھر دونگا {38:71-85}: “جبکہ تیرے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں(71)سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا (72) چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا (73)مگر ابلیس نے نہ کیا، اس نے تکبر کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں سے (74) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابلیس! تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اسے سجدہ نہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ، کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجہ والوں میں سے ہے؟(75) اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے (76) ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا، تو مردود ہوا(77) اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت و پھٹکار ہے(78)کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے(79)اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مہلت والوں میں سے ہے(80) متعین تاریخ تک(81)کہنے لگا، پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دونگا (82)بجز تیرے ان بندوں کے جو چیدہ اور پسندیدہ ہوں(83)فرمایا سچ تو یہ ہے، اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں(84)کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں بھی جہنم کو بھر دونگا”۔] (38:71-85) اﷲ کے حکم کی مخالفت اور تکبر کی وجہ سے شیطان کافر ہوگیا -اﷲ مٹی سے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور پھر اس میں اپنی روح پھونکی ۔ اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ اور یہ کہ آگ کا کام جلا کر خاکستر کردینا ہے۔ جبکہ مٹی اسکے بر عکس انواع و اقسام کے پیدا ور کا ماخذ ہے۔[

إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَٰنًا مَّرِيدًا ۝ لَّعَنَهُ ٱللَّهُ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ۝ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَـَٔامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَٰمِ وَلَـَٔامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَٰنَ وَلِيًّا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا ۝ يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا

Quran 4:117-121

شیطان ، جسے اﷲ نے لعنت کی ہے ، انسان کو بھٹکانے کا عزم کیا ہے ، مقررہ حصہ لیکر جہنم میں جائیگا: {4:117-121} “یہ تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر صرف عورتوں کو پکارتے ہیں اور دراصل یہ صرف سرکش شیطان کو پوجتے ہیں (117)جسے اللہ نے لعنت کی ہے اس نے بیڑا اٹھایا ہے کہ تیرے بندوں میں سے میں مقرر شدہ حصہ لے کر رہوں گا (118)اور انہیں راہ سے بہکاتا رہوں گا اور باطل امیدیں دلاتا رہوں گا اور انہیں سکھاؤں گا کہ جانوروں کے کان چیر دیں اور ان سے کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑ دیں سنو! جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا(119)وہ ان سے زبانی وعدے کرتا رہے گا، اور سبز باغ دکھاتا رہے گا شیطان کے جو وعدے ان سے ہیں، وہ سراسر فریب کاریاں ہیں(120)یہ وہ لوگ ہیں جن کی جگہ جہنم ہے، جہاں سے انہیں نہ بھاگنا ملےگا نہ چھٹکارا ملے گا۔”(121)

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ قَالَ ءَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا ۝ قَالَ أَرَءَيْتَكَ هَٰذَا ٱلَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلًا ۝ قَالَ ٱذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُورًا ۝ وَٱسْتَفْزِزْ مَنِ ٱسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِى ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَوْلَٰدِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا ۝ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا

Quran 17:61-65

شیطان کا عزم انسان کو بھٹکانے کا، شیطان کی تابعداری جہنم لیجاتی ہے : {17:61-65} “جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا، اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے؟ (61)اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دی ہے، لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد کو بجز تھوڑے لوگوں کے، اپنے بس میں کرلوں گا(62)ارشاد ہوا کہ جا ان میں سے جو بھی تیری با ت مان لے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پورا پورا بدلہ ہے(63)ان میں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکا سکے گا بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھالا اور ان کے مال اور اولاد میں سے ان سے اپنا بھی ساجھا لگا اور انہیں دل بہلاوے دیا کر ، ان سے شیطان کے جتنے بھی وعدے ہوتے ہیں سب کے سب سراسر دھوکا و فریب ہیں (64) میرے سچے بندوں پر تیرا کوئی قابو اور بس نہیں ، تیرا رب کارسازی کرنے والا کافی ہے۔”(65)

وَلَقَدْ خَلَقْنَٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ ۝ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍ ۝ قَالَ فَٱهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ ۝ قَالَ أَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۝ قَالَ إِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ ۝ قَالَ فَبِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَٰطَكَ ٱلْمُسْتَقِيمَ ۝ ثُمَّ لَـَٔاتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَٰنِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَٰكِرِينَ ۝ قَالَ ٱخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَّدْحُورًا لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ ۝ وَيَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ فَوَسْوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ لِيُبْدِىَ لَهُمَا مَا وُۥرِىَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ ٱلْخَٰلِدِينَ ۝ وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ ۝ فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ ۝ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ ۝ قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍ ۝ قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ

Quran 7:11-25

شیطان قیامت تک اﷲ سے مہلت لیا ہے اور ہر خیر کے راستے پر بیٹھے گا اور بہکائے گا اﷲ نے مہلت دے دی ، اﷲ انسان کو نصیحت کرتا ہے کہ شیطان سے بچنے کے لئے اعوذ باﷲ پڑھیں: {7:11-25} “ہم ہی نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری صورتیں بنائیں، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے سجدہ کریں چنانچہ سوائے ابلیس کے سب نے کیا، وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا (11)جناب باری تعالیٰ نے فرمایا کہ تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ جبکہ تجھے میرا حکم ہوچکا تھا، اس نے جواب دیا میں اس سے افضل ہوں، مجھے تونے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے(12)اس پر اللہ نے فرمایا، تو جنت سے اتر جا، تیری اتنی ہستی نہیں کہ تو یہاں شیخی خوری کرے، جا نکل ، تو بڑے ہی ذلیلوں میں سے ہے(13) کہنے لگا مجھے دوبارہ کھڑا کئے جانے کے دن تک کی مہلت عطا فرما (14)جواب ملا کہ ہاں ہاں تو مہلت دیئے گئے ہووں میں سے ہے(15)شیطان کہنے لگا چونکہ تونے مجھے بےراہ کر دیا ہے، اب میں تیری سیدھی راہ پر انہیں بہکانے کے لئے بیٹھ جاؤں گا(16) اور ان کے پاس ان کے آگے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے آتا رہوں گا ، تو ان میں سے اکثروں کو اپنا شکر گزار نہ پائےگا(17) فرمایا یہاں سے نکل باہر ہو، تو ذلیل و خوار اور راندہ درگا ہ ہوکر، ان انسانوں میں سے جو بھی تیری پیروی کرےگا میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا (18)اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ پیو مگر اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤگے(19) ليكن شیطان نے انہیں وسوسہ ڈالا تاکہ ان پر وہ چیزیں کھول دے جو ان پر پوشیدہ کردی گئی تھیں یعنی ان کی شرمگاہیں اور کہنے لگا، تمہارے پروردگار نے جو اس درخت سے تمہیں روک دیا ہے، یہ صرف اس لئے کہیں ایسا نہ ہو کہ تم فرشتے بن جاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والے بن جاؤ (20)اور ان کے سامنے قسمیں کھا کھا کر انہیں یقین دلانے لگا کہ میں تمہار ا خیر خواہوں میں ہوں(21)غرض دھوکے سے انہیں مائل کر ہی لیا، جوں ہی انہوں نے اس درخت کو چکھا، ان کی شرمگاہیں ان پر کھل گئیں ، اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے، اسی وقت ان کے رب نے انہیں آواز دی ، کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا؟ اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے؟(22) دونوں دعائیں کرنے لگے کہ ہمارے پروردگار بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اگر تو ہمیں نہ بخشےگا اور ہم پر رحم نہ فرمائےگا تو ہم نامراد اور برباد ہوجائیں گے۔”(7:23)فرمایا تم سب اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو تمہارے لئے زمین میں ایک وقت مقرر تک رہنا سہنا ہے اور سامان زندگی بھی ہے (24)یہ بھی فرما دیا کہ یہیں زمین میں ہی زندگی گزاروگے اور یہیں تم مروگے اور اسی سے تم نکال کھڑے کئے جاؤگے۔”(25) 2.2.5اﷲ نے کہا ، اے آدم شیطان تیرا اور تیری بیوی كا دشمن ہے، جو میرے احکام پر عمل کریگا شیطان اس کو بہکا نہ سکے گا، اور نہ کچھ بگاڑ سکے گا-

وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًا ۝ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰ ۝ فَقُلْنَا يَٰٓـَٔادَمُ إِنَّ هَٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ ٱلْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰٓ ۝ إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَىٰ ۝ وَأَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا۟ فِيهَا وَلَا تَضْحَىٰ ۝ فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ ٱلشَّيْطَٰنُ قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ ۝ فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ وَعَصَىٰٓ ءَادَمُ رَبَّهُۥ فَغَوَىٰ ۝ ثُمَّ ٱجْتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ ۝ قَالَ ٱهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًى فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ ۝ وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ أَعْمَىٰ ۝ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِىٓ أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا ۝ قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ ءَايَٰتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَٰلِكَ ٱلْيَوْمَ تُنسَىٰ ۝ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنۢ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰٓ

Quran 20:115-127

{20:115-127} “ہم نے آدم کو پہلے تاکیدی حکم دے دیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا (115)اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا، اس نے صاف انکار کر دیا(116)تو ہم نے کہه دیا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے خیال رکھنا ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مشقت میں پڑ جائے(117)یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا(118)اور نہ تو یہاں پیاسا ہوتا ہے نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتا ہے(119)لیکن شیطان نے وسوسہ ڈالا، کہنے لگا کہ کیا میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور وہ بادشاہت بتلاؤں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو(120)چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا تو ان پر اپنے پردے کی چیزیں کھل گئیں اب بہشت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس بہک گیا (121)پھر اسے اس کے رب نے نوازا، اس کی طرف توجہ فرمائی اور اس کی رہنمائی کی(122)فرمایا، تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے پاس جب کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وہ بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا(123) ہاں جو میری یاد سے روگردانی کرے گا، اس کی زندگی تنگی میں رہے گی اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کرکے اٹھائیں گے (124)وہ کہے گا، اے اللہ! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا(125)جواب ملے گا کہ اسی طرح ہونا چاہیے تھا۔ تو نے میری آئی ہوئی آیتوں سے غفلت برتی ، آج تیری بھی مطلقا خبر نہ لی جائے گی ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں ہر اس شخص کو جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے والا ہے۔”

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ ۝ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُوا۟ حِزْبَهُۥ لِيَكُونُوا۟ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ ۝ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ

Quran 35:5-7

اﷲ کا وعدہ قیامت ضرور آئیگی اور شیطان کی دشمنی اولاد ِ آدم سے : {35: 5-7} “لوگو! اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے ۔ تمہیں زندگانی دنیا دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز شیطان غفلت میں ڈالے(5)یاد رکھو ، شیطان تمہارا دشمن ہے ، تم اسے دشمن ہی جانو وہ تو اپنے گروہ کو صرف اس لئے ہی بلاتا ہے کہ وہ سب جہنم واصل ہوجائیں()جو لوگ کافر ہوئے ان کے لئے سخت سزا ہے اورجو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے، ان کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ۔”

وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ حَمُولَةً وَفَرْشًا كُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

Quran 6:142

شیطان کی پیروی مت کرو، وہ تمہارا صریح دشمن ہے : ” (پس) خدا کا دیا ہوا رزوق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا صریح دُشمن ہے”۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ ٱلْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِۦٓ أَفَتَتَّخِذُونَهُۥ وَذُرِّيَّتَهُۥٓ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِى وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّۢ بِئْسَ لِلظَّٰلِمِينَ بَدَلًا

Quran 18:50

کیا تم شیطان کو دوست بناؤگے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور تم سب کا دشمن ہے: {18:50} “اور جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کے سامنے سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کرلیا، یہ جنوں میں سے تھا ۔ اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی، کیا پھر بھی تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنا رہے ہو؟ حالانکہ وہ تم سب کا دشمن ہے ، ایسے ظالموں کا کیا ہی برا بدلہ ہے۔”

يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

Quran 7:27

اﷲ کی نصیحت اولادِ آدم کو شیطان سے بچنے کے لئے: {7:27} “اے اولاد آدم! کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے جیسے کہ اس نے تمہارے والدین کو بہشت سے نکلوادیا، ان کے کپڑے ان سے اتروالئے کہ انہیں ان کے پردے کی چیزیں دکھادے ، تمہیں وہ اور اس کی قوم وہاں سے دیکھتی ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے، ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا یار اور رفیق بنا دیا ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے-”

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا۟ ٱلشَّيْطَٰنَ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ۝ وَأَنِ ٱعْبُدُونِى هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ

Quran 36:60,61

اﷲ کا حکم شیطان کی عبادت نہ کرنا صرف اﷲ کی عبادت کرنا،وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے : {36:60,61} “اے اولاد آدم کیا میں نے تم سے یہ قول و قرار نہ لیا تھا کہ تم شیطان کی تابعداری نہ کرنا، وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے(61)اور میری ہی عبادت کرتے رہنا، سیدھی راہ یہی ہے۔”(62)

فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ

Quran 7:30

انسان شیطان کے راستے پر چل کر خود کو راہِ راست پر سمجھتے ہیں، یہ شیطان کا دھوکا ہے : {7:30} “ایک فرقے کو تو ہدایت کی اور ایک فرقہ ہے جس پر گمراہی ثابت ہوچکی ہے، ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا دوست بنا لیا اور باوجود اس کے گمان کرتے ہیں کہ راہ یافتہ ہیں۔”

وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا أَفَلَمْ تَكُونُوا۟ تَعْقِلُونَ

Quran 36:62

شیطان نے تو تم میں سے بہت سوں کو بھٹکا دیا : {36:62} “شیطان نے تو تم میں سے بہت ساری مخلوق کو بہکا دیا، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟”] اس لئے شیطان کے داؤ اور فریب سے بچنے کے لئے ایک تو ہر وقت اﷲ سے مدد طلب کرتے رہو اور اسکی طرف رجوع کرتے رہو۔ اور دوسرے جو لوگ اپنے نفس کی کمزوری سے شیطان کے فریب کا شکار ہوگئے ہیں انکو زیادہ ہدف ملامت نہ بناؤ، بلکہ خیر خواہانہ طریقے سے انکی اصلاح کی کوشش کرو۔[

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ وَمَن يَتَّبِعْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ فَإِنَّهُۥ يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

Quran 24:21

شیطان کے پیروی کرنے والے : {24:21} “ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جو شخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے تو وہ بےحیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے اور اللہ سب سننے والا جاننے والا ہے”

وَيَوْمَ تَشَقَّقُ ٱلسَّمَآءُ بِٱلْغَمَٰمِ وَنُزِّلَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ تَنزِيلًا ۝ ٱلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ لِلرَّحْمَٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ عَسِيرًا ۝ وَيَوْمَ يَعَضُّ ٱلظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَٰلَيْتَنِى ٱتَّخَذْتُ مَعَ ٱلرَّسُولِ سَبِيلًا ۝ يَٰوَيْلَتَىٰ لَيْتَنِى لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا ۝ لَّقَدْ أَضَلَّنِى عَنِ ٱلذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَآءَنِى وَكَانَ ٱلشَّيْطَٰنُ لِلْإِنسَٰنِ خَذُولًا

Quran 25:25-29

شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے: {25:25-29} “جس دن آسمان بادل سےپھٹ جائیگا اور فرشتے لگا تار اتارے جائیں گے(25)اور اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا(26)اس دن ستم گر شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ کی راہ اختیار کی ہوتی(27)ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا (29)اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے۔” ]حدیث :صحبت صالح سے انسان اچھا اور صحبت طالع سے انسان برا بنتا ہے۔ اکثر لوگوں کی گمراہی کی وجہ غلط دوستوں کا انتخاب اور صحبت بد کا اختیار کرنا ہی ہے۔ اس لئے حدیث میں بھی صالحین کی صحبت کی تاکید اور بری صحبت سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے۔[

وَإِخْوَٰنُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِى ٱلْغَىِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ

Quran 7:202

جو شیاطین کے تابع ہیں وہی گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں : {7:202} “ اور جو شیطانوں کے بھائی ہیں، انہیں تو شیاطین گمراہی میں گھسیٹے لئے جاتے ہیں اور کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔”

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُ ۝ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ

Quran 26:221,222

شیطان ہر جھوٹے گناہگار پر اُترتے ہیں : {26:221,222} “کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں()وہ ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں()۔”]اس قرآن کے نزول میں شیطان کا کوئی دخل نہیں ہے کیوںکہ شیطان تو جھوٹوں اور گنہ گاروں (یعنی کاہنوں اور نجومیوں وغیرہ ) پر اترتے ہیں نہ کہ انبیاء و صالحین پر ۔[

وَقَالَ ٱلشَّيْطَٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

Quran 14:22

شیطان کے فریب میں آنے کا نتیجہ : {14:22} “جب کہ کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تو تمہیں سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کئے تھے، ان کے خلاف کیا ، میرا تو تم پر کوئی دباؤ تو تھا نہیں ، ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو ، نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ، میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔”

مَّنْ عَمِلَ صَٰلِحًا فَلِنَفْسِهِۦ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّٰمٍ لِّلْعَبِيدِ

Quran 41:46

اﷲ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کر تا {41:46} “جو شخص نیک کام کرے گا، وہ اپنے نفع کے لئے اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال بھی اسی پر ہے، آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں”

2.3 نوحؑ علیہ السلام

“اللہ تعالی بخشش ور حم کرنے والے کے نام سے ”۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِنَّآ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝ قَالَ يَٰقَوْمِ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ۝ أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ ۝ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ إِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

Quran 71:1-4

“یقینا ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دے، اس سے پہلے کہ ان کے پاس درد ناک عذاب آئے۔نوح نے کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ کہ تم اللہ کی عبادت کرواسی سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ تو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقررہ تک چھوڑ دے گا ۔ یقینا اللہ کا وعدہ جب آجاتا ہے تو موقوف نہیں رکھا جاتا،کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی۔”(71:1-4)

قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِى لَيْلًا وَنَهَارًا ۝ فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارًا ۝ وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًا ۝ ثُمَّ إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ۝ ثُمَّ إِنِّىٓ أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ۝ فَقُلْتُ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارًا ۝ يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ۝ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَٰلٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّٰتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَٰرًا ۝ مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ۝ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ۝ أَلَمْ تَرَوْا۟ كَيْفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍ طِبَاقًا ۝ وَجَعَلَ ٱلْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ ٱلشَّمْسَ سِرَاجًا ۝ وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ نَبَاتًا ۝ ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا ۝ وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ بِسَاطًا ۝ لِّتَسْلُكُوا۟ مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا ۝ قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِى لَيْلًا وَنَهَارًا ۝ فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارًا ۝ وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًا ۝ ثُمَّ إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ۝ ثُمَّ إِنِّىٓ أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ۝ فَقُلْتُ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارًا ۝ يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ۝ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَٰلٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّٰتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَٰرًا ۝ مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ۝ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ۝ أَلَمْ تَرَوْا۟ كَيْفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍ طِبَاقًا ۝ وَجَعَلَ ٱلْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ ٱلشَّمْسَ سِرَاجًا ۝ وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ نَبَاتًا ۝ ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا ۝ وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ بِسَاطًا ۝ لِّتَسْلُكُوا۟ مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا

Quran 71:5-20; 71:5-10; 71:11-20

“نوح نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ۔مگر میرے بلانے سے یہ بھاگنے میں اور بڑھتے ہی گئے۔ میں نے جب بھی انہیں تیری طرف بخشش کے لئے بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور سخت سرکشی کی۔ پھر میں نے انہیں با آواز بلند بلایا۔ اور بیشک میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشو اؤ، وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا-۔ اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔ تمہیں کیا ہو گیا کہ تم اللہ کی بزرگی کا عقیدہ نہیں رکھتے ؟۔ حالانکہ اس نے تمہیں مختلف طور سے پیدا کیا ہے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالٰی نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے۔ اور ان میں چاند کو خوب جگمگا تا بنایا اور سورج کو روشن چراغ بنایا۔ اور تم کو زمین سے ایک خاص طریقے سے پیدا کیا۔ پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور ایک خاص طریقہ سے پھر نکالے گا۔ اور تمہارے لئے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنا دیا تا کہ تم اس کی کشادہ راہوں میں چلو پھرو”۔ نوحؑ نے اپنی قوم کی نافرمانی کی شکایت اللہ تعالیٰ سے کی-

قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِى وَٱتَّبَعُوا۟ مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارًا ۝ وَمَكَرُوا۟ مَكْرًا كُبَّارًا ۝ وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا ۝ وَقَدْ أَضَلُّوا۟ كَثِيرًا وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا ضَلَٰلًا

Quran 71:21-24

“نوح نے کہا اے میرے پروردگار ! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جنہیں ان کے مال و اولاد نے نقصان ہی میں بڑھایا ہے۔ اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا۔ اور کہہ دیا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود و سواع ویغوث و یعوق ونسر کو چھوڑ نا اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ اے اللہ تو ان ظالموں کی گمراہی ہی بڑھا”

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ۝ أَن لَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ ۝ فَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ ٱلرَّأْىِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَٰذِبِينَ ۝ قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَٰرِهُونَ ۝ وَيَٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ رَبِّهِمْ وَلَٰكِنِّىٓ أَرَىٰكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ ۝ وَيَٰقَوْمِ مَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ۝ وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّى مَلَكٌ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِىٓ أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيْرًا ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِىٓ أَنفُسِهِمْ إِنِّىٓ إِذًا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ قَالُوا۟ يَٰنُوحُ قَدْ جَٰدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٰلَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ۝ قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ۝ وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِىٓ إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ ٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۝ أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَعَلَىَّ إِجْرَامِى وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُونَ

Quran 11:25-35

“یقینا ہم نے نوح علیہ السلام کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ میں تمہیں صاف صاف ہو شیار کر دینے والا ہوں۔ کہ تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو مجھے تو تم پر درد ناک دن کے عذاب کا خوف ہے۔(25) اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے کمین موٹی سمجھ والوں کے اور کوئی نہیں۔ (26)ہم تیری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں۔(27)نوح نے کہا میری قوم والو مجھے بتلاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل پر ہوا اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی نعمت عطا کی ہوئی ہوتی پھر وہ تمہاری نگاہوں میں نہ آئی تو کیاز بر دستی میں اسے تمہارے گلے سے منڈھ دوں؟ حالانکہ تم اس سے بیزار ہو ۔(28)میری قوم والو میں تم سے اس پر کوئی مل نہیں مانگتا میرا ثواب تو صرف اللہ تعالی کے ہاں ہے۔ نہ میں ایمان داروں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں، انھیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو۔(29) میری قوم کے لوگو ! اگر میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں میری مددکون کر سکتا ہے؟ کیا تم کچھ بھی غور وفکر نہیں کرتے ؟۔ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ (30)سنو میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں نہ میرا یہ قول ہے کہ جن پر تمہاری نگاہیں ذلت سے پڑرہی ہیں انھیں اللہ تعالی کوئی نعمت دے گا ہی نہیں، ان کے دل میں جو ہے، اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے، اگر میں ایسی باتیں کہوں تو یقینا میر اشمار ظالموں میں ہو جائے ۔(31)کہنے لگے کہ اے نوح تو ہم سے جھگڑا اور خوب ہی جھگڑ چکا اب تو تو جس چیز سے ہمیں دھمکا رہا ہے وہی ہمارے پاس لے آ اگر تو سچوں میں سے ہے۔(32) جواب دیا کہ اسے بھی اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے ہاں تم اسے دہرانے والے نہیں ہو۔ (33)تمہیں میری خیر خواہی کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی گو میں کتنی ہی تمہاری خیر خواہی کیوں نہ چاہوں بشر طیکہ اللہ کا ارادہ تمہیں گمراہ کرنے کا ہو(34)، وہ تم سب کا پروردگار ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔ کیا یہ کہتے ہیں؟ کہ اسے خود اس نے گھڑ لیا”۔ (11:25-35) 2.3.2اللہ تعالیٰ نے نوحؑ کو لکڑی کی ایک کشتی بنانے کا اور اس میں سب ایمان والوں کو بٹھانے کا حکم دیا، اور ہر قسم کے جوڑے دو دو سوار کرنے کا حکم دیا۔

وَأُوحِىَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ ءَامَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ۝ وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَٰطِبْنِى فِى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ ۝ وَيَصْنَعُ ٱلْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِّن قَوْمِهِۦ سَخِرُوا۟ مِنْهُ قَالَ إِن تَسْخَرُوا۟ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ ۝ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ

Quran 11:36-39

“نوح کی طرف وہی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لا چکے ان کے سو اور کوئی ایمان لائے گاہی نہیں تو ان کے کاموں پر غمگین نہ ہو۔() اور ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے تیار کر اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر وہ پانی میں ڈبودیئے جانے والے ہیں۔ (37) نوح علیہ السلام کی کشتی کی تیاری کی حالت میں اس کی قوم کی جو جماعت اس کے پاس سے گزرتی وہ اس کا مذاق اڑاتی اس نے کہا کہ اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تم پر ایک دن نہیں کے جیسے تم مسخر اپن کر رہے ہو۔(38) تمہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کسی پر عذاب آتا ہے، جو اسے رسوا کرے اور اس پر ہمیشگی کی سزا اتر آئے ۔(11:36-39)

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمْرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلْنَا ٱحْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ وَمَنْ ءَامَنَ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٌ ۝ وَقَالَ ٱرْكَبُوا۟ فِيهَا بِسْمِ ٱللَّهِ مَجْر۪ىٰهَا وَمُرْسَىٰهَآ إِنَّ رَبِّى لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝ وَهِىَ تَجْرِى بِهِمْ فِى مَوْجٍ كَٱلْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبْنَهُۥ وَكَانَ فِى مَعْزِلٍ يَٰبُنَىَّ ٱرْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلْكَٰفِرِينَ ۝ قَالَ سَـَٔاوِىٓ إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِى مِنَ ٱلْمَآءِ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا ٱلْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُغْرَقِينَ

Quran 11:40-43

اللہ کے عذاب کا حکم آ پہنچا۔نوحؑ نے کہا اب اس کشتی کا چلنا اور رکنا صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔(11:40-43) “یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا ہم نے فرما دیا کیا کہ کشتی میں ہر قسم کے جوڑے دو ہرے سوار کرا لے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی، سوائے ان کے جن پر پہلے سے بات پڑ چکی اور سب ایمان والوں کو بھی، اس کے ساتھ ایمان لانے والے بہت ہی کم تھے (40)نوح علیہ السلام نے کہا، اس کشتی میں بیٹھ جاؤ۔ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے، یقیناً میرا رب پالنے والا بڑی بخشش اور بڑے رحم والا ہے(41)وہ کشتی انہیں لے کر موجوں میں پہاڑ کی طرح جا رہی تھی۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ رہ (42)اس نے جواب دیا کہ میں تو کسی بڑے پہاڑ کی طرف پناہ میں آجاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا ، نوح نے کہا، آج اللہ کے امر سے بچانے والا کوئی نہیں، صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ کا رحم ہوا، اسی وقت ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا-”

وَقِيلَ يَٰٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيَٰسَمَآءُ أَقْلِعِى وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَى ٱلْجُودِىِّ وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

Quran 11:44

“اللہ کا عذاب پورا ہوا اور کشتی جودی نام کے پہاڑ پر جا رکی۔(11:44) “ فرما دیا گیا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل جا اور اے آسمان بس کر تھم جا، اسی وقت پانی سکھا دیا گیا اور کام پورا کر دیا گیا اور کشتی ' جودی نامی پہاڑ پر جا لگی اور فرما دیا گیا کہ نا انصافی کرنے والے لوگوں پر لعنت نازل ہوجائے”۔

مِّمَّا خَطِيٓـَٰٔتِهِمْ أُغْرِقُوا۟ فَأُدْخِلُوا۟ نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا۟ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَنصَارًا ۝ وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ دَيَّارًا ۝ إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا۟ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓا۟ إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا ۝ رَّبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارًۢا

Quran 71:25-28

“یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبودیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار ۔ انہوں نے نہ پایا اور حضرت نوح نے کہا اے میرے پالنے والے تو روئے زمین پر کسی کافرکورہنےسہنےوالا نہ چھوڑ۔ اگرتو انہیں چھوڑ دے گا تو یقینا یہ تیرے اور بندوں کو بھی گمراہ کر دیں گے اور ان کے ہاں جو بال بچے ہوں گے وہ بھی بدکار ناشکرے ہوں گے۔ اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ کو اور جو بھی ایماندار ہو کر میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور کل ایماندار عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سو اہلاکت کے اور کچھ نہ بڑھا”۔

وَلَقَدْ نَادَىٰنَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ ٱلْمُجِيبُونَ ۝ وَنَجَّيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥ مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ ۝ وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلْبَاقِينَ ۝ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ ۝ سَلَٰمٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِى ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ ۝ ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ

Quran 37:75-82

“ہمیں نوح نے پکارا تو دیکھ لو کہ ہم کیسے اچھے دعا کے قبول کرنے والے ہیں۔ ہم نے اسے اوراس کے تابعداروں کو اس زبر دست مصیبت سے بچالیا۔ اس کی اولاد ہم نے باقی رہنے والی بنادی۔ اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔ نوح پر تمام جہانوں میں سلام ہو۔ ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا ۔ پھر ہم نے باقی کے سب لوگوں کو ڈبودیا”۔(37:75-82)

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمْ ظَٰلِمُونَ ۝ فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَصْحَٰبَ ٱلسَّفِينَةِ وَجَعَلْنَٰهَآ ءَايَةً لِّلْعَٰلَمِينَ

Quran 29:14,15

“ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ وہ ان میں ساڑھے نو سو سال تک رہے پھر تو انہیں طوفان نے دھر پکڑا اور وہ تھے بھی ظالم۔ پھر ہم نے اسے اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا”۔(29:14,15)

2.4 ہود علیہ السلام

وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ أَفَلَا تَتَّقُونَ ۝ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ ۝ قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى سَفَاهَةٌ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ أُبَلِّغُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَأَنَا۠ لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ ۝ أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى ٱلْخَلْقِ بَصْۜطَةً فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۝ قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ ٱللَّهَ وَحْدَهُۥ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ۝ قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ أَتُجَٰدِلُونَنِى فِىٓ أَسْمَآءٍ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ ۝ فَأَنجَيْنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَمَا كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ

Quran 7:65-72

“عادیوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا جس نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟۔ اس کی قوم کے کا فر سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو نری بیوقوفی میں ہے اور ہمارے خیال میں تو تو ہے ہی جھوٹے لوگوں میں سے۔ ہود نے کہا میری قوم کے لوگو مجھ میں کوئی بیوقوفی نہیں بلکہ میں تو تمام جہان کے پروردگار کا بھیجا ہوا ہو۔ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچا رہا ہوں اور ہوں بھی تمہا را ولی، خیر خواہ اور امانت دار ہوں۔ کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو؟ کہ تم میں سے ایک کی معرفت ذکر اللہ تم تک پہنچادی کہ وہ تمہیں ہوشیار کر دے؟ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور تن و توش کا پھیلاؤ بھی تم کو زیادہ دیا' پس تم اللہ کے احسانات یاد رکھوتا کہ تم فلاح و نجات پاؤ۔ وہ کہنے لگے کہ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں؟ جا اگر تو چاہے تو جن عذابوں سے تو ہمیں دھمکا رہا ہے انہیں لے آ۔ ہود نے کہا، یقینا تم پر تمہارے رب کی جانب سے بلا اور غضب پڑہی چکا' کیا تم مجھ سے ان چند ناموں کی خاطر لڑ بھڑ رہے ہو جنہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے مقرر کر لئے ہیں، جن کی کوئی سند اللہ نے نہیں اتاری اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ آخر ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے نجات دی اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ایمان قبول کرنے والے نہ تھے “۔{7:65-72}

وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ ۝ يَٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِى فَطَرَنِىٓ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۝ وَيَٰقَوْمِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا۟ مُجْرِمِينَ

Quran 11:50-52

“عادیوں کی طرف ان کے بھائی ہود کو ہم نے بھیجا، اس نے کہا میری قوم والو اللہ ہی کی عبادت کیا کرو۔ اسکے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تم تو صرف بہتان بازی کر رہے ہو۔ میرے قومی بھائیو میں تم سے اس کی کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے تو کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لینے کے۔ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں تو بہ کرو تا کہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پر اور طاقت قوت بڑھادے۔ تم با وجود گنہگار ہونے کے روگردانی نہ کرو”۔

قَالُوا۟ يَٰهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِىٓ ءَالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ ۝ إِن نَّقُولُ إِلَّا ٱعْتَرَىٰكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوٓءٍ قَالَ إِنِّىٓ أُشْهِدُ ٱللَّهَ وَٱشْهَدُوٓا۟ أَنِّى بَرِىٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ۝ مِن دُونِهِۦ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ ۝ إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُم مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦٓ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّى قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيْـًٔا إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌ

Quran 11:53-57

“قومِ عاد نے ہودؑ علیہ السلام کو نہیں مانا، ان کو جھٹلایا اور اپنے معبودوں پر جمے رہے۔ قومِ عاد کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا کام نہ آیا “:وہ کہنے لگے اے ہود تو ہمارے پاس کوئی دلیل تو لا یا نہیں اور ہم صرف تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آ گیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تو اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں جنھیں تم شریک رب بنا رہے ہو۔ اچھا تم سب مل کر میرے حق میں بدی کر لو اور مجھے بالکل ہی مہلت نہ دو۔ میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے جو میرا اور تم سب کا پروردگار ہے جتنے بھی پاؤں دھرنے والے ہیں، سب کی چوٹیاں وہی تھامے ہوئے ہے، یقینا میر ارب بالکل صحیح راہ پر ہے”۔

كَذَّبَتْ عَادٌ ٱلْمُرْسَلِينَ ۝ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ ۝ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ۝ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

Quran 26:123-126

“عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا(123) جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟(124)میں تمہارا امانتدار معتبر پیغمبر ہوں(125) اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو ۔”(126)

أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ ۝ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ۝ وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ ۝ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

Quran 26:128-131

“کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بے فائدہ بطور کھیل تماشہ نشانات لگا رہے ہو ؟(128) اور بڑی صنعت والے مضبوط محل تعمیر کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے (129)اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو سختی اور ظلم سے پکڑتے ہو (130)اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو ۔” {26:128-131}

إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

Quran 26:135

“مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ۔”{26:135}

فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَٰهُمْ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

Quran 26:139

عذاب:چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلا یا، اس لئے ہم نے انہیں تباہ کر دیا ، یقینا اس میں نشان ہے، اور ان میں کے اکثر بے ایمان تھے ۔ {26:139}]قوم عاد، دنیا کی مضبوط ترین اور قوی ترین قوم تھی، جس کی بابت اﷲ نے فرمایا ہے، ’اس جیسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی‘ یعنی جو قوت اور شدت و جبروت میں اس جیسی ہو۔ اسی لئے یہ کہا کرتی تھی۔ ’کون قوت میں ہم سے زیادہ ہے؟‘ لیکن جب اس قوم نے بھی کفر کا راستہ چھوڑ کر ایمان و تقویٰ اختیار نہیں کیا تو اﷲ تعالیٰ نے سخت ہوا کی صورت میں ان پر عذاب نازل فرمایا جو مکمل سات راتیں اور آٹھ دن ان پر مسلط رہا۔ باد تند آتی اور آدمی کو اٹھا کر فضا میں بلند کرتی اور پھر زور سے سر کے بل زمین پر پٹخ دیتی۔ جس سے اس کا دماغ پھٹ اور ٹوٹ جاتا اور بغیر سر کے ان کے لاشے اس طرح زمین پر پڑے ہوتے گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ انہوں نے پہاڑوں ، کھوؤں اور غاروں میں بڑی بڑی مضبوط عمارتیں بنا رکھی تھیں، پینے کے لئے گہرے کنویں کھود رکھے تھے، باغات کی کثرت تھی، لیکن جب اﷲ کا عذاب آیا تو کوئی چیز ان کے کام نہ آئی اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا گیا۔[

وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَنَجَّيْنَٰهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ ۝ وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا۟ رُسُلَهُۥ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ۝ وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ أَلَآ إِنَّ عَادًا كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ أَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ

Quran 11:58-60

“جب ہمارا حکم پہنچا، ہم نے ہود کو اور اس کے مسلمان ساتھیوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات عطا فرمائی، اور ہم نے ان سب کو سخت عذاب سے بال بال بچالیا، یہ تھے عادی جنھوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کر دیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ایک سرکش مخالف کے حکم کی تابعداری کی۔ دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی اور قیامت کے دن بھی دیکھ لوقوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، ہود کی قوم کے عادیوں پرلعنت ہو”۔(11:58-60)

2.5 صالح علیہ السلام

وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ ٱلْجِبَالَ بُيُوتًا فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ۝ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِمَنْ ءَامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّهِۦ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

Quran 7:74,75

‘یاد کر لو کہ اللہ نے عادیوں کے بعد تمہیں خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں ایسی زمین میں بسایا ہے کہ تم اس کے نرم حصے میں محلات بنارہے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو پس تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور فسادی بن کر زمین میں تباہی بر پا کرتے نہ پھرو۔ اس کی قوم کے سرکش سرداروں نے قوم کے کمزور ایمان داروں سے کہا کہ کیا تمہیں صالح کے رسول اللہ ہونے کا پورا علم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ہاں ہم تو جس شریعت کے ساتھ وہ بھیجے گئے ہیں، ایمان رکھنے والے ہیں”۔ (7:74,75) قومِ ثمود پر صالحؑ علیہ السلام رسول بنا کر بھیجے گئے -

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًا قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَٱسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَٱسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّى قَرِيبٌ مُّجِيبٌ ۝ قَالُوا۟ يَٰصَٰلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَٰذَآ أَتَنْهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِى شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍ ۝ قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى مِنْهُ رَحْمَةً فَمَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُۥ فَمَا تَزِيدُونَنِى غَيْرَ تَخْسِيرٍ

Quran 11:61-63

“ثمودیوں کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا' اس نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے اور اس نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے۔ پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب سب کے پاس ہی ہے اور ہے بھی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔ () وہ کہنے لگے اے صالح اس سے پہلے تو ہم تجھ سے بہت کچھ امیدیں لگائے ہوئے تھے۔ کیا تو ہمیں ان کی عبادتوں سے روک رہا ہے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ؟ ہمیں تو اس دین میں شک ہے جس کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے۔ ہم متحیر ہیں۔() اس نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو ذرا بتلاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی مضبوط دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس کی رحمت عطا کی ہوئی ہوئی، پھر اگر میں نے اس کی نافرمانی کر لی تو کون ہے جو اس کے مقابلے میں میری مدد کرے؟ تم تو میرا انقصان ہی بڑھارہے ہو”۔

كَذَّبَتْ ثَمُودُ ٱلْمُرْسَلِينَ ۝ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَٰلِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ ۝ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

Quran 26:141-143

“ثمودیوں نےبھی پیغمبروں کو جھٹلایا ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں-

وَتَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا فَٰرِهِينَ ۝ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

Quran 26:149,150

“اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو (149) پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔”(26:149,150)

مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ۝ قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ۝ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۝ فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا۟ نَٰدِمِينَ ۝ فَأَخَذَهُمُ ٱلْعَذَابُ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

Quran 26:154-158

“تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے، اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزہ لے آ (154)آپ نے فرمایا: یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقررہ دن کی باری پانی پینے کی تمہاری (155) (خبر دار) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا ()پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں، پھر تو پشیمان ہوگئے (157)عذاب نے انہیں آدبوچا بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں اکثر لوگ مؤمن نہ تھے۔”(26:154-158) ] یہ وہی اونٹنی تھی جو ان کے مطالبہ پر پتھر کی ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر ہوئی تھی ایک دن اونٹنی کے لئے ایک دن ان کے لئے پانی مقرر کر دیا گیا تھا ، اور ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ جو دن تمہارا پانی لینے کا ہوگا اونٹنی گھاٹ پر نہیں آئے گی اور جو دن اونٹنی کے پانی پینے کا ہوگا تمہیں گھاٹ پر آنے کی اجازت نہیں ہے ۔ دوسری بات انہیں یہ کہی گئی کہ اس اونٹنی کو کوئی بری نیت سے ہاتھ نہ لگائے نہ اسے نقصان پہنچایا جائے چنانچہ یہ اونٹنی اسی طرح ان کے درمیان رہی گھاٹ سے پانی پیتی اور گھاس چارہ کھا کر گذارہ کرتی اورکہا جاتا ہے کہ قوم ثمود اس کا دودھ دوہتی اور اس سے فائدہ اٹھاتی لیکن کچھ عرصہ گذرنے کے بعد انہوں نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا یعنی باوجود اس بات کے کہ وہ انٹنی اللہ کی قدرت کی ایک نشانی اور پیغمبر کی دلیل تھی قومِ ثمود ایمان نہیں لائی اور کفر و شرک کے راستے پر گامزن رہی اور اس کی سرکشی یہاں تک بڑھی کہ بالآخر قدرت کی زندہ نشانی اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں یعنی اس کے ہاتھوں اور پیروں کو زخمی کر دیا جس سے وہ بیٹھ گئی اور پھر اسے قتل کر دیا ۔ یہ اس وقت ہوا جب اونٹنی کے قتل کے بعد حضرت صالح ؑ نے کہا اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت ہے چوتھے دن تمہیں ہلاک کر دیا جائے گا اس کے بعد جب واقعی عذاب کی علامتیں ظاہر ہونی شروع ہو گئیں تو پھر ان کی طرف سے بھی اظہار ندامت ہونے لگا لیکن علامات عذاب دیکھ لینے کے بعد ندامت اور توبہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ عذاب زمین میں بھونچال (زلزلے) او راوپر سے سخت چنگھاڑ کی صورت میں آیا جس سے سب کی موت واقع ہو گئی [(

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًا قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

Quran 7:73

{7:73}“ثمودیوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا جس نے کہا کہ اے میری قوم کے لو گ اللہ کی عبادت کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوانہیں یقینا تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل بھی آچکی، اللہ کی یہ اونٹنی تمہارے لئے نشان ہے اسے آزاد کر دو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرتی چگتی رہے خبر دار اسے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا کہ تمہیں درد ناک عذاب آدبوچے –“ 2.5.3اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ صالحؑ علیہ السلام کو اور ایمان لانے والوں کو تو اللہ نے بچا لیا اور سب سرکشوں، نافرمانوں کو ہلاک کر دیا۔

وَيَٰقَوْمِ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ ۝ فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا۟ فِى دَارِكُمْ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ ۝ فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَٰلِحًا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْىِ يَوْمِئِذٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ ۝ وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَٰرِهِمْ جَٰثِمِينَ ۝ كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَآ أَلَآ إِنَّ ثَمُودَا۟ كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ أَلَا بُعْدًا لِّثَمُودَ

Quran 11:64-68

“میری قوم والو یہ ہے اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے۔ اب تم اسے اللہ کی زمین میں کھاتی ہوئی چھوڑ دو اور اسے کسی طرح کی ایذا نہ پہنچاؤ ور نہ فوری عذاب تمہیں پکڑ لے گا۔ پھر بھی ان لوگوں نے اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ کر اسے مارڈالا اس پر صالح نے کہا کہ اچھا اب تم اپنے گھروں میں تین دن تک تو رہ سہہ لو۔ یہ وعد ہ جھوٹا نہیں ہے۔ پھر جب ہمارا فرمان آپہنچا' ہم نے صالح کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو اپنے فضل سے اس سے بھی بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی یقینا تیرا پروردگار ہی نہایت توانا اور غالب ہے۔ ظالموں کو بڑے زور کی کڑک نے آدبوچا۔ پھر تو وہ اپنے گھروں میں زانوں کے بل مردہ پڑے ہوئے رہ گئے۔ ایسے کہ گو یا وہ وہاں کبھی آباد ہی نہ تھے، آگاہ رہو کہ ثمودیوں نے اپنے رب سے کفر کیا، سن لوان ثمود یوں پر پھٹکارہے” ۔11:64-68) (

قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا بِٱلَّذِىٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ۝ فَعَقَرُوا۟ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا۟ يَٰصَٰلِحُ ٱئْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ۝ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ

Quran 7:76-78

قوم کے سرکشوں نے اللہ کے عذاب کو طلب کر لیا۔“جن لوگوں نے سرکشی کی تھی انہوں نے کہا کہ تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔ پس انہوں نے اونٹنی کو مارڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرتابی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح جن عذابوں سے تو ہمیں دھمکا تا رہتا ہے، اگر تو فی الواقع پیغمبروں میں سے ہے تو انہیں ہم پر نازل کر دے۔ عذاب :پس انہیں زلزلے نے آپکڑا جس سے وہ اپنے گھروں میں ہی زانو پر اوندھے گرے ہوئے مردے رہ گئے”۔ صالحؑ علیہ السلام کا اپنی قوم پر افسوس۔

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ

Quran 7:79

“حضرت صالح نے ان سے منہ موڑلیا اور فرمایا کہ میرے بھائیوں میں تو تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا چکا اور تمہاری پوری خیر خواہی کی، لیکن افسوس تم اپنے خیرخواہوں کو اپنا دوست نہیں سمجھتے” ]صالح علیہ السلام ہلاکت کے اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں قوم کی ہلاکت دیکھ کر افسوس حسرت اور آخری ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر پیغمبر حق حضرت صالح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نہ تمہیں رب کی رسالت نے فائدہ پہنچایا نہ میری خیر خواہی ٹھکانے لگی تم اپنی بےسمجھی سے دوست کو دشمن سمجھ بیٹھے اور آخر اس روز بد کو دعوت دے لی۔[

2.6 جھٹلانے والی قومیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہلاک ہو گئیں اور آنے والوں کے لیے نشانِ عبرت بن گئیں۔

وَقَوْمَ نُوحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا۟ ٱلرُّسُلَ أَغْرَقْنَٰهُمْ وَجَعَلْنَٰهُمْ لِلنَّاسِ ءَايَةً وَأَعْتَدْنَا لِلظَّٰلِمِينَ عَذَابًا أَلِيمًا ۝ وَعَادًا وَثَمُودَا۟ وَأَصْحَٰبَ ٱلرَّسِّ وَقُرُونًۢا بَيْنَ ذَٰلِكَ كَثِيرًا ۝ وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ ٱلْأَمْثَٰلَ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا ۝ وَلَقَدْ أَتَوْا۟ عَلَى ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِىٓ أُمْطِرَتْ مَطَرَ ٱلسَّوْءِ أَفَلَمْ يَكُونُوا۟ يَرَوْنَهَا بَلْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ نُشُورًا

Quran 25:37-40

“قوم نوح نے بھی جب رسولوں کو جھوٹا کہا تو ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ اور لوگوں کے لئے انہیں نشان عبرت بنا دیا۔ ہم نے ظالموں کے لئے درد ناک عذاب مہیا کر رکھے ہیں۔ اور عادیوں اور شمودیوں اور کنوے والوں کو اور ان کے درمیان کی بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا۔ ہم نے ہر ایک کے سامنے مثالیں بیان کیں۔ پھر ہر ایک کو بالکل ہی تباہ و برباد کر دیا”۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَعْدِهِمْ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍۭ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ وَجَٰدَلُوا۟ بِٱلْبَٰطِلِ لِيُدْحِضُوا۟ بِهِ ٱلْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ۝ وَكَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّهُمْ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ

Quran 40:5,6

“نوح کی دوسری جماعتوں نے بھی جھٹلایا تھا اور ہرامت نے اپنے رسول کو گرفتارکر لینے کا رادہ کیا اور بیہودہ شبہات نکال کران سے حق کو بگاڑ نا چاہا۔ پس میں نے انہیں پکڑ لیا۔ سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی اور اسی طرح تیرے رب کا حکم کا فروں پر ثابت ہو گیا کہ وہ دوزخی ہیں۔”

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو ٱلْأَوْتَادِ ۝ وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَٰبُ لْـَٔيْكَةِ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلْأَحْزَابُ ۝ إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ۝ وَمَا يَنظُرُ هَٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ ۝ وَقَالُوا۟ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ ٱلْحِسَابِ

Quran 38:12-16

“ان سے پہلے بھی قوم نوح نے اور عادیوں نے اور میخوں والے فرعون نے جھٹلایا تھا۔ اور ثمودیوں نے اور قوم لوط نے اور ا یکہ کے رہنے والوں نےبھی۔ یہی بڑے بڑے لشکر تھے ۔ ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہوپس میری طرف کی سزا ان پر ثابت ہوگئی۔ انہیں صرف ایک تند نعرے کا انتظار ہے جس میں کوئی توقف اور ڈھیل نہیں ہے۔ کہنے لگے کہ ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے۔”(38:12-16)

أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا۟ هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَءَاثَارًا فِى ٱلْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٍ ۝ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَكَفَرُوا۟ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ إِنَّهُۥ قَوِىٌّ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

Quran 40:21,22

“شدید طاقت والی قومیں جب اپنے رسول کو جھٹلائیں تو اللہ تعالی نے ان کو برباد کر دیا ان کے آثار رہتی دنیا تک باقى رکھے جائیں گے۔۔“کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے، ان کا نتیجہ کیسا کچھ ہوا؟ وہ با اعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیادہ تھے۔ پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذابوں سے بچالیتا۔ یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزے لے لے کر آتے تھے تو وہ انکار کر دیتے تھے۔ پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقینا وہ زبردست طاقت والا اور سخت عذابوں والا ہے-”(40:21,22)

2.7 اللہ تعالی نے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ وہ نصیحت کریں۔

وَكَمْ أَرْسَلْنَا مِن نَّبِىٍّ فِى ٱلْأَوَّلِينَ ۝ وَمَا يَأْتِيهِم مِّن نَّبِىٍّ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ۝ فَأَهْلَكْنَآ أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ ٱلْأَوَّلِينَ

Quran 43:6-8 · 2.7.i

“اور ہم نے اگلے لوگوں میں بھی بہت سے نبی بھیجے۔ جو نبی ان کے پاس آیا انہوں نے اسے ہنسی مذاق میں اڑایا۔ پس ہم نے ان کے زیادہ زور آوروں کوتباہ کرڈالا اور اگلوں کی حقیقت گذر چکی ہے” ۔{43: 6-8}

أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا۟ ٱلْأَرْضَ وَعَمَرُوهَآ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

Quran 30:9 · 2.7.ii

“اللہ ظلم نہیں کرتا۔کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ وہ ان سے بہت زیادہ توانا اور طاقتور تھے انہوں نے بھی زمین بوئی جوتی تھی۔ اور ان سے زیادہ آباد کی تھی۔ ان کے پاس ان کے رسون معجزے لے کر آئے تھے، یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ ان پر ظلم کرتا بلکہ دراصل وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے”۔

2.8 ابراہیم علیہ السلام

وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِۦ لَإِبْرَٰهِيمَ ۝ إِذْ جَآءَ رَبَّهُۥ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ۝ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَاذَا تَعْبُدُونَ ۝ أَئِفْكًا ءَالِهَةً دُونَ ٱللَّهِ تُرِيدُونَ ۝ فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

Quran 37:83-87

“نوح کی تابعداری کرنے والوں میں سے ہی ابراہیم بھی تھے۔ جبکہ اپنے رب کے پاس بے عیب دل لائے ۔ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کسے پوج رہے ہو؟۔ کیا تم اپنی فاسد رائے سے اللہ کے سوا دوسروں کے مرید بن رہے ہو؟ ۔ تو یہ بتلاؤ کہ تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے؟” (37:83-87)

وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَٰبِ إِبْرَٰهِيمَ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ۝ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِى عَنكَ شَيْـًٔا ۝ يَٰٓأَبَتِ إِنِّى قَدْ جَآءَنِى مِنَ ٱلْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَٱتَّبِعْنِىٓ أَهْدِكَ صِرَٰطًا سَوِيًّا ۝ يَٰٓأَبَتِ لَا تَعْبُدِ ٱلشَّيْطَٰنَ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ عَصِيًّا ۝ يَٰٓأَبَتِ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ ٱلرَّحْمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَٰنِ وَلِيًّا ۝ قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ ءَالِهَتِى يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَٱهْجُرْنِى مَلِيًّا ۝ قَالَ سَلَٰمٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّىٓ إِنَّهُۥ كَانَ بِى حَفِيًّا ۝ وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَأَدْعُوا۟ رَبِّى عَسَىٰٓ أَلَّآ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّى شَقِيًّا

Quran 19:41-48

“اس کتاب میں ابراہیم کا قصہ بیان کر، بے شک وہ بڑی راستی والے پیغمبر تھے ۔ جب کہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا آپ ان کی پوجا کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں ؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں۔ میرے مہربان باپ، آپ دیکھئے میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں تو آپ میری ہی ما مانئے میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا۔ میرے ابا آپ شیطان کی پرستش سے باز آجائیں شیطان تو رحم و کرم والے اللہ کا بڑا ہی نافرمان ہے۔ اباجی مجھے خوف لگا ہوا ہے کہ کہیں آپ پر کوئی اللہ کا عذاب نہ آ پڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں۔اس نے جواب دیا کہ اے ابراہیم کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے؟ سن اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مارڈالوں گا، جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ۔ کہا اچھا تم پر سلام ہو میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتار ہوں گا وہ مجھ پر صد درجے مہربان ہے۔ میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔ صرف اپنے پروردگار کوہی پکارتا رہوں گا مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگنے میں محروم نہ ر ہوں گا۔”

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا ءَالِهَةً إِنِّىٓ أَرَىٰكَ وَقَوْمَكَ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ ۝ وَكَذَٰلِكَ نُرِىٓ إِبْرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلْمُوقِنِينَ ۝ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ ٱلَّيْلُ رَءَا كَوْكَبًا قَالَ هَٰذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلْـَٔافِلِينَ ۝ فَلَمَّا رَءَا ٱلْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّى فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلضَّآلِّينَ ۝ فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّى هَٰذَآ أَكْبَرُ فَلَمَّآ أَفَلَتْ قَالَ يَٰقَوْمِ إِنِّى بَرِىٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ۝ إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

Quran 6:74-79

“جبکہ ابراہیم نے اپنے باپ آذر سے فرمایا کہ کیا تو بتوںکواللہ مانا ہے؟ میں تو تجھے اور تیری قوم کوکھلی گمراہی پر جانتا ہوں۔ اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمینوں کے ملک و مخلوق بطور دلیل کے دکھائے تھے کہ وہ یقین ہونے والوں میں سے ہو جائیں۔ پھر جب اس پر رات کی اندھیری آئی تو اس نے ایک تارا دیکھا کہنے لگا یہ میرا رب ہے جب وہ غائب ہو گیا کہنے لگا میں چھپ جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ پھر چاند کو چمکتا ہوا دیکھ کر کہہ اٹھا کہ یہ میرا رب ہے۔ جب وہ بھی چھپ گیا تو کہنے لگا اگر میرے رب نے میری سچی رہبری نہ فرمائی تو میں تو گمراہ لوگوں میں سے ہو جاؤں گا۔ پھر آفتاب کو روشن دیکھ کر کہنے لگا یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے۔ جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہنے لگا اے میری قوم کے لوگو میں تو تمہارے مقرر کردہ شریکوں سے بالکل بیزار ہوں۔ میں تو پابند تو حید ہو کر اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ہوں۔”

وَحَآجَّهُۥ قَوْمُهُۥ قَالَ أَتُحَٰٓجُّوٓنِّى فِى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنِ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْـًٔا وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ۝ وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًا فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۝ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يَلْبِسُوٓا۟ إِيمَٰنَهُم بِظُلْمٍ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ ۝ وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيْنَٰهَآ إِبْرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍ مَّن نَّشَآءُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ

Quran 6:80-83

“اس کی قوم اس سے حجت کرنے لگی تواس نے کہا کیا تم مجھے اللہ کے بارے میں جھگڑا کر رہےہو؟ مجھے تو اللہ را ہ د کھا چکاہے۔ جنہیں تم اللہ کے ساتھ شریک بنا رہےہو میں ان سے بالکل نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا پر وردگار ہی کوئی بات چاہے میرا رب ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے ۔](6:80-83) میں تمہارے معبودوں سے کیوں خوف کھاؤں؟ اور تم نہیں ڈرتے کہ اللہ کے ساتھ انہیں شریک ٹھہرارہے ہو جس کی کوئی دلیل اللہ نے تم پر نازل نہیں فرمائی۔ اگر تم میں صحیح علم ہے تو تم ہی بتلا دو کہ ہم دونوں جماعتوں میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے؟ جو لوگ ایمان لا کر اپنے ایمان کو شرک سے خلط ملط نہیں کرتے، ان ہی کے لئے امن ہے اور حقیقتا راہ یافتہ وہی لوگ ہیں، یہی ہمارے وہ دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلہ میں عطا فر مار کھے تھے ۔ ہم جسے چاہیں مرتبوں میں بڑھا چڑھا دیں۔ بیشک تیرا رب بڑی حکمت والا کامل علم والا ہے”۔[

وَإِبْرَٰهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۝ إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْثَٰنًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا إِنَّ ٱلَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَٱبْتَغُوا۟ عِندَ ٱللَّهِ ٱلرِّزْقَ وَٱعْبُدُوهُ وَٱشْكُرُوا۟ لَهُۥٓ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۝ وَإِن تُكَذِّبُوا۟ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

Quran 29:16-18

“ابراہیم نے بھی اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرتے رہوا کر تم میں دانانی ہے تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ تم تو اللہ کے سوابتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو سنو جن جن کی تم اللہ کے سوا پوجا پاٹ کر رہے ہو وہ تو تمہاری روزی کے مالک نہیں پس تمہیں چاہئے کہ تم اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اس کی شکر گزاری کرتے رہو اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی جھٹلایا ہے رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے”

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ كُلًّا هَدَيْنَا وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ۝ وَإِسْمَٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ وَمِنْ ءَابَآئِهِمْ وَذُرِّيَّٰتِهِمْ وَإِخْوَٰنِهِمْ وَٱجْتَبَيْنَٰهُمْ وَهَدَيْنَٰهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَلَوْ أَشْرَكُوا۟ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا۟ بِهَا بِكَٰفِرِينَ ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقْتَدِهْ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَٰلَمِينَ ۝ وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ كُلًّا هَدَيْنَا وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ۝ وَإِسْمَٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

Quran 6:84-90; 6:84-86

“تمام پیغمبروں کو توحید کا پیغام دے کر ان کی قوموں میں بھیجا گیا کہ لوگوں کو ایک اللہ پر ایمان لانے اور شرک سے بچتے رہنے کا حکم دیا گیا۔{6:84-90} “ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب دیا۔ ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی۔ اس سے پہلے کے زمانے میں ہم نے نوح کو بھی راہ راست دکھائی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی نیک کام کرنے والوں کو ہم اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔ اور زکریا اور يحيى اور عيسى ' اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیک بندوں میں تھے۔ اور اسمعیل اور يسع اور یونس اور لوط کو بھی ان سب کو ہم نے دنیا کے لوگوں پر برتری دی”۔ (6:84-86) ان کے بعض باپ دادوں، اولادوں اور بھائیوں کو بھی ہم نے ہدایت دی اور ہم نے انہیں اپنا پسندیدہ کر لیا اور راہ مستقیم کی طرف ان کی رہبری کی۔ یہ ہے اللہ کی ہدایت اس سے نوازتا ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے، یہ لوگ بھی اگر شرک کرتے تو ان کے کئے کرائے تمام اعمال اكارت ہو جاتے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب و حکمت اور پیغمبری عطا فرمائی۔ اگر یہ کفار قرآنی آیتوں کا انکار کریں تو ہم نے ان آیتوں پر ایمان لانے والی وہ قوم مقرر کی ہے جو ان سے کبھی کفر نہ کرے گی۔”

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِى حَآجَّ إِبْرَٰهِـۧمَ فِى رَبِّهِۦٓ أَنْ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّىَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحْىِۦ وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأْتِى بِٱلشَّمْسِ مِنَ ٱلْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ ٱلْمَغْرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِى كَفَرَ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

Quran 2:258

“ابراہیمؑ علیہ السلام کی بادشاہ نمرود سے حجت۔ “(2:258)”کیا تو نے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ وہ کہنے لگا میں زندہ کرتا اور مارتا ہوں ابراہیم نے کہا اللہ تعالی سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ' اب تو وہ کافر حیران رہ گیا اور اللہ تعالی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا”-

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ ٱلطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ ٱجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

Quran 2:260

ابراہیم علیہ السلام اور چار پرندوں کاقصہ : {2:260}”اور جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے پروردگار مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا جناب باری تعالیٰ نے فرمایا کیا تمہیں ایمان نہیں؟ جواب دیا ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی فرمایا چار پرندوں کے ٹکڑے کر ڈالو پھر ہر پہاڑ پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر انہیں پکارو تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آ جائیں گے اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمتوں والا ہے۔”

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِى ٱلنُّجُومِ ۝ فَقَالَ إِنِّى سَقِيمٌ ۝ فَتَوَلَّوْا۟ عَنْهُ مُدْبِرِينَ ۝ فَرَاغَ إِلَىٰٓ ءَالِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ۝ مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَ ۝ فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًۢا بِٱلْيَمِينِ ۝ فَأَقْبَلُوٓا۟ إِلَيْهِ يَزِفُّونَ ۝ قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ ۝ وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ۝ قَالُوا۟ ٱبْنُوا۟ لَهُۥ بُنْيَٰنًا فَأَلْقُوهُ فِى ٱلْجَحِيمِ ۝ فَأَرَادُوا۟ بِهِۦ كَيْدًا فَجَعَلْنَٰهُمُ ٱلْأَسْفَلِينَ

Quran 37:88-98

“اب ابراہیم نے ایک نگاہ ستاروں کی طرف اٹھائی اور کہا میں تو بیمار ہو جاؤں گا۔ اس پر وہ سب اس سے منہ موڑے ہوئے واپس چلے گئے ۔ آپ چپ چپاتے ان کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں؟۔ تمہیں کیا ہو گیا کہ بات تک نہیں کرتے ؟۔ پھر تو پوری قوت کے ساتھ دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے۔ بت پرست دوڑے بھاگے آپ کی طرف متوجہ ہوئے ۔ تو آپ نے فرمایا کیا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود تم تراشتے ہو؟۔ حالانکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی سب چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے ۔ وہ کہنے لگے اس کیلئے ایک آتش کدہ بناؤ اور اس دیکھتی ہوئی آگ میں اسے ڈال دو۔ انہوں نے تو ابراہیم کے ساتھ مکر کرنا چاہا لیکن ہم نے انہی کو نیچوں کا نیچ کر دیا۔

فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّىٓ إِلَّا رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ ٱلَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ ۝ وَٱلَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ ۝ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ۝ وَٱلَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ ۝ وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيٓـَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ ۝ رَبِّ هَبْ لِى حُكْمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ ۝ وَٱجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ ۝ وَٱجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيمِ

Quran 26:77-85

بیانِ توحید “سب میرے دشمن ہیں بجز سچے اللہ کے جو تمام جہان کا پالن ہار ہے (77) جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے(78)وہی مجھے کھلاتا پلاتا ہے (79)اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے (80)اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زندہ کردے گا (81) اور جس سے مجھے امید بندھی ہوئی ہے کہ وہ روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا ۔”(82)اے اللہ مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے(83) اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ (84) اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں بنا دے ۔”(85)

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذْ قَالُوا۟ لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُا۟ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةُ وَٱلْبَغْضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَحْدَهُۥٓ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ ۝ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَٱغْفِرْ لَنَا رَبَّنَآ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

Quran 60:4,5

“اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے(4)خدایا! تو ہمیں کافروں کا زير دست اور تختہ مشق نہ بنا اور اے ہمارے پالنے والے ہماری خطاؤں کو بخش دے، بیشک تو ہی غالب، حکمتوں والا ہے۔” {60:4,5

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى وَهَبَ لِى عَلَى ٱلْكِبَرِ إِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ إِنَّ رَبِّى لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ ۝ رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِى رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ۝ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ

Quran 14:39-41

“کچھ شک نہیں کہ میرا پالنے والا اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے()اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما()اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے ، میرے ماں باپ کو بھی بخش اور دیگر مؤمنوں کو بھی بخش جس دن حساب ہونے لگے۔(14:39-41)”

ٱلَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ ۝ وَٱلَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ ۝ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ۝ وَٱلَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ ۝ وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيٓـَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ

Quran 26:78-82

“ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے(78)وہی مجھے کھلاتا پلاتا ہے (79)اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے (80)اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زندہ کردے گا (81) اور جس سے مجھے امید بندھی ہوئی ہے کہ وہ روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا“۔

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَٰهِيمَ رُشْدَهُۥ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِۦ عَٰلِمِينَ ۝ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَا هَٰذِهِ ٱلتَّمَاثِيلُ ٱلَّتِىٓ أَنتُمْ لَهَا عَٰكِفُونَ ۝ قَالُوا۟ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا لَهَا عَٰبِدِينَ ۝ قَالَ لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمْ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ ۝ قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا بِٱلْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ ٱللَّٰعِبِينَ ۝ قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلَّذِى فَطَرَهُنَّ وَأَنَا۠ عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ ٱلشَّٰهِدِينَ ۝ وَتَٱللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَٰمَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا۟ مُدْبِرِينَ ۝ فَجَعَلَهُمْ جُذَٰذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ ۝ قَالُوا۟ مَن فَعَلَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَآ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ قَالُوا۟ سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُۥٓ إِبْرَٰهِيمُ ۝ قَالُوا۟ فَأْتُوا۟ بِهِۦ عَلَىٰٓ أَعْيُنِ ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ ۝ قَالُوٓا۟ ءَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَا يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ ۝ قَالَ بَلْ فَعَلَهُۥ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا فَسْـَٔلُوهُمْ إِن كَانُوا۟ يَنطِقُونَ ۝ فَرَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ فَقَالُوٓا۟ إِنَّكُمْ أَنتُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ۝ ثُمَّ نُكِسُوا۟ عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰٓؤُلَآءِ يَنطِقُونَ ۝ قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْـًٔا وَلَا يَضُرُّكُمْ ۝ أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۝ قَالُوا۟ حَرِّقُوهُ وَٱنصُرُوٓا۟ ءَالِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ ۝ قُلْنَا يَٰنَارُ كُونِى بَرْدًا وَسَلَٰمًا عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ ۝ وَأَرَادُوا۟ بِهِۦ كَيْدًا فَجَعَلْنَٰهُمُ ٱلْأَخْسَرِينَ ۝ وَنَجَّيْنَٰهُ وَلُوطًا إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا لِلْعَٰلَمِينَ ۝ وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صَٰلِحِينَ ۝ وَجَعَلْنَٰهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِمْ فِعْلَ ٱلْخَيْرَٰتِ وَإِقَامَ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءَ ٱلزَّكَوٰةِ وَكَانُوا۟ لَنَا عَٰبِدِينَ

Quran 21:51-73

ابراہیم علیہ السلام توحید پر قائل کرتے ہیں اور انکو آگ میں ڈال دیا جاتا ہے : {21:51-73} “جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں؟ (51)سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا(52)آپ نے فرمایا! پھر تم اور تمہارے باپ دادا بھی سب یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا رہے(53)کہنے لگے، کیا آپ ہمارے پاس سچ مچ حق لائے ہیں؟(54)یا یوں ہی کھلی بازی کر رہے ہیں ؟آپ نے فرمایا، نہیں درحقیقت تم سب کا پروردگار تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے، جس نے انہیں پیدا کیا ہے، میں تو اپنی بات کا گواہ اور قائل ہوں(55)یقینا ہم نے ابراہیم کو چھٹپن (بچپن) میں ہی ان کی راہ یابی دے رکھی تھی اور ہم اس کے احوال سے بخوبی باخبر تھے(56)اللہ کی قسم میں تمہارے ان معبودوں کا علاج تمہارے پیٹھ پھیر کر جا چکنے کے بعد ضرور کروں گا(57)پھر تو ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا یہ بھی اس لئے کہ وہ سب اس کی طرف ہی لوٹیں(58)کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا؟ ایسا شخص تو یقیناً ظالموں میں سے ہے (59)بولے ہم نے ایک نوجوان کو ان کا تذکرہ کرتے ہوئے تو سنا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) کہا جاتا ہے (60)سب نے کہا، اچھا اسے مجمع میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے لاؤ تاکہ سب دیکھیں (61)کہنے لگے! اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تو نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟ (62)آپ نے جواب دیا بلکہ اس کام کو ان کے بڑے نے کیا ہے ـتم اپنے خداؤں سے پوچھ لو، اگر یہ بولتے چالتے ہوں (63) پس یہ لوگ اپنے دلوں میں قائل ہوگئے اور کہنے لگے، واقع ظالم تو تم ہی ہو (64)پھر سرڈال کر کچھ سوچ سمجھ کر باوجود قائل ہوجانے کے کہنے لگے، کہ یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ بولنے چالنے والے نہیں (65)خلیل اللہ نے اسی وقت فرمایا، افسوس! کہ تم ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ بھی نفع پہنچا سکیں نہ نقصان(66)تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو، کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں (67)کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے(68)تو ہم نے فرما دیا اے آگ! تو ٹھندی پڑ جا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے سلامتی اور آرام کی چیز بن جا(69)گو انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہا، لیکن ہم نے انہیں ہی نقصان پانے والاکردیا (70)ہم ابراہیم اور لوط کو بچا کر اس زمین کی طرف لے چلے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت رکھی تھی(71)اور ہم نے اسے اسحاق عطا فرمایا اور یعقوب اس پر زیادہ دیا، اور ہر ایک کو ہم نے نیک کار کیا(72)اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہبری کریں اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نمازوں کے قائم رکھنے اور زکٰوۃ دینے کی وحی کی، اور وہ سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے-”(73)

رَبِّ هَبْ لِى حُكْمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ ۝ وَٱجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ ۝ وَٱجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيمِ

Quran 26:83-85

“اے اللہ مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے۔ اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔ اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنادے۔”

رَبِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

Quran 37:100

(اولاد ہونے کے لئے ابراہیم علیہ السلام کی دُعا) “ اے میرے رب! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔” {37:100} بیٹے اسماعیل کوبی بی ہاجرہ کے ساتھ کعبہ (بیت اللہ) کے پاس چھوڑتے وقت کی دعا: ابراہیمؑ علیہ السلام اپنی قوم سے ہجرت کر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹا اسماعیل عطا کیا۔ اللہ کے حکم پر چھ ماہ کے بیٹے اسماعیل کو ان کی ماں بی بی ہاجرہ کے ساتھ کعبہ (بیت اللہ) کے پاس چھوڑتے وقت اللہ سے دعا کی۔ اس وقت مکہ صحرا (ریگستان) تھا۔ نہ کوئی سایہ تھا نہ کھانے پینے کی چیز۔

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَٰذَا ٱلْبَلَدَ ءَامِنًا وَٱجْنُبْنِى وَبَنِىَّ أَن نَّعْبُدَ ٱلْأَصْنَامَ ۝ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ فَمَن تَبِعَنِى فَإِنَّهُۥ مِنِّى وَمَنْ عَصَانِى فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝ رَّبَّنَآ إِنِّىٓ أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِى بِوَادٍ غَيْرِ ذِى زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ ٱلْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجْعَلْ أَفْـِٔدَةً مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهْوِىٓ إِلَيْهِمْ وَٱرْزُقْهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ

Quran 14:35-37

“ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد ہے کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میری اولادکو بت پرستی سے پناہ دے۔(35)میرے پالنے والے اللہ انہوں نے بہت سے لوگوں کو راہ سے بھٹکا رکھا ہے، میری تابعداری کرنے والا میرا ہے، اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بہت ہی معافی اور کرم کرنے والا ہے۔ (36)اے ہمارے پروردگار میں نے اپنی کچھ اولا د اس بے کھیتی کے جنگل میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار یہ اس لئے کہ وہ نماز قائم رکھیں۔ پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تا کہ یہ شکر گزاری کریں”۔

وَقَالَ إِنِّى ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّى سَيَهْدِينِ ۝ رَبِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ۝ فَبَشَّرْنَٰهُ بِغُلَٰمٍ حَلِيمٍ ۝ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعْىَ قَالَ يَٰبُنَىَّ إِنِّىٓ أَرَىٰ فِى ٱلْمَنَامِ أَنِّىٓ أَذْبَحُكَ فَٱنظُرْ مَاذَا تَرَىٰ قَالَ يَٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰبِرِينَ ۝ فَلَمَّآ أَسْلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلْجَبِينِ ۝ وَنَٰدَيْنَٰهُ أَن يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ ۝ قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّءْيَآ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْبَلَٰٓؤُا۟ ٱلْمُبِينُ ۝ وَفَدَيْنَٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ۝ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ ۝ سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ ۝ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ

Quran 37:99-111

37:99-111}} اسما عیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا واقعہ : {37:99-111} “ابراہیم نے کہا ، میں ، تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ، وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا(99) “ اے میرے رب! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما(100)تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی (101)پھر جب بچہ اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا،میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے تئیں تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے(102)غرض جب دونوں نے تسلیم کر لی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرا دیا(103)ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم! (104)یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں(105)درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا (106)اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا (107) اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا(108) ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو(109)ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں(110)بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا۔”(111) ] ]دل کے پورے ارادے سے بچے کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹا دینے سے ہی تونے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہے ۔ کیوں کہ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں تجھے کوئی چیز بھی عزیز تر نہیں ہے حتی کہ اکلوتا بیٹا بھی ۔ یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس میں تو سرخرو رہا یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈا تھا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل ؑ کے ذریعہ سے بھیجا ( ابن کثیر) اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اسے ذبح کیا گیا اور پھر اس سنت ابراہیمی کو قیامت تک قرب الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ اورعید الاضحی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا گیا ۔[

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذْ قَالُوا۟ لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُا۟ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةُ وَٱلْبَغْضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَحْدَهُۥٓ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ ۝ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَٱغْفِرْ لَنَا رَبَّنَآ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ۝ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ ۝ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً وَٱللَّهُ قَدِيرٌ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Quran 60:4-7

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ : {60:4-7} “مسلمانو! تمہارے لئے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے اور اچھی پیروی موجود ہے ، جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں ہم تمہارے عقائد کے منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لئے بغض و عداوت ظاہر ہوگیا لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے(4) خدایا! تو ہمیں کافروں کا زیر دست اور تختہ مشق نہ بنا اور اے ہمارے پالنے والے ہماری خطاؤں کو بخش دے، بیشک تو ہی غالب، حکمتوں والا ہے()یقیناً تمہارے لئے ان میں اچھا نمونہ اور عمدہ پیروی ہے خاص کر ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کا اعتقاد رکھتا ہو اور اگر کوئی روگردانی کرے تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور وہ سزاوار حمد و ثنا ہے() کیا عجب کہ عنقریب ہی اللہ تعالیٰ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں محبت پیدا کر دے، اللہ کو سب قدرتیں ہیں ، اللہ بڑا غفور رحیم ہے-” ایک بردبار بچے اسماعیل کی بشارت دی گئی۔ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا ذکر آنے والی قوموں کے لیے اللہ تعالیٰ نے مثال بنا دی۔ (ذبیحہ کے واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوسرے بیٹے اسحاق کی خوش خبری دی)

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ ۝ سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ ۝ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ ۝ وَبَشَّرْنَٰهُ بِإِسْحَٰقَ نَبِيًّا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ۝ وَبَٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰٓ إِسْحَٰقَ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ مُبِينٌ

Quran 37:108-113

“ہم نے اسے اسحاق نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا۔ اور ہم نے ابراہیم و اسحاق پر برکتیں نازل فرمائیں، ان دونوں کی اولادوں میں بعض تو نیک بخت ہیں اور بعض اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والے بھی ہیں”۔

وَإِذِ ٱبْتَلَىٰٓ إِبْرَٰهِـۧمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٰتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِى قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ وَإِذْ جَعَلْنَا ٱلْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَٱتَّخِذُوا۟ مِن مَّقَامِ إِبْرَٰهِـۧمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِـۧمَ وَإِسْمَٰعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْعَٰكِفِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ

Quran 2:124,125

“اللہ تعالیٰ نے ابراہیمؑ علیہ السلام کو رسول بنایا۔(2:124,125) “جب ابراہیم علیہ السلام کوان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اورانہوں نے کو رہا کردیا تو ان کے فرمایاکہ میں میں لوگوں کا امام بنادوں گا۔ عرض کرنے لگے۔ میری اولاد کو فرمایا میراوعدہ ظالموں سے نہیں۔ ہم نے بیت اللہ لوگوں کے لیے ثواب کی اور امن و امان کی جگہ بنائی ۔ تم مقام ابراہیم کو قبلہ مقرر کر لو۔ ہم نے ابراہیم اور اسمعیل سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو”۔

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَٰهِـۧمُ ٱلْقَوَاعِدَ مِنَ ٱلْبَيْتِ وَإِسْمَٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ۝ رَبَّنَا وَٱجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

Quran 2:127,128

ذبیحہ کے واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو کعبہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔{2:127,128}“ابراہیم اور اسمعیل کعبہ کی بنیاد یں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار تو ہم سے قبول فرما۔ تو سنے اور جانے والا ہے۔ اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنالے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ تو تو بہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے”۔

رَبَّنَا وَٱبْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

Quran 2:129

“اے ہمارے رب ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے۔ انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔ یقینا تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے”(

وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَٰهِيمَ مَكَانَ ٱلْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِى شَيْـًٔا وَطَهِّرْ بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْقَآئِمِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ ۝ وَأَذِّن فِى ٱلنَّاسِ بِٱلْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ۝ لِّيَشْهَدُوا۟ مَنَٰفِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ فِىٓ أَيَّامٍ مَّعْلُومَٰتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلْأَنْعَٰمِ فَكُلُوا۟ مِنْهَا وَأَطْعِمُوا۟ ٱلْبَآئِسَ ٱلْفَقِيرَ ۝ ثُمَّ لْيَقْضُوا۟ تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا۟ نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا۟ بِٱلْبَيْتِ ٱلْعَتِيقِ

Quran 22:26-29

“ جب کہ ہم نے ابراہیم کو کعبے کے مکان کی جگہ مقرر کردی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف ، قیام رکوع، سجدہ کرنےوالوں کے لئے پاک صاف رکھنا، لوگوں میں حج کی منادی کردے، لوگ تیرے پاس پا پیادہ بھی آئیں گےاوردبلے پتلے اونٹوں پربھی،دور دراز کی تمام راہوں سے آجائیں گے۔اپنے فائدے کے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ان چوپایوں پر جو پالتو ہیں، پس تم آپ بھی اسےکھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔ پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف اداکریں۔”(22:26-29) ]پھر وہ احرام کھول ڈالیں، سر منڈوالیں، کپڑے پہن لیں، ناخن کٹوالیں وغیرہ احکام حج پورے کرلیں، نذریں پوری کرلیں، حج کی قربانی کی اور جو ہو، پس جو شخص حج کے لئے نکلا ،اس کے ذمے طواف بیت اللہ، طواف صفا و مروہ، عرفات کے میدان میں جانا، مزدلفے کی حاضری، شیطانوں کو کنکر مارنا وغیرہ سب کچھ لازم ہے، ان تمام احکام کو پورے کریں اور صحیح طور پر بجالائیں اور بیت اللہ شریف کا طواف کریں جو یوم النحر کو واجب ہے۔ [

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ ٱلْأَنْعَٰمُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلرِّجْسَ مِنَ ٱلْأَوْثَٰنِ وَٱجْتَنِبُوا۟ قَوْلَ ٱلزُّورِ

Quran 22:30

یہ ہے اور جوکوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرنے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے اور تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کر دیئے گئے ہیں بجز ان کے جو تمہارے سامنے بیان کئے گئے ہیں۔ پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہئے اور جھوٹی بات سے بھی پر ہیز کرنا چاہئے۔{22:30}

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا ءَامِنًا وَٱرْزُقْ أَهْلَهُۥ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ مَنْ ءَامَنَ مِنْهُم بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُۥ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُۥٓ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلنَّارِ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

Quran 2:126

“جب ابراہیم نے کہا اے پروردگار تو اس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے۔ اللہ تعالی نے فرمایا میں کافروں کو بھی تھوڑا فائدہ دوں گا ۔ پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا۔ یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے”۔( 2:126

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَٰهِـۧمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُۥ وَلَقَدِ ٱصْطَفَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ۝ إِذْ قَالَ لَهُۥ رَبُّهُۥٓ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

Quran 2:130,131

دین ابراھیمی سے وہی بے رغبتی کریگا، جو محض بیوقوف ہے : {2:130,131} “دین ابراہیمی سے وہ ہی بے رغبتی کرے گا جو محض بیوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیدہ کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ نیک کاروں سے تھا (130)جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، مان لے ، انہوں نے کہا، میں نےرب العالمین کی مان لی۔”(131) ]یہ فضیلت و برگزیدگی انہیں اس لئے حاصل ہوئی کہ انہوں نے اطاعت و فرمانبرداری کا بے مثال نمونہ پیش کیا ۔”

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ ۝ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً وَٱللَّهُ قَدِيرٌ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Quran 60:6,7

“یقیناً تمہارے لئے ان میں اچھا نمونہ اور عمدہ پیروی ہے خاص کر ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کا اعتقاد رکھتا ہو اور اگر کوئی روگردانی کرے تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور وہ سزاوار حمد و ثنا ہے(6) کیا عجب کہ عنقریب ہی اللہ تعالیٰ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں محبت پیدا کر دے، اللہ کو سب قدرتیں ہیں ، اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔”

2.9 اسماعیلؑ علیہ السلام

وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَٰبِ إِسْمَٰعِيلَ إِنَّهُۥ كَانَ صَادِقَ ٱلْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا ۝ وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُۥ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِۦ مَرْضِيًّا

Quran 19:54,55

“اس کتاب میں اسماعیل کا واقعہ بھی بیان کر وہ بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی۔ وہ اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوۃ کا حکم دیتا رہتا تھا اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول”۔(19:54,55) اسحاقؑ (ابراہیمؑ علیہ السلام کے دوسرے بیٹے) اور یعقوبؑ (اسحاقؑ کے بیٹے) کی خوش خبری دی ۔

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلْكِتَٰبَ وَءَاتَيْنَٰهُ أَجْرَهُۥ فِى ٱلدُّنْيَا وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

Quran 29:27 · 2.9.ii

“ہم نے ابراہیم کو اسحاق ویعقوب عطا فر مایا اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اولاد میں کر دی اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ثواب دیا اور آخرت میں تو وہ صالح لوگوں میں سے ہے”-

وَوَهَبْنَا لَهُم مِّن رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا

Quran 19:50 · 2.9.iii

ذبیحہ کے واقعے کے بعد ابراہیمؑ علیہ السلام کو دوسرے بیٹے اسحاقؑ اور پوتے یعقوبؑ کی خوش خبری دی گئی “(19:50) جب ابراہیم ان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب عطا فرمائے اور دونوں کو نبی بنا دیا۔ اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں عطافرما ئیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند در جے کا کر دیا”۔

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صَٰلِحِينَ ۝ وَجَعَلْنَٰهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِمْ فِعْلَ ٱلْخَيْرَٰتِ وَإِقَامَ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءَ ٱلزَّكَوٰةِ وَكَانُوا۟ لَنَا عَٰبِدِينَ

Quran 21:72,73 · 2.9.iv

“اور ہم نے اسے اسحاق عطا فر مایا اور یعقوب اور زیادہ دیا، اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہبری کریں اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نمازوں کے قائم رکھنے اور زکوۃ کے دینے کی وحی کی، اور وہ سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے “{21:72,73}

وَٱذْكُرْ عِبَٰدَنَآ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ أُو۟لِى ٱلْأَيْدِى وَٱلْأَبْصَٰرِ ۝ إِنَّآ أَخْلَصْنَٰهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى ٱلدَّارِ ۝ وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ ٱلْمُصْطَفَيْنَ ٱلْأَخْيَارِ ۝ وَٱذْكُرْ إِسْمَٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَذَا ٱلْكِفْلِ وَكُلٌّ مِّنَ ٱلْأَخْيَارِ ۝ هَٰذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَـَٔابٍ

Quran 38:45-49 · 2.9.v

ابراہیمؑ علیہ السلام ، اسحاقؑ علیہ السلام اور یعقوبؑ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آخرت کی یاد سے مخصوص کر دیا(38:45-49) :“ہمارے بندوں ابراہیم اسحاق اور یعقوب کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے ہم نے انہیں ایک امتیازی بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا۔ یہ سب ہمارے نزدیک برگزیدہ اور بہترین لوگ تھے۔ اسماعیل یسع اور ذوالکفل کا بھی ذکر کیجئے یہ سب بہترین لوگ تھے ۔ یہ ہے نصیحت یقین مانو کہ پر ہیز گاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے” ۔ ٭٭٭

2.10 اللہ کے رسولوں پر ایمان لانے والوں کے لیے جنت کی خوش خبریاں :

هَٰذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَـَٔابٍ ۝ جَنَّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ ٱلْأَبْوَٰبُ ۝ مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدْعُونَ فِيهَا بِفَٰكِهَةٍ كَثِيرَةٍ وَشَرَابٍ ۝ وَعِندَهُمْ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ أَتْرَابٌ ۝ هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ ۝ إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ

Quran 38:49-54 · 2.10.i

“یہ ہے نصیحت یقین مانو کہ پر ہیز گاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے یعنی ہمیشگی والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ جن میں بافراغت تکئے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کررہے ہیں۔ اور ان کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر کمسن حور یں ہوں گی۔ یہ ہے جس کا وعدہ تم سے حساب کے دن کا کیا جاتا تھا۔ بے شک یہ روزیاں خاص ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں”۔(38:49-54)

أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُومٌ ۝ فَوَٰكِهُ وَهُم مُّكْرَمُونَ ۝ فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ۝ عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَٰبِلِينَ ۝ يُطَافُ عَلَيْهِم بِكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍۭ ۝ بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشَّٰرِبِينَ ۝ لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ ۝ وَعِندَهُمْ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ عِينٌ ۝ كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ

Quran 37:41-49 · 2.10.ii

مخلص بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں “: مگر اللہ کے خالص برگزیدہ بند ے۔ انہی کے لیے مقرر روزی ہے۔ میوے ہر طرح کے اور وہ ذی عزت و اکرام ہیں۔ نعمتوں والی جنتوں میں ۔تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔ جاری شراب کے جام کا ان پر دور چل رہا ہوگا۔ جو سفید اور پینے میں لذیذ ہوگی۔ نہ اس سے دردسر ہو اور نہ اس کے پینے سے بہکنے لگیں۔ اور ان کے پاس نیچی نظروں والی بڑی بڑی آنکھوں والی حور یں ہوں گی۔ ایسی جیسے چھپائے ہوئے موتی”۔ (37:41-49)

هَٰذَا وَإِنَّ لِلطَّٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٍ ۝ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ ۝ هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ ۝ وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِۦٓ أَزْوَٰجٌ ۝ هَٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا۟ ٱلنَّارِ ۝ قَالُوا۟ بَلْ أَنتُمْ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا فَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ ۝ قَالُوا۟ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِى ٱلنَّارِ ۝ وَقَالُوا۟ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلْأَشْرَارِ ۝ أَتَّخَذْنَٰهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ ٱلْأَبْصَٰرُ ۝ إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ ٱلنَّارِ

Quran 38:55-64 · 2.10.iii

اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کے لیے جہنم کا وعدہ اور اس کا عذاب{38:55-64}: “یہ تو ہوئی جزا یا درکھو کہ سرکشوں کے لئے بڑی بری جگہ ہے۔ جو دوزخ ہے جس میں وہ جائیں گئے آہ کیا ہی برا بچھونا ہے۔ یہ ہے پس اسے چکھیں ۔ گرم پانی اور پیپ اور کچھ اس شکل کی طرح طرح کی چیزیں۔ یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ آگ میں جانے والی ہے انہیں خوشی اورکشادگی نہ ہو، یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں۔ وہ کہیں گے بلکہ تم ہی ہو کہ تمہیں خوشی نہ ہو۔ تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے لا رکھا تھا' پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے۔ وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! جس نے کفر کی رسم ہمارے لئے پہلے سے نکالی ہو، اس کے حق میں جہنم کی دوگنی سزا کر دے۔ جہنمی کہیں گے یہ کیا بات ہے کہ وہ لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا یا ہماری نگا میں ان سے بہک رہی ہیں؟ یقین جانو کہ دوزخیوں کا یہ جھگڑ اضرور ہی ہوگا”- کافروں سے اللہ کا سوال

فَٱسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَآ إِنَّا خَلَقْنَٰهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍۭ ۝ بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ ۝ وَإِذَا ذُكِّرُوا۟ لَا يَذْكُرُونَ ۝ وَإِذَا رَأَوْا۟ ءَايَةً يَسْتَسْخِرُونَ ۝ وَقَالُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ ۝ أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ۝ أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ ۝ قُلْ نَعَمْ وَأَنتُمْ دَٰخِرُونَ ۝ فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَٰحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ يَنظُرُونَ

Quran 37:11-19 · 2.10.iv

“ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے؟ ہم نے انسانوں کو تو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے(11) بلکہ تو تعجب کر رہا ہے اور یہ مسخرا پن کر رہے ہیں، اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے، یہ نہیں مانتے() اور جب کسی معجزے کو دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں ۔() اور کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل کھلم کھلا جادو ہی ہے۔ () کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈی ہوجائیں گے پھر کیا سچ مچ ہم زندہ کئے جائیں گے ؟ ()یا ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی ؟ ()تو جواب دے کہ ہاں ہاں اور تم ذلیل ہوؤ گے ۔ (17) وہ تو صرف ایک زور کا نعرہ ہے کہ یکا یک یہ دیکھنے لگیں گے”۔(37:11-19)

وَقَالُوا۟ يَٰوَيْلَنَا هَٰذَا يَوْمُ ٱلدِّينِ ۝ هَٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ۝ ٱحْشُرُوا۟ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَأَزْوَٰجَهُمْ وَمَا كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ ۝ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَٱهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْجَحِيمِ ۝ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُم مَّسْـُٔولُونَ ۝ مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ ۝ بَلْ هُمُ ٱلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ ۝ وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ ۝ قَالُوٓا۟ إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ ٱلْيَمِينِ ۝ قَالُوا۟ بَل لَّمْ تَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ ۝ وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍۭ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَٰغِينَ ۝ فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَآ إِنَّا لَذَآئِقُونَ ۝ فَأَغْوَيْنَٰكُمْ إِنَّا كُنَّا غَٰوِينَ ۝ فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ ۝ وَقَالُوا۟ يَٰوَيْلَنَا هَٰذَا يَوْمُ ٱلدِّينِ ۝ هَٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ۝ ٱحْشُرُوا۟ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَأَزْوَٰجَهُمْ وَمَا كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ ۝ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَٱهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْجَحِيمِ ۝ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُم مَّسْـُٔولُونَ ۝ مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ ۝ بَلْ هُمُ ٱلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ

Quran 37:20-33; 37:20-26 · 2.10.v

فیصلے کے دن کافر کہیں گے۔{37:20-33} “اور کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی یہی جزا سزا کا دن ہے۔ یہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے رہے۔ ظالموں کو اور ان کے ہمراہیوں کو اور جن جن کی وہ اللہ کے سوا پر ستش کرتے تھے۔ ان سب کو جمع کر کے انہیں دوزخ کی راہ دکھا دو۔ اور انہیں ٹھہر الو اس لئے کہ ان سے ضروری سوال کئے جانے والے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اس وقت ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ۔ بلکہ وہ سب کے سب آج فرمانبردار بن گئے” ۔(37: 20-26) وہ ایک دوسرے کی طرف مخاطب ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے ۔کہیں گے کہ تم تو ہمارے پاس ہماری دائیں طرف سے آتے تھے ۔ وہ جواب دیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہی ایمان دار نہ تھے۔ کچھ ہماری زور از دری تو تم پر تھی ہی نہیں بلکہ تم خود سرکش لوگ تھے۔ اب تو ہم سب پر ہمارے رب کی یہ بات ثابت ہو چکی کہ ہم عذاب چکھنے والے ہیں۔ ہم نے تمہیں گمراہ کیا ہم تو خود بھی گمراہی تھے۔ اب آج کے دن تو یہ سب کے سب عذاب میں شریک ہیں”۔ کافروں کو اللہ کا جواب

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِينَ ۝ إِنَّهُمْ كَانُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ ۝ وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓا۟ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍۭ ۝ بَلْ جَآءَ بِٱلْحَقِّ وَصَدَّقَ ٱلْمُرْسَلِينَ ۝ إِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا۟ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَلِيمِ ۝ وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

Quran 37:34-39 · 2.10.vi

“ہم گنہ گاروں کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دینے والے ہیں؟۔ نہیں نہیں بلکہ نبی تو پر سچادین لائے ہیں اور سب رسولوں کو سچا جانتے ہیں۔ یقینا تم درد ناک عذابوں کے مزے چکھنے والے ہو۔ تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے ۔”( 37:34-39) قیامت کے دن ایمان والوں اور کافروں کی آپس میں بات ہو گی ۔

فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ ۝ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ إِنِّى كَانَ لِى قَرِينٌ ۝ يَقُولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُصَدِّقِينَ ۝ أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَدِينُونَ ۝ قَالَ هَلْ أَنتُم مُّطَّلِعُونَ ۝ فَٱطَّلَعَ فَرَءَاهُ فِى سَوَآءِ ٱلْجَحِيمِ ۝ قَالَ تَٱللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ ۝ وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّى لَكُنتُ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ ۝ أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ ۝ إِلَّا مَوْتَتَنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ۝ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ۝ لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ ٱلْعَٰمِلُونَ

Quran 37:50-61 · 2.10.vii

﴿ ﴾ “ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے پوچھیں گے ۔ ان میں سے ایک کہے گا کہ میرا ایک ہم نشین تھا۔ جو مجھ سے کہا کرتا تھا کہ کیا تو قیامت کے آنے کا یقین کرنے والوں میں سے ہے؟۔ کیا جبکہ ہم مرکر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے؟ کیا اس وقت ہم جلا دیئے جانے والے ہیں ۔ کہے گا تم چاہتے ہو تو جھانک کر دیکھ لو؟۔ جھانکتے ہی اسے تو بیچو بیچ جہنم میں جلتا ہوا دیکھے گا۔ کہے گا واللہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی برباد کر دے۔ اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کیا گیا ہوتا۔ کیا یہ صحیح ہے کہ ہم مرنے والے ہی نہیں ؟ ۔ بجز پہلی ایک موت کے اور نہ ہم عذاب کئے جانے والے ہیں؟۔ پھر تو ظاہر بات ہے کہ بڑی کامیابی ہے۔ ایسی کامیابی کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے”۔ کافروں سے سوال: جنت کی مہمانی بہتر ہے یا جہنم کا عذاب؟

لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ ٱلْعَٰمِلُونَ ۝ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ ۝ إِنَّا جَعَلْنَٰهَا فِتْنَةً لِّلظَّٰلِمِينَ ۝ إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِىٓ أَصْلِ ٱلْجَحِيمِ ۝ طَلْعُهَا كَأَنَّهُۥ رُءُوسُ ٱلشَّيَٰطِينِ ۝ فَإِنَّهُمْ لَـَٔاكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِـُٔونَ مِنْهَا ٱلْبُطُونَ ۝ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيمٍ ۝ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى ٱلْجَحِيمِ ۝ إِنَّهُمْ أَلْفَوْا۟ ءَابَآءَهُمْ ضَآلِّينَ ۝ فَهُمْ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمْ يُهْرَعُونَ ۝ وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ ٱلْأَوَّلِينَ ۝ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِم مُّنذِرِينَ ۝ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ ۝ إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ

Quran 37:61-74 · 2.10.viii

“کیایہ مہمانی اچھی ہے یا سینڈھ کا درخت۔ جسے ہم نے ستمگاروں کے لئے سخت سزا بنا رکھا ہے۔ جو درخت جہنم کی جز میں سے نکلتا ہے۔ جس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوتے ہیں۔ جہنمی اسی درخت کو کھا ئیں گے اور اسی سے پیٹ بو جھل کر لیں گے۔ پھر اس پر گرم جلتے جلتے پانی کی ملونی ہوگی۔ پھر ان سب کا لوٹا جہنم کی آگ کے ڈھیر کی طرف ہوگا۔ یقین مانو کہ انہوں نے اپنے باپ دادوں کو بہکا ہوا پایا۔ یہ انہی کے نشان قدم پر دوڑے بھاگے چلتے رہے۔ان سے پہلے بھی بہت سے اگلے بہک چکے ہیں جن میں ہم نے آگاہ کرنے والے رسول بھیجے تھے۔ اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا، ان کا انجام کیسا کچھ ہوا؟۔ سوائے اللہ کے برگزیدہ مخلص بندوں کے ۔ ہمیں نوح نے پکارا تو دیکھ لو کہ ہم کیسے اچھے دعا کےقبول کرنے والے ہیں۔ ہم نے اسے اور اس کے تابعداروں کو اس زیر دست مصیبت سے بچالیا۔ اس کی اولاد ہم نے باقی رہنے والی بنادی ۔ اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔ نوح پر تمام جہانوں میں سلام ہو۔ ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا۔ پھر ہم نے باقی کے سب لوگوں کو ڈبو دیا “-

2.11 لوط علیہ السلام

فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّى مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّىٓ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

Quran 29:26

(29:26)”- حضرت ابراہیم پر حضرت لوط ایمان لائے اور کہنے لگے کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ وہ بڑا ہی غالب اور حکیم ہے“

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ ٱلْمُنكَرَ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱئْتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ۝ قَالَ رَبِّ ٱنصُرْنِى عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْمُفْسِدِينَ ۝ وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٰهِيمَ بِٱلْبُشْرَىٰ قَالُوٓا۟ إِنَّا مُهْلِكُوٓا۟ أَهْلِ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ ۝ قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا۟ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ ۝ وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالُوا۟ لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ ۝ إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَىٰٓ أَهْلِ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ رِجْزًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ ۝ وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَآ ءَايَةًۢ بَيِّنَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

Quran 29:28-35

“حضرت لوط کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو اس بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا۔ کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو؟ اور اپنی تمام مجلسوں میں بے حیائیوں کے کام کرتے ہو؟ اس کے جواب میں آپ کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہ کہا کہ بس جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آ۔ حضرت لوظ نے دعا کی کہ پروردگار اس مفسد قوم پر تو میری مدد فر ما۔ جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں، یقینا یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں۔(29:28-31)حضرت ابراہیم کہنے لگے کہ اس میں تو لوط ہیں۔ فرشتوں نے کہا یہاں جو ہیں ہم انہیں بخوبی جانتے ہیں، لوط کو اور اس کے خاندان کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچا لیں گے البتہ وہ عورت پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ پھر جب ہمارے قاصد لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے۔ قاصدوں نے کہا ۔ آپ خوف نہ کھائیے نہ آزردہ ہو جائیے۔ ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ وہ عذاب کے لئے باقی رہ جانے والوں میں سے ہو گی۔ ہم اس بستی والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں اس وجہ سے کہ یہ بے حکم ہورہے ہیں۔ البتہ ہم نے اس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنادیا ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں”۔ (29:32-35)

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَٰهِيمَ ٱلرَّوْعُ وَجَآءَتْهُ ٱلْبُشْرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِى قَوْمِ لُوطٍ ۝ إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌ مُّنِيبٌ ۝ يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَآ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ

Quran 11:74-76

“جب ابراہیم کا ڈر خوف جاتا رہا اور اسے بشارت بھی پہنچ چکی تو ہم سے قوم لوط کے بارے میں کہنے سننے لگ گیا یقینا ابراہیم بہت تحمل والا نرم دل اور اللہ کی جانب جھکنے والا تھا۔ اے ابراہیم اس خیال کو چھوڑ دے، تیرے رب کا حکم آپہنچا ہے، ان پر نہ لوٹایا جانے والا عذاب ضرور آنے والا ہے”۔(11:74-76)

وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ ۝ وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ قَالَ يَٰقَوْمِ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِى هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِى ضَيْفِىٓ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ ۝ قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ ۝ قَالَ لَوْ أَنَّ لِى بِكُمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ

Quran 11:77-80

“انہوں نے جواب دیا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ ہمیں تو تیری لڑکیوں کی کوئی حاجت نہیں، تو ہماری اصلی چاہت سے بخوبی واقف ہے (77)لوط نے کہا کاش مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط اسرے کی پناہ میں ہوتا(78)اب فرشتوں نے کہا اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں، ناممکن کہ یہ تجھ تک پہنچ جائیں(79)پس تو اپنے گھر والوں کو لے کر کچھ رات رہے نکل کھڑا ہو۔ تم میں سے کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھنا چاہئے” ۔ (11:77-80)

قَالُوا۟ يَٰلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوٓا۟ إِلَيْكَ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ إِنَّهُۥ مُصِيبُهَا مَآ أَصَابَهُمْ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ ٱلصُّبْحُ أَلَيْسَ ٱلصُّبْحُ بِقَرِيبٍ ۝ فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ ۝ مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِىَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ بِبَعِيدٍ

Quran 11:81-83

عذاب : “بجز تیری بیوی کے، اسے بھی وہی پہنچنے والا ہے جو ان سب کو پہنچے گا یقیناً ان کے وعدے کا وقت صبح کا ہے، کیا صبح بالکل قریب نہیں ؟ (81)پھر جب ہمارا حکم آپہنچا، ہم نے اس بستی کو زیر زبر کر دیا اوپر کا حصہ نیچے کردیا اور اس پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے(82) نشان دار تھے،تیرے رب کی طرف سے اور وہ ان ظالموں سے کچھ بھی دور نہ تھے –“-

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ

Quran 7:80,81

“لوطؑ کی قوم کا لعنتی کام: ہم نے ہی لوط کو بھیجا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایسی بے حیائی کا کام کر رہے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان میں کسی نے نہیں کیا۔ کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر اپنی شہوت رانی کے لئے مردوں کی طرف مائل ہورہے ہو؟ بات یہ ہے کہ تم لوگ ہو ہی حد سے گذر جانے والے”۔(7:80, 81)

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ ۝ فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ ۝ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ

Quran 7:82-84

“لوطؑ کو قوم کا جواب“ : اس کے جواب میں قوم لوط کا صرف یہی قول تھا کہ انہیں اپنے شہر سے نکال دو یہ تو بڑے ہی پاک باز لوگ ہیں۔ پس ہم نے لوط کو اور اس کے گھرانے کو بجز اس کی بیوی کے بچا لیا وہ پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی۔ اور ہم نے ان پر بڑی بارش برسائی -دیکھ لے کہ ان بدکاروں کا کیسا برا انجام ہوا۔”(7:82-84):

وَلُوطًا ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَنَجَّيْنَٰهُ مِنَ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَت تَّعْمَلُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمَ سَوْءٍ فَٰسِقِينَ ۝ وَأَدْخَلْنَٰهُ فِى رَحْمَتِنَآ إِنَّهُۥ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

Quran 21:74,75

“اور ہم نے لوط کو بھی حکمت و علم دیا اور اسے اسی بستی سے نجات دی جہاں کے لوگ گندے کاموں میں مبتلا تھے اور تھے بھی بدترین گنہگار ۔ اور ہم نے لوط کو اپنی مہربانیوں میں داخل کر لیا' بے شک وہ نیک کارلوگوں میں سے تھا”۔( 21:74,75)

وَإِنَّ لُوطًا لَّمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ۝ إِذْ نَجَّيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْمَعِينَ ۝ إِلَّا عَجُوزًا فِى ٱلْغَٰبِرِينَ ۝ ثُمَّ دَمَّرْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ ۝ وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ ۝ وَبِٱلَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

Quran 37:133-138

“بیشک لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے ۔ ہم نے انہیں اور ان کے متعلقین کو سب کو نجات دی۔ بجز اس بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی پھر ہم نے اور سب کو ہلاک کر دیا ۔ اور تم تو صبح ہوتے ان کی بستیوں کے پاس سے گذرتے ہو۔ اور رات کو بھی۔ کیا پھر بھی نہیں سمجھتے؟”(37:133-138)

2.12 یوسفؑ علیہ السلام

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓر تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ ۝ إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۝ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٰفِلِينَ ۝ إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَٰجِدِينَ ۝ قَالَ يَٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ۝ وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۝ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٌ لِّلسَّآئِلِينَ ۝ إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ ۝ ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًا صَٰلِحِينَ

Quran 12:1-9

“یہ ہیں روشن کتاب کی آیتیں۔ یقینا ہم نے آپ پر اس عربی قرآن کو نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو۔ ہم تیرے سامنے بہترین بیان پیش کرتے ہیں۔ تیری جانب اس قرآن کو اپنی وحی کے ساتھ نازل فرمانے سے۔ یقینا تو اس سے پہلے بے خبروں میں تھا۔(1-3)جب کہ یوسف نے اپنے باپ سے ذکر کیا کہ ابا جی میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج چاند کو دیکھا اور دیکھا کہ وہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔(4)یعقوب نے کہا پیارے بچے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں شیطان تو انسان کا صریح دشمن ہے۔(5)اور اسی طرح برگزیدہ کرے گا تجھے تیرا پروردگار اور تجھے باتوں کی کل بٹھانی بھی سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھے بھر پور عطا فرمائے گا اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تیرے دو وادوں یعنی ابراہیم و اسحاق کو بھی بھر پور اپنی نعمت دی 'یقینا تیرا رب بہت بڑے علم والا اور زبردست حکمتوں والا ہے۔ یقیناً یوسف اور اس کے بھائیوں میں دریافت کرنے والوں کے لئے بڑے بڑے نشانیاں ہیں۔ جب کہ انھوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی بہ نسبت ہمارے باپ کو بہت زیادہ پیارا ہے حالانکہ ہم طاقت ور جماعت ہیں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں”۔(12:6-8)

ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًا صَٰلِحِينَ ۝ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ

Quran 12:9,10

“سب بھائیوں نے مل کر یوسفؑ کے ساتھ دشمنی کی“ (12:9,10)-یوسف کو تو مار ہی ڈالو یا اسے کسی نامعلوم جگہ پہنچا دو کہ تمہارے والد کا رخ صرف تمہاری طرف ہی ہو جائے اس کے بعد تم صلاحیت والے ہو جانا۔ ان میں سے ایک نے کہا یوسف کوقتل تو نہ کرو بلکہ اسے کسی گمنام کنویں کی تہ میں ڈال آؤ کہ اسے کوئی راہ قافلہ اٹھالے جائے اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یوں کرو”۔

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٰصِحُونَ ۝ أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ۝ قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَٰفِلُونَ ۝ قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًا لَّخَٰسِرُونَ

Quran 12:11-14

“کہنے لگے کہ ابا آخر آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے ؟ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔ کل آپ اسے ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ خوب کھائے پیئے اور کھیلے کو دے اس کی حفاظت کے ہم ذمے دار ہیں۔ کہا اسے تمہارا لے جانا مجھے تو سخت صدمہ دے گا اور مجھے یہ بھی کھٹکا لگا رہے گا کہ کہیں تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھا جائے ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم جیسی زور آور جماعت کی موجودگی میں بھی اگر اسے بھیڑیا کھا جائے تو تو ہم بالکل عاجز ہی ہوئے- ”(12:11-14)

فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

Quran 12:15

“پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کر ٹھان لیا کہ اسے غیر آباد گہرے کنویں کی تہ میں پھینک دیں ہم نے یوسف کی طرف وحی کی کہ یقینا وقت آ رہا ہے کہ تو انھیں اس ماجرے کی خبر اس حال میں دے کہ وہ جانتے ہی نہ ہوں”۔

وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءً يَبْكُونَ ۝ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٰدِقِينَ ۝ وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍ كَذِبٍ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ

Quran 12:16-18

“رات کے اندھیرے میں اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچے ۔ اور کہنے لگے ابا جی ہم تو آپس میں شرطیہ دوڑ میں لگ گئے یوسف کو ہم نے اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تھا جو اسے بھیڑیا کھا گیا، آپ تو ہماری بات باور کرنے کے نہیں گو ہم بالکل سچے ہی ہوں۔ یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر لائے تھے باپ نے کہا یوں نہیں بلکہ تم نے اپنے دل سے ہی ایک بات بنالی ہے پس صبر ہی بہتر ہے تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے” ۔(12:16-18)

وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ قَالَ يَٰبُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٌ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةً وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ ۝ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ

Quran 12:19,20

ایک قافلے والوں نے کنویں میں ایک خوبصورت بچہ پا کر خوشی محسوس کی اور اس بچے کو بازار میں بیچ دیا“ (12:19,20) ایک قافلہ آیا انھوں نے اپنے پانی لانے والے کو بھیجا اس نے اپناڈ ول لٹکا دیا کہنے لگا واہ واہ خوشی کی بات ہے یہ تو نو جوان بچہ ہے انھوں نے اسے مال تجارت قرار دے کر چھپا دیا، اللہ باخبر تھا اس سے جو وہ کر رہے تھے ۔ بھائیوں نے اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ ڈالا وہ تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے “۔

وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۝ وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

Quran 12:21,22

مصر کے بادشاہ نے اس بچے کو خرید لیا۔ وہ لاولد تھا(12:21,22): مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے بیوی سے کہا کہ اسے بہت عزت واحترام کے ساتھ رکھ بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائد ہ پہنچائے یا اسے ہم اپناہی بنائیں -اس طرح ہم نے مصر کی سرزمین میں یوسف کا قدم جمادیا کہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا کچھ علم سکھا دیں، اللہ اپنے ارادے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہوتے ہیں۔ جب یوسف پوری طاقت کی عمرکو پہنچ گیا ہم نے اسے دانائی اور علم دیا ہم نیک کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں”۔

وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ ۝ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَٰنَ رَبِّهِۦ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ ۝ وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝ قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ ۝ وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ۝ فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ ۝ يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ

Quran 12:23-29

12:23-29}} بادشاہ کی بیوی اس بچے پر عاشق ہو گئی اور اس سے چالیں چلنے لگی۔“(12:23-29) اس عورت نے جس کے گھر میں یوسف تھا یوسف کو بہلا تا شروع کیا کہ وہ اپنے نفس کی نگہبانی چھوڑ دے دروازے بند کر کے کہنے لگی اور آ جاؤ ، یوسف نے کہا اللہ کی پناہ عزیز مصر میرا سردار ہے مجھے اس نے بہت ہی اچھی طرح رکھا ہے، بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہیں ہوتا۔()اس عورت نے یوسف کی طرف کا قصد کیا اور یوسف نے اس کا ،اگر نہ ہوتی یہ بات کہ دیکھ لے وہ اپنے پروردگار کی دلیل، یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کریں، بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔دونوں دروازے اور اس عورت نے یوسف کا کرتا پیچھے کی طرف سے کھینچ پھاڑ ڈالا۔ دروازے کے پاس ہی عورت کا شوہر دونوں کو مل گیا تو کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے بس اس کی سزا یہی ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا اور کوئی درد ناک سزا دی جائے ۔ یوسف نے کہا یہ عورت ہی مجھے بہلا پھسلا کر میرے نفس کی حفاظت سے مجھے غافل کرانا چاہتی تھی عورت کے قبیلے ہی کے ایک شخص نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہے تو تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹ بولنے والوں میں ہے۔ اور اگر اس کا پیراہن پیچھے کی جانب سے پھاڑا گیا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہے۔ خاوند نے جو دیکھا کہ پیراہن پیچھے کی جانب سے پھاڑا گیا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہے۔ خاوند نے دیکھا کہ پیرا ہن یوسف پیچھے کی جانب سے چاک کیا گیا ہے تو صاف کہہ دیاکہ یہ تو عورتوں کے چند ہیں، بے شک ہتھ کنڈے بھاری ہیں۔ یوسف اب اس بات کو آتی جاتی کرو اور اے عورت تو اپنے گناہ سے تو بہ کربے شک تو گنہگاروں میں ہے”۔

وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ ۝ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ ۝ قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ ٱلصَّٰغِرِينَ ۝ قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَٰهِلِينَ ۝ فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ۝ ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْـَٔايَٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍ

Quran 12:30-35

“بادشاہ کی بیوی نے اپنی سہیلیوں کو دعوت پر بلا کر یوسفؑ کی خوب صورتی دکھائی(12:30-35) “شہر کی عورتوں میں یہ چر چاہونے لگا کہ عزیز کی بیوی اپنے جوان غلام کو اپنا مطلب نکالنے کے لئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے۔ اس کے تو دل میں یوسف کی محبت بیٹھ گئی ہے ہمارے خیال میں تو وہ صریح غلطی میں پڑ رہی ہے ۔(30)اس نے جب ان کی اس پر فر یب غیبت کا حال سنا تو انھیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی اور کہا اے یوسف ان کے سامنے چلے جاؤ ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جا نا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور زبان سے نکل گیا کہ حاشاءلله یہ انسان تو ہر گز نہیں یہ تو یقینا کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے۔ اسی وقت عزیز مصر کی بیوی نے کہا یہی ہے جس کے بارے میں میں تجھے طعنے دے رہی تھی میں نے ہر چندا سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا، واللہ جو کچھ میں اسے کہہ رہی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو یقینا یہ قید کردیا جائے گا اور بے شک یہ بہت ہی بے عزت ہوگا۔یوسف نے دعا کی اے میرے پروردگار جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل میں جاہلوں سے جاملوں گا۔ اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی اور ان عورتوں کے داؤ پیچ اس سے پھیر دیا یقینا وہ سننے جاننے والا ہے۔ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی انہیں یہ مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف کو کچھ مدت کے لئے قید خانے میں رکھیں-”

وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ ٱلْـَٔاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَٰفِرُونَ ۝ وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ۝ يَٰصَٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ ۝ مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 12:36-40

“اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے تو کہا کہ میں نے خواب میں اپنے تئیں شراب نچوڑتے دیکھا ہے اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے تئیں دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتائیے، ہمیں تو آپ خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں۔()یوسف نے کہا تمہیں جوکھانا دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا، یہ سب اس علم کی بدولت ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔ میں اپنے باپ دادوں کے دین کا پابند ہوں یعنی ابراہیم داسحاق اور یعقوب کے دین کا، ہمیں ہرگز یہ سزاوار نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک کریں ہم پراور تما م اور لوگوں پر اللہ تعالی کا یہ خاص فضل ہے لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔()اے میرے قید خانے کے ساتھیو! کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں؟یا ایک اللہ ز بر دست طاقتور ؟۔ اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وہ سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں اللہ تعالٰی نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ۔ فرماں روائی صرف اللہ تعالی ہی کی ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی دین درست ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ”۔

يَٰصَٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًا وَأَمَّا ٱلْـَٔاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ ۝ وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ

Quran 12:41,42

دونوں قیدیوں نے اپنے اپنے خواب یوسفؑ کو بتا کر خواب کی تعبیر پوچھی۔(12:41,42) “اے میرے قید خانے کے رفیقو ! تم دونوں میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر ہو جائے گا لیکن دوسرا سولی دیا جائیگا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کھا ئیں گئے تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے وہ کام فیصل کر دیا گیا۔ جس کی نسبت یوسف کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے یہ چھوٹ جائے گا اس سے کہا کہ اپنے بادشاہ سے میرا ذ کر بھی کر دینا، پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاہ سے ذکر کرنا بھلادیا اور یوسف نے کئی سال قید خانے میں ہی کاٹے”۔

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ ۝ قَالُوٓا۟ أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ ۝ وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ

Quran 12:43-45

پھر بادشاہ نے بھی ایک عجیب خواب دیکھا۔ بادشاہ کے دربار میں کوئی بھی اس مشکل خواب کی تعبیر نہ دے سکا“(12:43-45) -بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی فربہ گائیں ہیں جن کو سات لاغر دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہے اور سات بالیں ہیں ہری ہری اور سات بالکل خشک -اے درباریو میرے اس خواب کی تعبیر بتلا ؤ اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ تو اڑتے اڑتے پریشان خواب ہیں اور ایسے شوریدہ پریشان خوابوں کی تعبیر جاننے والے ہم نہیں۔ ان دو قیدیوں میں سے جو چھوٹا تھا اسے مدت کے بعد یاد آ گیا اور کہنے لگا میں تمہیں اس کی تعبیر بتلادوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے”۔

يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ ۝ قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ ۝ ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ ۝ ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ

Quran 12:46-49

دونوں قیدیوں میں سے ایک رہا کیا گیا شخص یوسفؑ کے پاس آ کر بادشاہ کے خواب کی تعبیر پوچھنے لگا۔ (12:46-49) “اے یوسف اے بہت بڑے بچے یوسف آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلائیے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنھیں سات دہلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالکل سبز خوشے ہیں اور سات ہی اور بھی ہیں بالکل خشک تا کہ میں واپس جا کر ان لوگوں سے کہوں کہ وہ سب جان لیں۔ یوسف علیہ السلام نے جواب دیا کہ تم سات سال تک پے در پے لگا تار حسب عادت بر ابر غلہ بویا کرنا اور فصل کاٹ کر اسے بالوں سمیت ہی رہنے دینا بجز اپنے کھانے کی تھوڑی سی مقدار کے لئے ۔ اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط کے آئیں گے وہ اس غلے کو کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے ذخیرہ رکھ چھوڑا تھا بجز اس تھوڑے سے کے جو تم روک رکھو۔ اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں شیرہ انگور بھی خوب نچوڑیں گے”۔

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ ۝ قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ قُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٰٔنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ۝ ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ

Quran 12:50-52

جب بادشاہ کو خواب کی تعبیر سمجھ آ گئی تو اس نے یوسفؑ کو بلانا چاہا۔ یوسفؑ نے آنے سے انکار کر دیا (12:50-52) “بادشاہ کہنے لگا یوسف کو میرے پاس لاؤ جب قاصد یوسف کے پاس پہنچا تو اس نے کہا اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے؟ جنھوں نے اپنے ہاتھ آپ کاٹ لئے تھے ان کے حیلے کو صحیح طور پر جانے والا میرا پروردگارہی ہے۔ بادشاہ نے پوچھا کہ اے عورتو! اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے جب تم داد گھات کر کےیوسف کو اس کی دلی منشا سے بہکانا چاہتی تھیں، انھوں نے صاف جواب دیا کہ معاذ اللہ ہم نے یوسف میں کوئی برائی نہیں پائی پھر تو عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات نکل آئی فی الواقع میں آپ ہی اسے اس کے نفس کی حفاظت کی جانب سے در غلا رہی تھی اور کوئی شک نہیں واقعی یوسف سچے لوگوں میں ہے۔ اس تمام بات سے غرض یہ تھی کہ عزیز کو معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی کوئی خیانت نہیں کی تھی اور یہ بھی کہ اللہ تعالی دغا بازوں کے ہتھکنڈے چلنے نہیں دیتا”۔ 2.12.4 یوسفؑ نے پاک باز رہنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ یوسفؑ کو بادشاہ نے بڑی عزت کے ساتھ خزانوں کے امور دیکھنے کے لیے مقرر کر دیا -

وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝ وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ ۝ قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌ ۝ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ وَلَأَجْرُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ

Quran 12:53-57

“میں اپنے نفس کی پاکیزگی بیان نہیں کرتی، بے شک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہے ہی مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی اپنا رحم کرے یقینا میرا پالنے والا بڑی بخشش کرنے والا اور بہت مہربانی فرمانے والا ہے ۔ بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے خاص ذاتی کاموں کے لئے مقرر کر لوں پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہنے لگا کہ تو تو ہمارے ہاں آج سے ذی عزت اور امانتدار ہے ۔ یوسف نے کہا' آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے میں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں۔(53-55)اس طرح ہم نے یوسف کو ملک کا قبضہ دے دیا کہ وہ جہاں چاہے رہے سہے، ہم جسے چاہیں اپنی رحمت پہنچادیتے ہیں۔ ہم نیک کاروں کا ثواب ضائع نہیں کرتے ۔ یقیناً ایمانداروں اور پرہیز گاروں کا اخروی اجر بہت ہی بہتر ہے “۔

وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ ۝ وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ ۝ فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ ۝ قَالُوا۟ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ ۝ وَقَالَ لِفِتْيَٰنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

Quran 12:58-62

“یوسف علیہ السلام کے بھائی آئے اور یوسف کے پاس گئے تو اس نے انھیں پہچان لیا اور انھوں نے اسے نہ پہچانا۔ جب انھیں ان کا اسباب مہیا کر دیا تو کہا کہ تم میرے پاس اپنے اس بھائی کو بھی لا نا جو تمہارے باپ سے ہے کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے نا پ بھی پورا دیا اور میں ہوں بھی بہترین میز بانی کرنے والوں میں۔ پس اگر تم اسے لے کر میرے پاس نہ آئے تو میری طرف سے تمہیں کوئی نا پ نہ ملے گا بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکناانھوں نے کہا اچھا ہم اس کے باپ سے اس کی بابت بات چیت کر کے کوشش پوری کریں گے۔ اپنے خدمت گاروں سے کہا کہ ان کی پونجیاں بھی ان کی بوریوں میں رکھ دو کہ یہ جب لوٹ کر اپنے اہل دعیال میں جائیں اور پونچھوں کو پہچان لیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں”۔

اور کہا کہ وہ سب سے چھوٹے بھائی کو بھی لے آئیں، ورنہ تمہیں غلہ نہیں ملے گا۔{{12:63,64“جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے والد کے پاس گئے تو کہنے لگے ابا جی ہم سے تو غلہ کا پیمانہ روک لیا گیا۔ اب آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجے کہ ہم پیمانہ بھر کرنا لا ئیں ۔ ہم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں کہا کہ مجھے تو اس کی بابت بھی تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا، پس اللہ ہی بہترین حافظ ہے اور ہے بھی وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان” ۔

وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ ۝ قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ

Quran 12:65,66

{{12:65,6 جب یہ بھائی گھر لوٹے تو سب کے غلّے میں پوری رقم واپس رکھی ہوئی ملی۔ پھر غلّہ لینے کے لیے چھوٹے بھائی کو لے جانا ضروری تھا۔(12:65,66) “جب انھوں نے اپنا اسباب کھولا تو انھوں نے اپنا سرمایہ موجود پایا جوان کی جانب لوٹا دیا گیا تھا کہنے لگے اے ہمارے باپ نہیں اور کیا چاہتے دیکھئے تو یہ ہمارا سرمایہ بھی ہمیں واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے خاندان کو رسدلا دیں گے اور اپنے بھائی کی نگرانی رکھیں گے اور ایک اونٹ کا پیمانہ زیادہ لائیں گے۔ یہ بات تو بہت آسان ہے۔ یعقوب علیہ السلام نے کہا میں تو اسے ہرگز ہر گز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کو سچ میں رکھ کر مجھے قول وقرار نہ دو کہ تم اسے میرے پاس پہنچا دو گے بجز اس ایک صورت کے کہ تم سب گرفتار کر لیے جاؤ ۔ جب انھوں نے پکا قول وقرار دے دیا تو اس نے کہا ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے ”۔

{{12:67-69 یعقوب ؑنے اپنے بیٹوں کو نصیحت کر کے بھیجا کہ چھوٹے بھائی سے غفلت نہ کرنا۔ “اور کہنے لگا اے میرےبچو تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی ایک دروازوں میں سے جدا جدا طور پر داخل ہونامیں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا ۔ حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اس پر بھروسہ کرنا چاہئے ۔ جب وہ ابھی راستوں میں سے جن کا حکم ان کے والد نے انھیں دیا تھا گئے کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کر دی ہے وہ اس سے انھیں ذرا بھی بچائے ہاں یعقوب نے اپنے ضمیر کے ایک خطرے کو سرانجام دے لیا وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔ یہ سب جب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا کہ میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں۔ پس یہ جو کچھ کرتے رہے اس کا کچھ رنج نہ کر”-

فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَٰرِقُونَ ۝ قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ ۝ قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌ ۝ قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ ۝ قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَٰذِبِينَ ۝ قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ

Quran 12:70-75

یوسفؑ نے چھوٹے بھائی کو اپنے پاس رکھ لینے کے لیے اس کے غلّے میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔(12:70-75) “پھر جب انھیں ان کا سامان اسباب ٹھیک ٹھاک کر کے دیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو تم لوگ تو چور ہو۔ انھوں نے ان کی طرف منہ پھیر کر کہا کہ تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے؟۔ جواب دیا کہ شا ہی جام گم ہے جو اسے لے آئے اسے ایک اونٹ کے بو جھ کا غلہ ملے گا اس وعدہ کا میں ضامن ہوں۔ انھوں نے کہا اللہ کی قسم تم کو خوب علم ہے کہ ہم ملک میں فساد پھیلانے کے لئے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں۔ انھوں نے کہا اچھا چور کی کیا سزا ہے۔ اگر تم جھوٹے ہو۔ جواب دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے اسباب میں سے پایا جائے وہی اس کا بدلہ ہے، ہم تو ایسے ظالموں کو یہی سزاد یا کرتے ہیں”۔

فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍ مَّن نَّشَآءُ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ ۝ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُۥ مِن قَبْلُ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ

Quran 12:76-77

{{12:76-77 تلاش کرنے پر جس کے غلّے سے پیالہ نکلا، اسے روک لیا گیا۔ (12:76-77) “پس یوسف نے ان کی خر جیوں کی تلاش شروع کی اپنے بھائی کی خرجی کی تلاش سے پہلے۔ پھر اس جام کو اپنے بھائی کے شلیتے سے نکالا ہم نے یوسف کے لئے اس طرح یہ تدبیر کی اس بادشاہ کے انصاف کی رو سے یہ اپنے بھائی کو نہ لے سکتا تھا مگر یہ کہ منظور اللہ ہو اہم جسے چاہیں درجے بلند کر دیں ہر ذی علم سے فوقیت رکھنے والا دوسرا ذی علم موجود ہے۔ کہنے لگے کہ اگر اس نے چوری کی تو اس کا بھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے۔ یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا اور ان کے سامنے بالکل ظاہر نہ کیا -کہا کہ تم گھٹیا درجے کے ہو اور جو تم بیان کرتے ہوا سے اللہ ہی خوب جانتا ہے” ۔

{{12:78-80 “کہنے لگے کہ اے عزیز مصر اس کے والد بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں۔ آپ اس کے بدلے ہم میں سے کسی کو لے لیجئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ بڑے محسن شخص ہیں۔ یوسف نے کہا کہ ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے ، اس کے سواد دوسرے کی گرفتاری کرنے سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، ایسا کرنے سے تو یقینا ہم نا انصاف ہو جائیں گے ۔ جب یہ اس سے مایوس ہو گئے تو تنہائی میں بیٹھ کر مشورہ کرنے گئے ان میں سے جو سب سے بڑا تھا' اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کو بیچ میں رکھ کر پخته قول و قرار لیا ہے اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زبردست قصور کر چکے ہو، پس میں تو اس سرزمین سے نہ ٹلوں گا جب تک کہ والد صاحب خود مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ تعالی میر ایہ معاملہ فیصل کر دے، وہی بہترین حاکم ہے” ۔ 2.12.6 والد کے پاس آ کر چھوٹے بیٹے کی چوری کا واقعہ سنایا۔ یعقوبؑ یوسفؑ کو کھو کر روتے روتے اندھے ہو گئے تھے تو یہ ایک اور غم بڑھ گیا۔ یعقوبؑ نے کہا: میرے دل کا حال اللہ جانتا ہے۔ مجھے اللہ ہی سے امید ہے کہ وہ ہم سب کو جمع کر دے گا۔

ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٰفِظِينَ ۝ وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ۝ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ۝ وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ

Quran 12:81-84

“تم سب والد صاحب کی خدمت میں واپس جاؤ اور کہو کہ ابا جی آپ کے صاحبزادے نے چوری کی اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم آپ جانتے تھے۔ ہم کچھ غیب کی حفاظت کرنے والے تو نہ تھے۔ آپ اس شہر کے لوگوں سے دریافت فرمالیں جہاں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی پوچھ لیں جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ واللہ ہم بالکل سچے ہیں کہا یہ تو نہیں بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات بنالی ہے پس اب صبر ہی بہتر ہے، کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس ہی پہنچا دے وہی علم و حکمت والا ہے۔ پھر ان سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگا آہ یوسف ! اس کی آنکھیں بوجہ رنج وغم کے سفید ہو چکی تھیں اور وہ غم کے مارے گھٹا جار ہا تھا”۔(12:81-84)

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَٰلِكِينَ ۝ قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

Quran 12:85-86

{{12:85-86 سب نے کہا کہ آپ یوسفؑ کو یاد کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔ یعقوبؑ نے کہا: میرا غم تو بس اللہ ہی جانتا ہے۔ “ (12:85-86) بیٹوں نے کہا تم تو ہمیشہ یوسف کی یادی میں لگے رہو گے یہاں تک کہ گھل جاؤ یا ختم ہو جاؤ۔ اس نے کہا کہ میں تو اپنی پریشانی اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ مجھے اللہ کی طرف کی وہ باتیں معلوم ہیں جن سے تم سراسر بے خبر ہو”۔

يَٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَٰفِرُونَ ۝ فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَٰعَةٍ مُّزْجَىٰةٍ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ

Quran 12:87-88

{{12:87-88 یعقوبؑ نے کہا: یوسفؑ کو ڈھونڈو، مایوس تو کافر ہوتے ہیں۔ (12:87-88) “میرے پیارے بچو تم جاؤ اور یوسف کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو یقینا رحمت رب سے نا امید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔ پھر جب لوگ یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ اے عزیز ہم اور ہمارا خاندان بڑی تکلیف میں ہے۔ ہم حقیر پونچی لے کر آئے ہیں۔ پس آپ ہمیں پورا پیمانہ دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے اللہ تعالی خیرات کرنے والے کو بدلہ دیتا ہے”۔ 2.12.7 قحط کی وجہ سے بھائی بہت غریب ہو گئے تھےمصر کو دبارہ غلہ لینے کے لئے اپنے چھوٹے بھاءی کو لیکر خیرات مانگنے لگے-یوسف علیہ السلام کا سوال:

قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَٰهِلُونَ ۝ قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِى قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ ۝ قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ۝ ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ

Quran 12:89-93

“یوسف نے کہا جانتے بھی ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ اپنی جہالت میں کیا کیا کیا؟۔ انھوں نے پوچھا، شاید تو ہی یوسف ہے جواب دیا کہ ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ تعالی نے ہم فضل و کرم کیا ۔ بات یہ ہے کہ جو بھی پر ہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالی کسی نیک کار کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم اللہ تعالی نے تجھے ہم پر برتری دی ہے اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم خطا کار تھے ۔ جواب دیا کہ آج تم پر کوئی خفگی بھر الزام نہیں ہے۔ اللہ تمہیں بخشے۔ وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے”۔

{“{12:93-95 یوسفؑ نے بھائیوں کو اپنا کرتا دے کر کہا: یہ والد کے منہ پر ڈال دو۔ {“{12:93-95میرا یہ کرتہ تم لے جاؤ اور اسے میرے والد کے منہ پر ڈال دو کہ وہ دیکھنے لگیں اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان کو میرے پاس لے آؤ جب یہ قافلہ جدا ہوا تو ان کے والد نے کہا کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آ رہی ہے اگر تم مجھے کم عقل نہ بناؤ ۔ وہ کہنے لگے کہ واللہ آپ تو اپنی اس پرانی غلطی پر قائم ہیں”۔

فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًا قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ۝ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ ۝ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

Quran 12:96-98

“ جب خوشخبری دینے والے نے پہنچ کر اس کے منہ پر وہ کر تہ ڈالا ، اس وقت وہ پھر سے بینا ہو گیا، کہنے لگا کیا میں تم سے نہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف کی وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے وہ کہنے لگے ابا جی آپ ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے ۔ بے شک ہم قصور وار ہیں۔ کہا اچھا میں تمہارے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا، وہ بہت بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔”{12:96-98}

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ ۝ وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًا وَقَالَ يَٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌ لِّمَا يَشَآءُ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

Quran 12:99,100

یوسفؑ کے بچپن کا خواب کئی سال کے بعد حقیقت بن گیا۔ یوسفؑ نے اللہ کی بہترین تدبیر پر شکر ادا کیا“ - جب یہ سارا گھرانہ یوسف کے پاس پہنچ گیا تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ اللہ کو منظور ہے تو آپ سب امن وامان کے ساتھ مصر میں آؤ۔ اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب اس کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ جب کہا ابا جی۔ یہ ہے میرے پہلے کے خواب کی تعبیر میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب کہ مجھے جیل خانے سے نکالا اور تمہیں صحرا سے لے آیا۔ اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا تھا میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے والا ہے اور ہے بھی وہ بہت علم و حکمت والا”۔

رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ

Quran 12:101

“اے میرے پروردگار تو نے مجھے ملک عطا فر مایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھائی اے آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا والی اور کار ساز ہے، تو مجھے مسلمان مار اور نیکیوں میں ملادے”۔(12:101)

ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ ۝ وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ ۝ وَمَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَٰلَمِينَ

Quran 12:102-104

“یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم تیری طرف وحی کر رہے ہیں تو تو ان کے پاس نہ تھا جب کہ انھوں نے اپنی بات ٹھان لی تھی اور وہ فریب کرنے لگے تھے ۔ گو تو لاکھ چاہے لیکن اکثر لوگ ایماندار نہ ہوں گے۔ تو ان سے اس پر کوئی اجرت طلب نہیں کر رہا یہ تو تمام دنیا کے لئے نری نصیحت ہی نصیحت ہے “۔

{{12:105-107آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں، جن سے یہ منہ موڑے گزر جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں۔ کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے عذابوں میں سے کوئی عام عذاب آجائے یا ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے اور وہ بے خبری میں ہوں”-

قُلْ هَٰذِهِۦ سَبِيلِىٓ أَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِى وَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۝ وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَدَارُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

Quran 12:108,109

{{12:108,109 “تو میری راہ یہی ہے اللہ کی طرف۔ میں اور میرے فرمانبردار بلا رہے ہیں پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں۔ تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے ہیں، سب شہری مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے گئے ، کیاز مین میں چل پھر کر انھوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا کچھ انجام ہوا؟ یقیناً آخرت کا گھر پر ہیز گاروں کے لئے بہت ہی بہتر ہے کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے “؟۔(12:108,109)

حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۟ جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّىَ مَن نَّشَآءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ

Quran 12:110

{{12:110 یہاں تک کہ جب رسول نا امید ہونے لگے اور یہ خیال کرنے لگے کہ انہیں جھوٹ کہا گیا، فورا ہی ہماری مدد ان کے پاس آ پہنچی۔ جسے ہم نے چاہا اسے نجات دی گئی۔ بات یہ ہے کہ ہمارا عذاب گنہ گاروں سے واپس نہیں کیا جاتا۔(12:110) 2.12.10 اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو احسنُ القصص )تمام قصوں میں بہترین قصہ) کہا ہے۔ عقل والوں کے لیے اس میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں۔ (اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ کر نصیحتوں پر عمل کرنے والا بنا دے۔ آمین یا ربّ العالمین)۔

لَقَدْ كَانَ فِى قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

Quran 12:111

“ان کے قصوں میں عقل والوں کے لئے یقینا نصحیت اور عبرت ہے یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں اور کھول کھول کر بیان کرنے والی ہے ہر چیز کی اور ہدایت و رحمت ہے ایمان دارلوگوں کے لئے “۔(12:111)

2.13 شعیبؑ علیہ السلام

وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ وَلَا تَنقُصُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ إِنِّىٓ أَرَىٰكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ

Quran 11:84

“ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا' اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو میں تو تمہیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لانے والے دن کے عذاب کا خوف بھی ہے”۔ (11:84)

وَيَٰقَوْمِ أَوْفُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ۝ بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ

Quran 11:85,86

شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو نصیحت کئے”:اے میری قوم والو! ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو، لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا حلال کیا ہوا نفع تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو ، میں تم پر کچھ نگہبان (اور دروغہ) نہیں ہوں-”

وَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَٰسِرُونَ ۝ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ ۝ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًا كَانُوا۟ هُمُ ٱلْخَٰسِرِينَ

Quran 7:90-92

جب قومِ شعیبؑ کے کافر سرداروں نے کہا اگر تم شعیب ؑ کی راہ پر چلو گے تو نقصان اٹھاؤگے، بس اﷲ کا عذاب نازل ہوا :اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب (علیہ السلام) کی تابعداری کی تو سمجھ لو کہ تم برباد ہونے والے بن گئے(90)آخر کار ان کافروں کو زلزلے نے پکڑ لیا اور وہ سب اپنے گھروں میں ہی اوندھے منہ پڑے ہوئے مردہ رہ گئے (91)گویا شعیب کو جھٹلانے والے، کبھی وہاں بستے ہی نہ تھے، در حقیقت شعیب کے جھٹلانے والے ہی برباد ہونے والے ثابت ہوئے-‘

وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَٰرِهِمْ جَٰثِمِينَ

Quran 11:94

{11:94 قومِ شعیب ؑ نے شعیب ؑ علیہ السلام کی نصیحت کو نہ مانااور اﷲ کا حکم ِ عذاب آپہنچا : {11:94} “جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا، ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ تمام مؤمنوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات بخشی اور ظالموں کو آواز سخت کے عذاب نے دھر دبوچا جس سے وہ اپنے گھروں میں اوند ھے پڑے ہوئے مرد ہ ہوگئے۔”(11:94)اس آواز سخت )چیخ (سے ان کے دل پارہ پارہ ہو گئے اور ان کی موت واقع ہو گئی اور اس کے فوراً بعد ہی بھونچال بھی آیا۔[

قَالُوا۟ يَٰشُعَيْبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِىٓ أَمْوَٰلِنَا مَا نَشَٰٓؤُا۟ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلْحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ ۝ قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى وَرَزَقَنِى مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَآ أَنْهَىٰكُمْ عَنْهُ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا ٱلْإِصْلَٰحَ مَا ٱسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِىٓ إِلَّا بِٱللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

Quran 11:87,88

“انھوں نے جواب دیا کہ اے شعیب کیا تیری تلاوت تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں، اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں، تو تو بڑا ہی باوقار اور نیک چلن آدمی ہے ۔ کہا اے میری قوم دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ظاہر دلیل لئے ہوئے ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بہترین روزی دے رکھی ہو میرا یہ ارادہ بالکل نہیں کہ تمہارا خلاف کر کے خود اس کی طرف جھک جاؤں جس سے تمہیں روک رہا ہوں میرا ارادہ تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے، میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے اس پر میرا بھروسہ ہے اور اس کی طرف میں رجوع ہوں” ۔(11:87,88)

وَيَٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِىٓ أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَآ أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَٰلِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ ۝ وَٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّى رَحِيمٌ وَدُودٌ

Quran 11:89,90

{{11:89,90 شعیبؑ علیہ السلام نے قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور اللہ سے بخشش مانگنے کو کہا۔(11:89,90) “میری قوم کے لوگوکہیں ایسا نہ ہو کہ تم میری مخالفت میں آکر ان عذابوں کے لئے آمادہ ہو جاؤ جو قوم نوح علیہ السلام اور قوم ہود اور قوم صالح کو پہنچے ہیں اور قوم لوط تو تم سے کچھ بھی دور نہیں۔ تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف جھک جاؤ یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والا ہے”۔

قَالُوا۟ يَٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَٰكَ وَمَآ أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ ۝ قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَهْطِىٓ أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَٱتَّخَذْتُمُوهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّى بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ۝ وَيَٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَٰمِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَٰذِبٌ وَٱرْتَقِبُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُمْ رَقِيبٌ ۝ وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَٰرِهِمْ جَٰثِمِينَ ۝ كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَآ أَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ

Quran 11:91-95

{{11:91-95 اللہ کا عذاب آیا۔ شعیبؑ اور ان کے ساتھ ایمان والوں کو بچا لیا گیا اور پوری نافرمان قوم کو ہلاک کر دیا گیا۔“ (11:91-95) انہوں نے کہا شعیب تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں اور ہم تو تجھے اپنے اندر بہت کمزوری کی حالت میں پاتے ہیں اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے ۔ ہم تو تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیں گنتے ۔ اس نے جواب دیا کہ اے میرے قومی لوگو کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلہ کے لوگ اللہ سے بھی زیادہ ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال رکھا ہے؟ یقینا میرا پروردگار جو کچھ تم کر رہے ہو سب کو گھیرے ہوئے ہے۔ اے قومی بھائیو! اب تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ۔ میں بھی عمل کر رہا ہوں تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے اور کون ہے جو جھوٹا ہے؟ تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔جب ہمارا عذاب آ پہنچا' ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ تمام مسلمانوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات بخشی اور ظالموں کو آواز سخت کے عذاب نے دھر دبوچا جس سے وہ اپنے گھروں میں ہی اوندھے پڑے ہوئے مردے ہو گئے۔ گویا کہ وہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے آگاہ رہو ان کے لئے بھی ویسی ہی دوری ہوئی جیسی دوری ثمود کو ہوئی”۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَٰبُ ٱلرَّسِّ وَثَمُودُ ۝ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَٰنُ لُوطٍ ۝ وَأَصْحَٰبُ ٱلْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ كُلٌّ كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ ۝ أَفَعَيِينَا بِٱلْخَلْقِ ٱلْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِى لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ

Quran 50:12-15

{50:12-15} “ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں نے اور ثمودیوں نے ۔ اور عادیوں نے اور فرعون نے اور برادر ان لوط نے ۔ اورا یکہ والوں نے اور تبع کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا پس میرا وعدہ عذاب ان پر صادق آگیا۔ کیا پس ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں۔”

2.14 .1 الیاسؑ علیہ السلام

وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ۝ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَلَا تَتَّقُونَ ۝ أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ ٱلْخَٰلِقِينَ ۝ ٱللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ ۝ فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ ۝ إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ ۝ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ ۝ سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِلْ يَاسِينَ ۝ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ

Quran 37:123-132

“بیشک الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے۔ جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ ۔ کیا تم بعل نا مہ بت سے دعائیں کرتے ہو اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟ ۔ جو اللہ تمہارا اور تمہارے اگلے تمام باپ دادوں کا پالنہار ہے۔ لیکن قوم نے انہیں جھٹلایا۔ پس وہ عذابوں میں حاضر کئے جائیں گے۔ سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔ ہم نے الیاس کا ذکر خیر پچھلوں میں بھی باقی رکھا کہ۔ الیاس پر سلام ہو ۔ اہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے” ۔(37:123-132)

وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ۝ إِذْ أَبَقَ إِلَى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ ۝ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُدْحَضِينَ ۝ فَٱلْتَقَمَهُ ٱلْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ۝ فَلَوْلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُسَبِّحِينَ ۝ لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِۦٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۝ فَنَبَذْنَٰهُ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيمٌ ۝ وَأَنۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ ۝ وَأَرْسَلْنَٰهُ إِلَىٰ مِا۟ئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ ۝ فَـَٔامَنُوا۟ فَمَتَّعْنَٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍ

Quran 37:139-148

” تحقیق یونس نبیوں میں سے ہے ۔ جب بھاگ پہنچا بھری کشتی پر ۔پھر قرعہ اندازی ہوئی یہ مغلوب ہو گئے ۔ پھر تو اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگ گئے۔ پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتا۔ تو مردے جلائے جائیں (اٹھائے جائیں ) اس دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتا۔ پس اسے ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وہ اس وقت بیمار تھا۔ اور اس پر سایہ کرنے والا کدو کی قسم کا ایک درخت ہم نے اگادیا۔ اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ اور زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجاں پس وہ ایمان لائے اور ہم نے بھی انہیں ایک زمانہ تک عیش و عشرت دی” (37:139-148)

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَتَّعْنَٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ۝ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَـَٔامَنَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ ۝ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَيَجْعَلُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

Quran 10:98-100

{10:98-100}” پس کیوں نہ ہوئی ایسی بستی جو ایمان لاتی اور اسے اس کا ایمان نفع دیتا سوائے یونس کی قوم کے کہ جب وہ ایمان لائی، ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوا کرنے والا عذاب دور کردیا اور انہیں ایک معین وقت تک فائدہ دیا۔(98) اگر تیرا رب چاہتا تو زمین والے سب کے سب سارے ہی ایمان دار ہوجاتے، تو کیا تو لوگوں پر زبردستی کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں؟ (99) بغیر اللہ کی مرضی کے کوئی شخص ایمان لا ہی نہیں سکتا اللہ تعالی لندگی کو تو انہیں پر ڈالتا ہے جو عقل سمجھ نہیں رکھتے”۔

2.15 موسیٰؑ علیہ السلام

وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِى ٱلْيَمِّ وَلَا تَخَافِى وَلَا تَحْزَنِىٓ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ۝ فَٱلْتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَٰمَٰنَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا۟ خَٰطِـِٔينَ ۝ وَقَالَتِ ٱمْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّى وَلَكَ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

Quran 28:7-9

“ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو تو اسے دریا میں بہا دینا اور کوئی ڈر خوف یا رنج وغم نہ کرنا ۔ ہم یقینا اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے اپنے پیغمبروں میں بنانے والے ہیں۔ آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھالیا کہ آخر کار یہی بچہ ان کا دشمن ہوا وہ ان کے رنج کا باعث بنے ، کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے ہی خطا کار۔ فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے ، یا ہم اسے اپناہی بیٹا بنالیں۔ یہ لوگ کچھ شعور ہی نہ رکھتے تھے” ۔(28:7-9)

وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَٰرِغًا إِن كَادَتْ لَتُبْدِى بِهِۦ لَوْلَآ أَن رَّبَطْنَا عَلَىٰ قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۝ وَقَالَتْ لِأُخْتِهِۦ قُصِّيهِ فَبَصُرَتْ بِهِۦ عَن جُنُبٍ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۝ وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰٓ أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُۥ لَكُمْ وَهُمْ لَهُۥ نَٰصِحُونَ ۝ فَرَدَدْنَٰهُ إِلَىٰٓ أُمِّهِۦ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 28:10-13

“موسی کی والدہ کا دل بے قرار ہو گیا، قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ظاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہ دیتے ۔ یہ اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے ۔ موسیٰ کی والدہ نے ان کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے دیکھے جا۔ تو وہ اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہی اور فرعونیوں کو اس کا علم بھی نہ ہوا۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہم نے موسیٰ پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا۔ یہ کہنے لگیں کہ کیا میں تمہیں ایسا گھرانہ بتاؤں جو اس بچہ کو تمہارے لئے پرورش کرے اور ہوں بھی وہ اس بچے کے خیر خواہ۔ پس ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس پہنچایا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور آزردہ خاطر نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے “۔(28:10-13)

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسْتَوَىٰٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ وَدَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِۦ فَٱسْتَغَٰثَهُ ٱلَّذِى مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِى مِنْ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ إِنَّهُۥ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ ۝ قَالَ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِى فَغَفَرَ لَهُۥٓ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ۝ قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ

Quran 28:14-17

“جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور پورے تو انا ہو گئے، ہم نے انہیں حکمت و علم عطا فر مایا، نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ موسی ایک ایسے وقت شہر میں آئے جب کہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا، اس سے فریاد کی جس پر موسیٰ نے اس کے مکا مارا جس سے وہ مر گیا۔ موسی کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے یقینا شیطان دشمن اور کھلے طور سے بہکانے والا ہے پھر دعا کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار میں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا تو مجھے معاف فرما دے۔ اللہ نے اسے بخش دیا وہ بخشش اور مہربانی کرنے والا ہے ہی۔ کہنے لگا اے اللہ جیسے تو نے مجھ پر یہ کرم فرمایا، میں بھی اب ہر گز کسی گنہ گار کا مددگار نہ بنوں گا”۔(28:14-17)

فَأَصْبَحَ فِى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِىٌّ مُّبِينٌ ۝ فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِٱلْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِينَ ۝ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّى لَكَ مِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ

Quran 28:18-20

﴿ ﴾

فَأَصْبَحَ فِى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِىٌّ مُّبِينٌ ۝ فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِٱلْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِينَ ۝ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّى لَكَ مِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ

Quran 28:18-20

جب موسیٰؑ کو پکڑ لانے کا حکم نکلا تو وہ بھاگتے ہوئے مدین پہنچ گئے۔

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّىٓ أَن يَهْدِيَنِى سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ۝ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ۝ فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰٓ إِلَى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّى لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَىَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ

Quran 28:21-24

“پھر موسی وہاں سے خوف زدہ ہو کر دیکھتے بھالتے نکل کھڑے ہوئے کہنے لگے اے پروردگار مجھے ظالموں کے گروہ سے بچالے۔ اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ لے چلے ۔ مدین کے پانی پر جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو عورتوں کو الگ کھڑی اپنے جانوروں کو روکتی ہوئی دیکھا پو چھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ وہ بولیں جب تک یہ چروا ہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔ آپ نے خود ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور کہنے لگے اے پروردگار تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں”۔( 28:21-24) موسیٰؑ کو ان کی محنت کا معاوضہ دینے کے لیے بلایا گیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کی خواہش ظاہر کی گئی۔

فَجَآءَتْهُ إِحْدَىٰهُمَا تَمْشِى عَلَى ٱسْتِحْيَآءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِى يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيْهِ ٱلْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ قَالَتْ إِحْدَىٰهُمَا يَٰٓأَبَتِ ٱسْتَـْٔجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ ٱسْتَـْٔجَرْتَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْأَمِينُ

Quran 28:25,26

“اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی اور کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں تا کہ آپ نے ہمارے جانوروں کو جو پانی پلایا ہے، اس کی اجرت دیں ، جب حضرت موسیٰ ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا سارا حال بیان کیا تو وہ کہنے لگے اب نہ ڈر تو نے ظالم قوم سے نجات پالی۔ ان دونوں میں سے ایک نے کہا ابا جی آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجئے کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو مضبوط اور امانتدار ہوں”۔( 28:25,26)

قَالَ إِنِّىٓ أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ٱبْنَتَىَّ هَٰتَيْنِ عَلَىٰٓ أَن تَأْجُرَنِى ثَمَٰنِىَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ۝ قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ أَيَّمَا ٱلْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَٰنَ عَلَىَّ وَٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ

Quran 28:27,28

“اس بزرگ نے کہا میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں اس مہر پر کہ آپ آٹھ سال تک میرا کام کاج کریں۔ ہاں اگر آپ دس سال پورے کریں تو یہ آپ کی طرف سے بطور احسان کے ہے میں یہ ہر گز نہیں چاہتا کہ آپ کو کسی مشقت میں ڈالوں اللہ کو منظور ہے تو آگے چل کر آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے مونی نے کہا خیر تو یہ بات میرے اور آپ کے درمیان پختہ ہوگئی میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے پورا کروں، مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو ، ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، اس پر اللہ گواہ اور کار ساز ہے” وعدے کی مدت پوری کر کے موسیٰؑ اپنی بیوی، بچوں اور سامان کے ساتھ روانہ ہوئے۔ راستے میں سردی بہت تھی اور رات کا وقت تھا۔ ایک بڑے درخت سے روشنی نظر آئی تو وہ اکیلے اس طرف گئے۔ آواز آئی: اے موسیٰ! میں تمہارا رب ہوں۔ پھر موسیٰؑ کو دو معجزے عطا کیے گئے۔

فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى ٱلْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِۦٓ ءَانَسَ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ ٱلنَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ

Quran 28:29

“جب حضرت موسیٰ نے مدت پوری کرلی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوہ طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لئے بھیرو میں نے آگ دیکھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر لاؤں یا آگ کا کوئی انگار الاؤں تا کہ تم سینک لو”۔(28:29)

فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِىَ مِن شَٰطِئِ ٱلْوَادِ ٱلْأَيْمَنِ فِى ٱلْبُقْعَةِ ٱلْمُبَٰرَكَةِ مِنَ ٱلشَّجَرَةِ أَن يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّىٓ أَنَا ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ

Quran 28:30

“جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے میدان کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے کہ اے موسیٰ یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار”۔

وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَٰمُوسَىٰ ۝ قَالَ هِىَ عَصَاىَ أَتَوَكَّؤُا۟ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِى وَلِىَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخْرَىٰ ۝ قَالَ أَلْقِهَا يَٰمُوسَىٰ ۝ فَأَلْقَىٰهَا فَإِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسْعَىٰ ۝ قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا ٱلْأُولَىٰ

Quran 20:17-21

“اے موسیٰ تیرے اس دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟۔ جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس پر میں ایک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے کام کے ہیں۔ فرمایا اے موسی ! اسے ہاتھ سے نیچے ڈال دے ڈالتے ہی وہ تو سانپ بن کر دوڑنے لگی۔ فرمایا بے خوف ہو کر پکڑلے۔ ہم اسے اسی پہلی ہی صورت میں دوبارہ لا دیں گے” ۔(20:17-21)

وَٱضْمُمْ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوٓءٍ ءَايَةً أُخْرَىٰ ۝ لِنُرِيَكَ مِنْ ءَايَٰتِنَا ٱلْكُبْرَى ۝ ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ۝ قَالَ رَبِّ ٱشْرَحْ لِى صَدْرِى ۝ وَيَسِّرْ لِىٓ أَمْرِى ۝ وَٱحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِى ۝ يَفْقَهُوا۟ قَوْلِى ۝ وَٱجْعَل لِّى وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِى ۝ هَٰرُونَ أَخِى ۝ ٱشْدُدْ بِهِۦٓ أَزْرِى ۝ وَأَشْرِكْهُ فِىٓ أَمْرِى ۝ كَىْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا ۝ وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا ۝ إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرًا

Quran 20:22-35

“اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال لے تو وہ سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا لیکن بغیر کسی عیب اور روگ کے یہ ہے دوسرا معجزہ۔ یہ اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں۔ تو فرعون کی طرف جا۔ اس نے بڑی ڈنڈ ( بغاوت ) مچا رکھی ہے۔ کہنے لگا، میرے پروردگار میرا سینہ میرے لئے کھول دے۔ اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے۔ اور میری زبان کی گرہ بھی کھول دے ۔ تا کہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں۔ اور میر اوز پر میرے کنبے میں سے کر دے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نہ تو اس سے میری کمر کس دے ۔ اور اسے میرا شریک کار کر دے۔ تا کہ ہم دونوں بکثرت تیری تسبیح بیان کریں ۔ اور بکثرت تیری یاد کریں ۔ بے شک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے والا ہے”۔(20:22-35)

ٱذْهَبَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ۝ فَقُولَا لَهُۥ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ

Quran 20:43-44

“تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ ۔ اس نے بڑی سرکشی کی ہے۔ ا سے نرمی سے سمجھاؤ کہ وہ سمجھ لے یا ڈر جائے” ۔(20:43-44)

قَالَا رَبَّنَآ إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفْرُطَ عَلَيْنَآ أَوْ أَن يَطْغَىٰ ۝ قَالَ لَا تَخَافَآ إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَىٰ ۝ فَأْتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَٰكَ بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَٱلسَّلَٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلْهُدَىٰٓ ۝ إِنَّا قَدْ أُوحِىَ إِلَيْنَآ أَنَّ ٱلْعَذَابَ عَلَىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ

Quran 20:45-48

“دونوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ہمیں تو خوف ہے کہ کہیں فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرے یا اپنی سرکشی میں بڑھ نہ جائے۔ جواب ملا کہ تم مطلقا خوف نہ کرو۔ میں خود تمہارے ساتھ ہوں۔ سنتاد یکھتا رہوں گا۔ تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں۔ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ ان کی سزائیں موقوف کر ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشان لے کر آئے ہیں اور اصل سلامتی اس کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند ہو جائے ۔ ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے اور روگردانی کرے، اس کے لئے عذاب ہیں”۔(20:45-48)

قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَٰمُوسَىٰ ۝ قَالَ رَبُّنَا ٱلَّذِىٓ أَعْطَىٰ كُلَّ شَىْءٍ خَلْقَهُۥ ثُمَّ هَدَىٰ ۝ قَالَ فَمَا بَالُ ٱلْقُرُونِ ٱلْأُولَىٰ ۝ قَالَ عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى فِى كِتَٰبٍ لَّا يَضِلُّ رَبِّى وَلَا يَنسَى

Quran 20:49-52

“فرعون نے پو چھا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟۔ جواب دیا کہ ہمارا رب وہ جس نے ہر ایک کو اس کی خاص شکل عنایت فرمائی پھر راہ سمجھا دی۔ اس نے کہا یہ بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہوتا ہے؟ ۔ جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے نہ تو میرا رب غلطی کرے نہ بھولے”۔(20:49-52)

وَلَقَدْ أَرَيْنَٰهُ ءَايَٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَىٰ ۝ قَالَ أَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَٰمُوسَىٰ ۝ فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهِۦ فَٱجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهُۥ نَحْنُ وَلَآ أَنتَ مَكَانًا سُوًى ۝ قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ ٱلزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ ٱلنَّاسُ ضُحًى ۝ فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُۥ ثُمَّ أَتَىٰ ۝ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُم بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ ٱفْتَرَىٰ ۝ فَتَنَٰزَعُوٓا۟ أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّجْوَىٰ

Quran 20:56-62

” ہم نے اسے اپنی سب نشانیاں دکھا دیں لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا۔ کہنے لگا کہ اے موسیٰ! کیا تو اس لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے؟ ۔ تو ہم بھی تیرے مقابلے میں اس جیسا جادو ضرور لائیں گے۔ تو تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ گاہ مقرر کر لے کہ نہ ہم اس کا خلاف کریں نہ تو صاف میدان میں مقابلہ ہو۔ جواب دیا کہ وعد ہ زینت اور جشن کے دن کا ہے۔ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔ پس فرعون لوٹ گیا اور اس نے اپنے داؤ گھات جمع کئے۔ پھر آ گیا۔ موسیٰ نے ان سے کہا تمہاری شامت آ چکی۔ اللہ پر جھوٹ افترا نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذابوں سے ملیا میٹ کر دے، یاد رکھو وہ بھی کامیاب نہ ہو گا جس نے تہمت باندھی۔ پس یہ لوگ اپنے آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہو گئے اور چھپ کر چپکے چپکے مشورہ کرنے لگے”

قَالُوٓا۟ إِنْ هَٰذَٰنِ لَسَٰحِرَٰنِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ ٱلْمُثْلَىٰ ۝ فَأَجْمِعُوا۟ كَيْدَكُمْ ثُمَّ ٱئْتُوا۟ صَفًّا وَقَدْ أَفْلَحَ ٱلْيَوْمَ مَنِ ٱسْتَعْلَىٰ

Quran 20:63,64

{{20:63,64 “کہنے لگے ہیں تو یہ دونوں جادو گری اور ان کا پخته ارادہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے بہترین مذہب کو بر باد کریں۔ تو تم بھی اپنی کوئی تدبیر اٹھانہ رکھو۔ پھر صف بندی کر کے آجاؤ جو آج غالب آ گیا وہی بازی لے گیا”۔( 20:63,64)

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ ۝ قَالَ بَلْ أَلْقُوا۟ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ ۝ فَأَوْجَسَ فِى نَفْسِهِۦ خِيفَةً مُّوسَىٰ ۝ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْأَعْلَىٰ ۝ وَأَلْقِ مَا فِى يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوٓا۟ إِنَّمَا صَنَعُوا۟ كَيْدُ سَٰحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ ۝ فَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ

Quran 20:65-70

“کہنے لگے کہ موسی یا تو تو پہلے ڈال یا ہم اول ڈالنے والے بن جائیں۔ جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو اب تو موسیٰ کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں بو جہ ان کے جادو کے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ تو موسیٰ اپنے دل ہی دل میں ڈرنے لگے۔ ہم نے فرمایا ،کچھ خوف نہ کر یقینا تو ہی غالب رہے گا۔ تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نکل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادو گروں کے کرتب ہیں اور جادو گر کہیں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا۔ اب تو تمام جادو گر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لاچکے” –(20:65-70) جادوگر موسیٰؑ کے معجزوں کو پہچان گئے اور موسیٰؑ اور ہارونؑ کے رب پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو سولی پر لٹکا دیا۔

قَالَ ءَامَنتُمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِى عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحْرَ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِى جُذُوعِ ٱلنَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَآ أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَىٰ ۝ قَالُوا۟ لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلَّذِى فَطَرَنَا فَٱقْضِ مَآ أَنتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِى هَٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَآ ۝ إِنَّآ ءَامَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَٰيَٰنَا وَمَآ أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ ٱلسِّحْرِ وَٱللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰٓ

Quran 20:71-73

“پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لکھوا دوں گا اور تمہیں پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیادہ سخت اور دیر پا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ اب تو تو جو کچھ کرنے والا ہے کر گزر تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وہ اسی دینوی زندگی میں ہی ہے۔ ہم اس لا لچ سے اپنے پروردگار پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں معاف فرمادے اور جو کچھ تو نے ہم سے زبردستی کر لیا ہے وہ تو جادو ہے اللہ ہی بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے”۔ (20:71-73) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو لے کر رات ہی رات نکل جائیں، اور اللہ نے دریا میں راستہ بنا کر انہیں دریا پار کرا دیا

وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَٱضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِى ٱلْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَٰفُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ ۝ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِۦ فَغَشِيَهُم مِّنَ ٱلْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ ۝ وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُۥ وَمَا هَدَىٰ

Quran 20:77-79

“ہم نے موسیٰ کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل اور ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنالے۔ پھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطرہ نہ ڈر۔ فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا تعاقب کیا۔ پھر تو در یانے ان سب کو جیسا کچھ چھپا لینا چاہئے تھا ، چھپالیا۔ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہی میں ڈال دیا اور سیدھا رستہ نہ دکھایا”۔

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ قَدْ أَنجَيْنَٰكُم مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَٰعَدْنَٰكُمْ جَانِبَ ٱلطُّورِ ٱلْأَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۝ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا۟ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِى وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِى فَقَدْ هَوَىٰ ۝ وَإِنِّى لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا ثُمَّ ٱهْتَدَىٰ

Quran 20:80-82

“اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی داہنی طرف کا وعدہ کیا اور تم پر من وسلوی اتارا۔ تم ہماری دی ہوئی پاکیزہ روزی کھاؤ اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو نہ تم پرمیر الغضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وہ یقینا تباہ ہوا۔ ہاں بے شک میں انہیں بخش دینے والا ہوں جو تو بہ کریں ایمان لائیں نیک عمل کریں اور راہ راست پر بھی رہیں”۔(20:80-82)

وَمَآ أَعْجَلَكَ عَن قَوْمِكَ يَٰمُوسَىٰ ۝ قَالَ هُمْ أُو۟لَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِى وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ ۝ قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنۢ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِىُّ ۝ فَرَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٰنَ أَسِفًا قَالَ يَٰقَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ ٱلْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِى

Quran 20:83-86

“موسی تجھے اپنی قوم سے غافل کر کے کون سی چیز جلدی لے آئی ؟ ۔ کہا کہ دو لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے ہیں اور میں نے اے رب تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو جا۔ فرمایا ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا اور انہیں سامری نے بہکا دیا ہے O۔ پس موسی سخت ناراض ہو کر افسوس ناکی کے ساتھ واپس لوٹا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے ایک وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں نہیں معلوم ہوئی ؟ بکہ تمہارا ارادہ ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو”۔

قَالُوا۟ مَآ أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلْنَآ أَوْزَارًا مِّن زِينَةِ ٱلْقَوْمِ فَقَذَفْنَٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى ٱلسَّامِرِىُّ ۝ فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُۥ خُوَارٌ فَقَالُوا۟ هَٰذَآ إِلَٰهُكُمْ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِىَ ۝ أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا

Quran 20:87-89

“تم نے میرے وعدے کا خلاف کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا بلکہ ہم پر جو زیورات قوم کے لادد یئے گئے تھے انہیں ہم نے ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے۔ پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی۔ پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا بھی معبود ہے اور موسیٰ کا بھی، لیکن موسیٰ بھول گیا ہے۔ کیا یہ گمراہ لوگ یہ بھی نہیں- دیکھتے کہ وہ توان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھتا ہے”۔ (20:87-90)

قَالُوا۟ مَآ أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلْنَآ أَوْزَارًا مِّن زِينَةِ ٱلْقَوْمِ فَقَذَفْنَٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى ٱلسَّامِرِىُّ ۝ فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُۥ خُوَارٌ فَقَالُوا۟ هَٰذَآ إِلَٰهُكُمْ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِىَ ۝ أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ۝ وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَٰرُونُ مِن قَبْلُ يَٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحْمَٰنُ فَٱتَّبِعُونِى وَأَطِيعُوٓا۟ أَمْرِى

Quran 20:87-90

“ہارون نے اس سے پہلے ان سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم والو اس بچھڑے سے تو صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے تمہارا حقیقی پر وردگار تواللہ رحمان ہی ہے پس تم سب میری تابعداری کرو اور میری بات مانتے چلے جاؤ۔ انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ کی واپسی تک تو ہم اس کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے –”(20:87-90)

قَالَ يَٰهَٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوٓا۟ ۝ أَلَّا تَتَّبِعَنِ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِى ۝ قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلَا بِرَأْسِىٓ إِنِّى خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِى ۝ قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَٰسَٰمِرِىُّ ۝ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا۟ بِهِۦ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِى نَفْسِى

Quran 20:92-96

“موسی کہنے لگے اے ہارون ! انہیں گمراہ ہوتا ہوا د یکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا؟۔ کہ تو میرے پیچھے پیچھے آجاتا کیا تو بھی میرے فرمان کا نافرمان بن بیٹھا ؟۔ ہارون کہنے لگے اے میرے ماں جائے بھائی میری داڑھی اور سر نہ پکڑ مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما ئیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا پاس نہ کیا۔ موسی نے پو چھا کہ سامری تیرا کیا حال ہے؟۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے وہ چیز دکھائی دی جو انہیں دکھائی نہیں دی تو میں نے اللہ کے بھیجے ہوئے کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی۔ اسے اس میں ڈال دیا۔ میرے دل نے ہی یہ بات میرے لئے بنادی”۔ حضرت موسیٰؑ جاتے وقت حضرت ہارونؑ کو اپنی قوم کی ذمہ داری سونپ گئے۔ فرعون کی قوم کا ایک شخص جو حضرت موسیٰؑ کے ساتھ آ گیا تھا، اس نے سب لوگوں سے سونا جمع کر کے گائے کا بچھڑا بنا لیا۔ حضرت ہارونؑ کے روکنے کے باوجود وہ لوگ باز نہ آئے۔ حضرت موسیٰؑ واپس آ کر اس پر سخت سزا دی۔

قَالَ فَٱذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِى ٱلْحَيَوٰةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّن تُخْلَفَهُۥ وَٱنظُرْ إِلَىٰٓ إِلَٰهِكَ ٱلَّذِى ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِى ٱلْيَمِّ نَسْفًا ۝ إِنَّمَآ إِلَٰهُكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا

Quran 20:97-98

“کہا اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا ہے کہ ہاتھ نہ لگانا اور ایک اور بھی وعدہ تیرے ساتھ ہے جو تیرے بارے میں بھی بھی خلاف نہ کیا جائے گا اور اب تو اپنے اس اللہ کو بھی دیکھ لینا جس کا تو اعتکاف کئے ہوئے تھا کہ ہم اسے جلا کر دریا میں ریز و ریز و اڑا دیں گے ۔ اصل بات یہی ہے کہ تم سب کا معبود بر حق صرف اللہ ہی ہے کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے قابل نہیں۔ اس کا علم تمام چیزوں پر حاوی ہے”۔(20:97-98)

كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ ءَاتَيْنَٰكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًا ۝ مَّنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُۥ يَحْمِلُ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وِزْرًا ۝ خَٰلِدِينَ فِيهِ وَسَآءَ لَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ حِمْلًا ۝ يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ وَنَحْشُرُ ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا ۝ يَتَخَٰفَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا ۝ نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا

Quran 20:99-104

{{20:99-104 “اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی ہو چکی ہوئی وارداتیں بیان فرمارہے ہیں یقینا ہم تو مجھے اپنے پاس سے نصیحت عطا فرما چکے ہیں۔ اس سے جو منہ پھیر لے گا وہ یقینا قیامت کے دن اپنا بھاری ہو جھ لا دے ہوئے ہوگا ۔ جس میں ہمیشہ ہی رہے گا ان کیلئے قیامت کے دن بڑا برا بو جھ ہے ۔ جس دن صور پھونک دیا جائے گا اور گنہگاروں کو ہم اس دن نیلی پہلی آنکھوں کے کر کے گھیر لائیں گئے آپس میں چپکے چپکے کہ رہے ہوں گے کہ ہم تو صرف دس دن ہی رہے۔ جو کچھ وہ کہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے باخبر ہم ہی ہیں جب کہ ان میں سب سے زیادہ اچھی راہ والا کہہ رہا ہوگا کہ تم تو صرف ایک ہی دن ہے”۔ (20:99-104)

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةً وَأَمْوَٰلًا فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا ٱطْمِسْ عَلَىٰٓ أَمْوَٰلِهِمْ وَٱشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا۟ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ ۝ قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَٱسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 10:88,89

موسیٰ نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگارا تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی کی آرائش اور مال دے رکھا ہے۔ اے ہمارے رب یہ اس لئے کہ وہ تیری راہ سے بہکاتے پھریں، اے پروردگار تو ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور ان کے دلوں کو اور سخت کر دے کہ وہ جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لائیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔ اب تم استقلال رکھو اور بے علموں کی راہ کے پیچھے ہر گز نہ لگو”۔(10:88,89)

وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُۥ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱلَّذِىٓ ءَامَنَتْ بِهِۦ بَنُوٓا۟ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

Quran 10:90

“ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار کر دیا ۔ فرعون اپنے لشکروں سمیت ظلم و زیادتی سے ان کے پیچھے لگ گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے کی مصیبت نے آدبوچا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی بھی لائق عبادت نہیں بجز اس اللہ کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں”۔( 10:90)

ءَآلْـَٰٔنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ ۝ فَٱلْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ ءَايَةً وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنْ ءَايَٰتِنَا لَغَٰفِلُونَ

Quran 10:91,92

“کیا اب ؟ حالانکہ تو اس سے پہلے خوب نا فرمانیاں کر چکا ہے اور مفسدوں میں رہ چکا ہے اچھا آج ہم تیرے جسم کو بچالیں گے کہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشان بن جائے بے شک اکثر لوگ ہماری آيتوں سے البتہ غافل ہیں”۔(10:91,92)

وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ۝ فَوَقَعَ ٱلْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ۝ فَغُلِبُوا۟ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُوا۟ صَٰغِرِينَ ۝ وَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ ۝ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ

Quran 7:117-122

“ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لکڑی ڈال دے، وہ اسی وقت ان کے رچائے ہوئے تمام ڈھونگ کو نکلنے لگی۔ تو حق ثابت ہو گیا اور وہ جو کچھ کر رہے تھے محض باطل ہو گیا۔ قوم فرعون وہاں ہارگئی اور بڑی ذلیل و خوار ہوئی۔ اور سارے ہی جادو گر سجدے میں گر پڑے۔ اور صاف کہہ دیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے۔ یعنی موسی اور ہارون کے رب پر”-

قَالَ فِرْعَوْنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى ٱلْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا۟ مِنْهَآ أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۝ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ۝ قَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ ۝ وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ

Quran 7:123-126

“فرعون کہنے لگا کہ کیا تم میری اجازت سے پہلے ہی اس پر ایمان لا چکے؟ یقینا یہ تمہاری ایک مکاری ہے جسے اس شہر میں ظاہر کر کے تم یہاں سے یہاں والوں کو نکال دیتا چاہتے ہو خیر تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا۔ میں تم سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کٹوا کر پھر تمہیں سولی پر لٹکوا دوں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو اپنے رب کی طرف ضرور لوٹنے والے ہیں۔ تو ہم سے محض اس بات کا انتقام لے رہا ہے کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے پاس آئیں تو ہم انہیں تسلیم کرلیں، اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر بر سادے اور ہمیں مسلمانی کی حالت میں اٹھا”۔ {7:123-126}

وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُۥ لِيُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَٰهِرُونَ

Quran 7:127

“فرعون کے قومی سرداروں نے کہا کہ کیا اے بادشاہ آپ موسی کو اور اس کی قوم کو یوں ہی زمین میں فساد مچانے دیا کریں گے؟ کہ وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو بھی چھوڑ بیٹھیں؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں، ہم تو ان کے لڑکوں کو قتل کرادیا کریں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیں گئے ہم ان پر ہر طرح غالب ہیں”۔(7:127) حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو صبر کے ذریعے اللہ کی مدد حاصل کرنے کی تلقین کی۔

قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱصْبِرُوٓا۟ إِنَّ ٱلْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ۝ قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

Quran 7:128-129

“موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر سے کام لوز مین کا حقیقی مالک اللہ ہی ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دیتا ہے انجام کار کی بہتری پر ہیز گاروں ہی کا حصہ ہے ۔ وہ کہنے لگے کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں تو تکلیفیں پہنچائی جاتی رہیں اور آپ ہمارے پاس آچکے، اس کے بعد بھی فرمایا بہت قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمنوں کو بالکل ہی تاخت و تاراج کر دے اور خود تمہیں ہی زمین کا خلیفہ بنا دے پھر دیکھ لے کہ تم کیسے کچھ اعمال کرتے ہو؟”۔(7:128-129) اللہ تعالیٰ نے قومِ فرعون پر کئی قسم کے عذاب نازل کیے۔

وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ۝ فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَٰذِهِۦ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَلَآ إِنَّمَا طَٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 7:130-131

“ہم نے فرعونیوں کو قحط سالیوں اور پھلوں کی کمی میں گرفتار کیا کہ وہ نصیحت حاصل کر لیں۔ انہیں جب راحت ملتی' کہتے ہم اس کے قابل ہیں اور جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی تو موی اور اس کے ساتھیوں کی نحوست سے بتاتے، آگاہ رہو کہ ان کی بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے لیکن یہ محض بے خبر ہیں۔ کہنے لگے کہ موسیٰ تو ہمیں جاد وکرنے کے لئے جو بھی چاہے نشان لے آہم تو تیری مانتے ہی نہیں”۔(7:130-131)

وَقَالُوا۟ مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِۦ مِنْ ءَايَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ ۝ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلطُّوفَانَ وَٱلْجَرَادَ وَٱلْقُمَّلَ وَٱلضَّفَادِعَ وَٱلدَّمَ ءَايَٰتٍ مُّفَصَّلَٰتٍ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ ۝ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ ٱلرِّجْزُ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا ٱلرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ۝ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ ٱلرِّجْزَ إِلَىٰٓ أَجَلٍ هُم بَٰلِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ

Quran 7:132-135

“پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور چچڑی' جوئیں اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانات لیکن یہ اکڑتے ہی رہے، یہ تھے ہی بڑے ہی نا فرمان لوگ۔ کوئی سزا جب ان پر آجاتی تو کہنے لگتے اے موسی اپنے رب سے ہمارے لئے بمطابق اس اقرار کے جو تجھ سے ہے دعا کر اگر تو نے ہم سے یہ عذاب بنا دیا تو ہم ضرور تجھ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو ہم تیرے ساتھ بھیج دیں گے ۔ پھر جب ہم ان سے اپنے عذاب بنا لیتے اس مدت تک جسے وہ پہنچنے والے ہی ہیں، اسی وقت فور ہی وہ عہد شکنی کر ڈالتے” ۔ جب جب عذاب آتا، فرعون کی قوم آ کر معافی مانگتی، عذاب ہٹ جاتا، پھر وہ دوبارہ سرکشی شروع کر دیتی۔ مسلسل نافرمانیوں اور وعدہ خلافی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کو دریا میں غرق کر دیا اور اس کی سلطنت کا وارث اسی کمزور طبقے کو بنا دیا جن پر فرعون ظلم کرتا تھا-

فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ ۝ وَأَوْرَثْنَا ٱلْقَوْمَ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَٰرِقَ ٱلْأَرْضِ وَمَغَٰرِبَهَا ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُوا۟ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُۥ وَمَا كَانُوا۟ يَعْرِشُونَ

Quran 7:136-137

{{7:136-137 “پھر ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو دریا میں ڈبو دیا اس لئے کہ وہ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے غافل تھے۔ اور قوم کو وارث کیا جو محض ناتواں گئی جاتی تھی اس زمین کی مشرقوں اور مغربوں کا جس میں ہم نے برکت دے رکھی تھی اور بنی اسرائیل سے تیرے رب کا بہترین وعدہ پورا ہوا صرف ان کے صبر کی وجہ سے اور ہم نے درہم برہم کر دیا ہر اس چیز کو جس قوم فرعون کر رہی تھی اور جو کچھ وہ بلند و بالا عمارتیں بنار ہے تھے سب کو”۔(7:136-137) قوم پر بار بار عذاب آنے کے باوجود فرعون کفر پر ڈٹا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے غرق کر دیا۔ ڈوبتے وقت فرعون ایمان لے آیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے قبول نہ کیا۔ فرعون کے مرنے کے بعد اللہ کے حکم سے نہ دریا نے اسے قبول کیا اور نہ زمین نے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کو قیامت تک تمام انسانوں کے لیے عبرت بنا کر محفوظ رکھا۔

وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُۥ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱلَّذِىٓ ءَامَنَتْ بِهِۦ بَنُوٓا۟ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

Quran 10:90

“ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار کر دیا ۔ فرعون اپنے لشکروں سمیت ظلم و زیادتی سے ان کے پیچھے لگ گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے کی مصیبت نے آدبوچا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی بھی لائق عبادت نہیں بجز اس اللہ کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں”۔( 10:90)

ءَآلْـَٰٔنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ ۝ فَٱلْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ ءَايَةً وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنْ ءَايَٰتِنَا لَغَٰفِلُونَ

Quran 10:91,92

“کیا اب ؟ حالانکہ تو اس سے پہلے خوب نا فرمانیاں کر چکا ہے اور مفسدوں میں روچکا ہے ۔ اچھا آج ہم تیرے جسم کو بچالیں گے کہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشان بن جائے بے شک اکثر لوگ ہماری آیتوں سے البتہ غافل ہیں”۔(10:91,92)

وَإِذْ أَنجَيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ

Quran 7:141

“ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس وعدہ کو دس روز سے پورا فرمایا اور یوں اس کے رب کا چالیس راتوں کا وعدہ پورا ہوگیا، موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تو میری قوم میں میرا جانشین رہ، میل جول قائم رکھا اور مفسدوں کی راہ نہ چل”۔(7:141)

وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ

Quran 7:143

“جب موسیٰ ہمارے وعدے پر حاضر ہوا اور اس کے رب نے اس سے باتیں کیں، کہنے لگا کہ میرے رب مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں، ارشاد ہوا کہ تو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتا، اچھا اس پہاڑ کی طرف نظریں اٹھا اگر یہ اپنی جگہ ٹھہرا رہے تو تو مجھے دیکھ سکے گا، پھر جب اس کے رب نے اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالی تو اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین دوز کر دیا اور موسیٰ بھی غش کھا کر گر پڑا، ہوش آتے ہی کہنے لگا کہ تیری ذات پاک ہے، تیری جناب میں تو بہ کرتا ہوں اور تجھ پر ایمان لانےوالوں میں اول ہوں”۔(7:143)

قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِى وَبِكَلَٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ۝ وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَىْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَٰسِقِينَ

Quran 7:144-145

“ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ میں نے تجھے اور لوگوں سے ممتاز کیا اپنی رسالت کے ساتھ بھی اور اپنے کلام سے بھی پس جو بھی میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، لے لے اور شکر گزاروں میں شامل رہ۔ اور ہم نے موسی کے لئے تو راۃ کی تختیوں میں ہر طرح کی نصحیت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، اب تو اسے مضبوطی سے پکڑے رہ اور اپنی قوم کو بھی حکم دے کہ اس کی عمدہ باتیں مضبوطی سے لئے رہیں، میں عنقریب تمہیں نافرمانوں کے گھر بھی دکھا دوں گا”۔(7:144-145)

إِنَّآ أَنزَلْنَا ٱلتَّوْرَىٰةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا ٱلنَّبِيُّونَ ٱلَّذِينَ أَسْلَمُوا۟ لِلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ بِمَا ٱسْتُحْفِظُوا۟ مِن كِتَٰبِ ٱللَّهِ وَكَانُوا۟ عَلَيْهِ شُهَدَآءَ فَلَا تَخْشَوُا۟ ٱلنَّاسَ وَٱخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًا قَلِيلًا وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

Quran 5:44

“دراصل یہ ایمان ویقین والے ہیں ہی نہیں، ہم نے ہی تو ریت نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت و نور ہے یہودیوں میں اسی توریت کے ساتھ اللہ کے ماننے والے انبیاء، اہل اللہ اور علماء فیصلے کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر اقراری گواہ تھے۔ اب تمہیں چاہئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو صرف میرا ڈر رکھو میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو۔ جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں، وہ پورے اور پختہ کافر ہیں”۔(5:44)

سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ ۝ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ

Quran 7:146-7

میں اپنی آیتوں کی سوچ سمجھ سے ان لوگوں کو بر گشتہ کئے رہوں گا جو ناحق زمین میں اکڑتے پھرتے ہیں، وہ اگرچہ تمام نشانات دیکھ سکیں، انہیں ماننے کے ہیں راہ راست دیکھ کر اسے راہ نہیں بنانے کے اور اگر گمراہی کی راہ دیکھ لیں تو اسے فوراً اپنا مسلک بنا لیتے ہیں، یہ وبال ہے اس بات کا کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پرواہ ر ہے۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلا ئیں اور آخرت کے پیش آنے کو نہ مانیں ان کے اعمال غارت ہیں، انہیں بدلہ صرف ان اعمال کا ہی ملے گا جووہ کرتے رہے۔(7:146-147)

سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ ۝ وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْـَٔاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

Quran 7:146-147

“موسیٰ کے جانے کے بعد قوم نے قبطیوں کے زیوروں سے بچھڑے کا بے روح ڈھانچہ بنا لیا کہ اس کی گائے جیسی آواز تھی، کیا انہوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ نہ تو وہ ان سے بولتا ہے اور نہ انہیں راہ دکھا سکتا ہے اسے لے بیٹھے تھے اور تھے ہی وہ پورے ظالم۔ اور جب اپنے کئے پر پشیمان ہوئے اور دیکھ لیا کہ وہ بہک گئے ہیں تو کہنے لگے کہ اب اگر ہم پر ہمارے پروردگار نے رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو بیشک ہم نقصان پانے والوں میں ہو جائیں گے” ۔(7:146-147) ] قوم کے ایک گروہ نے گائے کا بچھڑا بنا کر اس کی عبادت شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو اس کی اطلاع دی تو وہ واپس آ کر غصے میں حضرت ہارونؑ سے جواب طلب کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جن لوگوں نے شرک کیا ہے انہیں قتل کر دیا جائے۔ حضرت موسیٰؑ کی قوم نے کہا کہ اس صورت میں قوم کا ایک بڑا حصہ قتل ہو جائے گا۔ چند علماء نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ ہم میں سے کچھ لوگ جا کر اللہ تعالیٰ سے یہ سزا معاف کروا لیں۔ حضرت موسیٰؑ نے ستر علماء کو منتخب کیا اور انہیں اللہ سے معافی مانگنے کے لیے لے گئے۔[

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٰنَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

Quran 7:150-151

“جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصے اور رنج میں بھرا ہوا لوٹا، کہنے لگا کہ تم نے میرے بعد میری بڑی ہی بری نیابت کی، کیا تم لوگوں نے اپنے رب کے امر میں جلد بازی کی، اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنے لگا، اس نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی نہ لوگ مجھے تو کمزور مجھ کر میرے قتل کے درپے ہو گئے تھے پس آپ میرے دشمنوں کو مجھ پر نہ بنائیں اور میر اشمار بھی ان ظالم لوگوں میں نہ کیجئے۔ موسی کہنے لگا کہ اے میرے رب تو مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں لے لے تو تو تمام رحمت کرنے والوں سے بڑا رحم کرنے والا ہے”۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُفْتَرِينَ ۝ وَٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِهَا وَءَامَنُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

Quran 7:152-153

“یقینا جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا' ان پر ان کے رب کا غضب نازل ہوگا ہی اور دنیا کی زندگی کی رسوائی بھی، ہم اسی طرح جھوٹ افترا باندھنے والوں کو سزا دیتے ہیں۔ ہاں جو لوگ برائیاں کرنے کے بعد تو بہ کر لیں اور ایمان لائیں تو بیشک تیرا رب اس کے بعد بھی بڑا ہی معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے”۔(7:152-153)

وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلْأَلْوَاحَ وَفِى نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ

Quran 7:154

“جب موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا اس نے تختیاں اٹھا لیں ان میں جو لکھا ہوا تھا وہ ہدایت ورحمت تھی ان کے لئے جو اپنے پروردگار سے خوف کھاتے رہے ہیں”۔

وَٱخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُۥ سَبْعِينَ رَجُلًا لِّمِيقَٰتِنَا فَلَمَّآ أَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّٰىَ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآ إِنْ هِىَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهْدِى مَن تَشَآءُ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْغَٰفِرِينَ

Quran 7:155

“موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ہمارے وعدے کی حاضری کے لئے ستر شخص چھانٹ لئے پھر جب انہیں زلزلے نے پکڑلیا تو کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار اگر تیری یہی چاہت تھی تو انہیں اور مجھے اس سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا ہم میں سے بعض احمق لوگوں کے کئے ہوئے کاموں پر کیا تو ہمیں ہلاک کر دے گا ؟ یہ حادثہ تو صرف تیری طرف کا ایک امتحان ہے اس سے جسے تو چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت پر لے آئے تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہمارے قصور معاف فرما اور ہم پر مہربانی فرما تو تمام بخشنے والوں سے بہتر بخشنے والا ہے”۔

وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤْمِنُونَ

Quran 7:156

“تو ہمارے لئے اس دنیا کی بہتری لکھ دے اور آخرت کی بھی ہم سب تیری طرف رجوع ہو رہے ہیں۔ جناب باری کا ارشاد ہوا کہ میں اپنے عذاب تو صرف انہیں ہی پہنچا تا ہوں جنہیں چاہوں، ہاں میری رحمت نے تمام چیزوں کو سمالیا ہے پس میں اسے خصوصیت کے ساتھ ان کے نام لکھ دوں گا جو پر ہیز گاری کریں، زکوۃ ادا کرتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر یقین اور ایمان رکھیں”۔( 7:156)

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ ۝ وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْـًٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَٰعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

Quran 2:47-48

“اے اولاد یعقوب میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس دن سے ڈرتے رہو جب کوئی کسی کو نفع نہ دے سکے گا اور نہ شفاعت اور سفارش قبول ہوگی اور نہ کوئی بدلہ اور فدیہ لیا جائے گا اور نہ وہ مدد کئے جائیں گے”۔(2:47-48) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ پر احسان فرمایا، اور دونوں کو اور ان کی قوم کو بچا لیا۔

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ۝ وَنَجَّيْنَٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ ۝ وَنَصَرْنَٰهُمْ فَكَانُوا۟ هُمُ ٱلْغَٰلِبِينَ ۝ وَءَاتَيْنَٰهُمَا ٱلْكِتَٰبَ ٱلْمُسْتَبِينَ ۝ وَهَدَيْنَٰهُمَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ ۝ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ ۝ سَلَٰمٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ۝ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ۝ إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ

Quran 37:114-122

“یقینا ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بہت بڑا احسان کیا۔ اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دے دی۔ اور ان کی مدد کر کے ان ہی کو غالب کر دیا۔ اور ہم نے انہیں واضح اور روشن کتاب دی ۔ اور انہیں سیدھے راستے پر قائم رکھا۔ اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات باقی رکھی۔ کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام ہو ۔ ہم نیک لوگوں کو اسی طرح بدلے دیا کرتے ہیں۔ یقینا یہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے” ۔

إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَءَاتَيْنَٰهُ مِنَ ٱلْكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلْعُصْبَةِ أُو۟لِى ٱلْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُۥ قَوْمُهُۥ لَا تَفْرَحْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْفَرِحِينَ

Quran 28:76

“قارون تھا تو قوم موسی سے لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا ۔ ہم نے اسے اس قدر خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقت ور لوگ بہ مشکل اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے۔ ایک بار اس کی قوم نے اس سے کہا کہ اترامت اللہ تعالی اترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا”۔(28:76)

وَٱبْتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَآ أَحْسَنَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ ٱلْفَسَادَ فِى ٱلْأَرْضِ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ ۝ قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِىٓ أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِۦ مِنَ ٱلْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْـَٔلُ عَن ذُنُوبِهِمُ ٱلْمُجْرِمُونَ

Quran 28:77,78

“اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی سلوک کرتار ہ اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ رہا کر یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو نا پسند رکھتا ہے ۔ قارون کہنے لگا کہ یہ سب کچھ مجھے میری اپنی عقل سمجھ کی بناء پر ہی دیا گیا ہے، کیا اسے اب تک یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی بستی والوں کو غارت کر دیا جو اس سے بہت زیادہ قوت والے اور بہت بڑی جمع پونچھی والے تھے، گنہگاروں سے ان کے گناہوں کی باز پرس ایسے وقت نہیں کی جاتی “۔

فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ فِى زِينَتِهِۦ قَالَ ٱلَّذِينَ يُرِيدُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا يَٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ أُوتِىَ قَٰرُونُ إِنَّهُۥ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ۝ وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ ٱللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا وَلَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلصَّٰبِرُونَ

Quran 28:79,80

“قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا تو زندگانی دنیا کے متوالے کہنے لگے کاش کہ ہمیں بھی کسی طرح دو ہل جاتا جو قارون کو دیا گیا ہے یہ تو بڑاری قسمت کا دھنی ہے ۔ ذی علم لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس بہتر چیز تو وہ ہے جو بطور ثو اب انہیں ملے گی، جو اللہ پرایمان لا ئیں اور مطابق سنت عمل کریں، یہ بات انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر وسہار والے ہوں”۔(28:79,80) 2.15.9.2 اللہ تعالیٰ نے اسے تکبر کی سزا دی اور واپس آنے کے بعد اس کے محل کے پاس سب لوگوں کے سامنے اسے زمین میں دھنسا دیا -

فَخَسَفْنَا بِهِۦ وَبِدَارِهِ ٱلْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٍ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُنتَصِرِينَ ۝ وَأَصْبَحَ ٱلَّذِينَ تَمَنَّوْا۟ مَكَانَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَوْلَآ أَن مَّنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا وَيْكَأَنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْكَٰفِرُونَ

Quran 28:81,82

“آخرش ہم نے اسے اس کی محل سراسمیت زمین میں دھنساد یا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لئے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا۔ اور جولوگ کل اس کے مرتبہ پر پہنچنے کی آرزومندیاں کر رہے تھے وہ آج کہنے لگے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالی ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئےچاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی، اگر اللہ تعالی ہم پر فضل نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ناشکروں کو بھی کامیابی نہیں ملتی”۔(28:81,82)

تِلْكَ ٱلدَّارُ ٱلْـَٔاخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ۝ مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْرٌ مِّنْهَا وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

Quran 28:83-84

“آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لئے مقرر کر دیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں۔ پر ہیز گاروں کے لئے نہایت ہی عمدہ انجام ہے جو شخص نیکی لائے گا، اسے اس سے بہت بہتر ملے گا اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے بد اعمال کرنے والوں کو ان کے انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کرتے تھے”

وَقَٰرُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَٰمَٰنَ وَلَقَدْ جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كَانُوا۟ سَٰبِقِينَ ۝ فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنۢبِهِۦ فَمِنْهُم مَّنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَمِنْهُم مَّنْ أَخَذَتْهُ ٱلصَّيْحَةُ وَمِنْهُم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ ٱلْأَرْضَ وَمِنْهُم مَّنْ أَغْرَقْنَا وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

Quran 29:39,40

“اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی ان کے پاس حضرت موسی کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے۔ پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے ۔ پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کر لیا ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبود یا اللہ ایسانہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے “۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلْطَٰنٍ مُّبِينٍ ۝ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَهَٰمَٰنَ وَقَٰرُونَ فَقَالُوا۟ سَٰحِرٌ كَذَّابٌ ۝ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْحَقِّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا۟ ٱقْتُلُوٓا۟ أَبْنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ وَٱسْتَحْيُوا۟ نِسَآءَهُمْ وَمَا كَيْدُ ٱلْكَٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍ ۝ وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِىٓ أَقْتُلْ مُوسَىٰ وَلْيَدْعُ رَبَّهُۥٓ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى ٱلْأَرْضِ ٱلْفَسَادَ ۝ وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ

Quran 40:23-27

“ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل کے ساتھ بھیجا، فرعون، ہامان اور قارون کی طرف، تو کہنے لگے یہ تو جادو گر اور جھوٹا ہے جب ۔ ان کے پاس ہماری طرف سے دین حق کو لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جو ایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مارڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وہ غلطی میں ہی ہے ۔ فرعون کہنے لگا مجھے چھوڑ و تا کہ میں موسیٰ کو مار ڈالوں۔ اسے چاہئے کہ یہ اپنے رب کو پکارے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی بہت بڑا فساد برپانہ کردے ۔ موسیٰ نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ ہر اس تکبر کرنے والے شخص کی برائی سے جو روزحساب پر ایمان نہیں رکھتا”۔ درباریوں میں سے ایک شخص (جس نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا) نے دلائل دے کر سمجھایا کہ حضرت موسیٰؑ کو قتل نہ کیا جائے اور قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَٰنَهُۥٓ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّىَ ٱللَّهُ وَقَدْ جَآءَكُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ مِن رَّبِّكُمْ وَإِن يَكُ كَٰذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُۥ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ ٱلَّذِى يَعِدُكُمْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ

Quran 40:28

“ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا کہا کہ کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے؟ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہو تو جن عذابوں کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے وہ کوئی نہ کوئی تو تم پر آپڑے گا اللہ تعالی ان کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوں”۔(40:28)

يَٰقَوْمِ لَكُمُ ٱلْمُلْكُ ٱلْيَوْمَ ظَٰهِرِينَ فِى ٱلْأَرْضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِنۢ بَأْسِ ٱللَّهِ إِن جَآءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ أُرِيكُمْ إِلَّا مَآ أَرَىٰ وَمَآ أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ ٱلرَّشَادِ

Quran 40:29

“اے میری قوم کے لو گو آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ اس زمین پر تم غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آ گیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ فرعون بولا میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راہ ہی بتلا رہا ہوں”۔(40:29)

وَقَالَ ٱلَّذِىٓ ءَامَنَ يَٰقَوْمِ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُم مِّثْلَ يَوْمِ ٱلْأَحْزَابِ ۝ مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ ۝ وَيَٰقَوْمِ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ ٱلتَّنَادِ ۝ يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍ

Quran 40:30-33

“اس مومن نے کہا اے میری قوم کے لوگو مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی عذاب نہ آئے جو اور امتوں پر آیا۔ جیسے امت نوح اور عاد و ثمود اور ان کے بعد والوں کا حال ہوا اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا اور مجھے تم پر ہانک پکار کے دن کا بھی ڈر ہے۔ جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ،اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں”۔(40:30-33)

وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ۝ فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَٰذِهِۦ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَلَآ إِنَّمَا طَٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

Quran 7:130-131

“ہم نے فرعونیوں کو قحط سالیوں اور پھلوں کی کمی میں گرفتار کیا کہ وہ نصیحت حاصل کر لیں۔ انہیں جب راحت ملتی' کہتے ہم اس کے قابل ہیں اور جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰؑ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست سے بتاتے، آگاہ رہو کہ ان کی بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے لیکن یہ محض بے خبر ہیں۔ کہنے لگے کہ موی تو ہمیں جاد کرنے کے لئے جو بھی چاہے نشان لے آہم تو تیری مان کر دیتے ہی نہیں”۔( 7:130-131)

وَقَالُوا۟ مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِۦ مِنْ ءَايَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ ۝ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلطُّوفَانَ وَٱلْجَرَادَ وَٱلْقُمَّلَ وَٱلضَّفَادِعَ وَٱلدَّمَ ءَايَٰتٍ مُّفَصَّلَٰتٍ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ ۝ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ ٱلرِّجْزُ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا ٱلرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ۝ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ ٱلرِّجْزَ إِلَىٰٓ أَجَلٍ هُم بَٰلِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ

Quran 7:132-135

{7:132-135}“پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور چچڑی' جوئیں اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانات لیکن یہ اکڑتے ہی رہے، یہ تھے ہی بڑے ہی نا فرمان لوگ۔ کوئی سزا جب ان پر آجاتی تو کہنے لگتے اے موسی اپنے رب سے ہمارے لئے بمطابق اس اقرار کے جو تجھ سے ہے دعا کر اگر تو نے ہم سے یہ عذاب ہٹادیا تو ہم ضرور تجھ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو ہم تیرے ساتھ بھیج دیں گے ۔ پھر جب ہم ان سے اپنے عذاب ہٹا لیتے اس مدت تک جسے وہ پہنچنے والے ہی ہیں، اسی وقت فورا ہی وہ عہد شکنی کر ڈالتے” ۔

فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُوا۟ وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرْعَوْنَ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ ۝ ٱلنَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدْخِلُوٓا۟ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ ٱلْعَذَابِ

Quran 40:45,46

“پس اسے اللہ تعالی نے ان تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں اور فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا۔ آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی فرمان ہوگا کہ فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈال دو”۔(40:45,46)

فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُوا۟ وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرْعَوْنَ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ ۝ ٱلنَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدْخِلُوٓا۟ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ ٱلْعَذَابِ

Quran 40:45,46

“جبکہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمز ور لوگ جو تابع تھے تکبر والوں سے جن کے یہ تابع تھے، کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ بنا سکتے ہو ؟۔ وہ بڑے لوگ جواب دیں گے کہ ہم تو سبھی اس آگ میں ہی ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کر چکا ہے ۔ تمام جینی مل کر جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ کسی دن تو ہمارے عذاب میں کمی کر دے ۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزے لے کر نہیں آئے تھے یہ کہیں گے نہاں آئے تھے تو وہ کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بے اثر و بے راہ ہے ۔ یقینا ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدوزندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گوا ہی دینے والے کھڑے ہوں گے۔ جس دن ظالموں کو ان کی عذر معذرت کچھ نفع نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت ہی ہوگی اور ان کے لئے اس گھر کی خرابی ہی ہوگی”۔

2.16 حضرت داؤدؑ علیہ السلام

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلْمَلَإِ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰٓ إِذْ قَالُوا۟ لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ٱبْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِتَالُ أَلَّا تُقَٰتِلُوا۟ قَالُوا۟ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَٰتِلَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَٰرِنَا وَأَبْنَآئِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ تَوَلَّوْا۟ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ

Quran 2:246

“کیا تو نے حضرت موسیٰ کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا؟ جبکہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجئے تا کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں، پیغمبر نے کہا ممکن ہے کہ جہاد فرض ہو جانے کے بعد تم جہاد نہ کرو انہوں نے کہا ہم راہ اللہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئےہیں اور بچوں سے دور کر دیئے گئے ہیں پھر جب ان پرجہاد فرض ہوا تو سوا تھوڑے سے لوگوں کے سب پھر گئے، اللہ تعالی ظالموں کو خوب جانتا ہے”۔”(2:246)

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُوٓا۟ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِٱلْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ ٱلْمَالِ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُۥ بَسْطَةً فِى ٱلْعِلْمِ وَٱلْجِسْمِ وَٱللَّهُ يُؤْتِى مُلْكَهُۥ مَن يَشَآءُ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

Quran 2:247

“انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ للہ تعالی نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنادیا ہے تو کہنے لگے بھلا اسے ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ مقدار بادشاہت کے ہم ہیں اسے تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی نبی نے فرمایا اللہ تعالی نے اس کو تم پر برگزیدہ کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی بزرگی بھی عطا فرمائی ہے بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے اللہ تعالی کشادگی والا اور علم والا ہے”۔ (2:247)

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ءَايَةَ مُلْكِهِۦٓ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلتَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَىٰ وَءَالُ هَٰرُونَ تَحْمِلُهُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

Quran 2:248

“ان کے نبی نے انہیں پھر کہا کہ ان کی بادشاہت کی ظاہر نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسی اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے فرشتے اسے اٹھا کرلائیں گے یقینا یہ تو تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان دار ہوں”۔ (2:248)

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِٱلْجُنُودِ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّى وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُۥ مِنِّىٓ إِلَّا مَنِ ٱغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهِۦ فَشَرِبُوا۟ مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ فَلَمَّا جَاوَزَهُۥ هُوَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ قَالُوا۟ لَا طَاقَةَ لَنَا ٱلْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ قَالَ ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ ٱللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةًۢ بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

Quran 2:249

“جب ( حضرت ) طالوت لشکروں کو لے کر نکلے تو کہا سنو اللہ تعالی تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا وہ میر انہیں اور جو اسے نہ چکھنے وہ میرا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے لیکن سوائے چند کے باقی سب نے پی لیا' حضرت طالوت ایمانداروں سمیت جب نہر سے گزر گئے تو وہ لوگ کہنے لگئے آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں۔ اللہ کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا بسا اوقات چھوٹی اور تھوڑی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پالیتی ہیں اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”۔(2:249) 2.16.2 پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے طالوت کو بادشاہ مقرر کر دیا۔ طالوت کی فوج میں سپہ سالار حضرت داؤدؑ نے جالوت کو قتل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤدؑ کو نبی بنایا، انہیں حکمت عطا کی اور علم سے بھی نوازا-

وَلَمَّا بَرَزُوا۟ لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ ۝ فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُۥدُ جَالُوتَ وَءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُۥ مِمَّا يَشَآءُ وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ ٱلْأَرْضُ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

Quran 2:250,251

“جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمیں صبر دے ثابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔ چنانچہ اللہ تعالی کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو ہرادیا اور حضرت داؤد کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا اور اللہ تعالٰی نے داؤد کو مملکت و حکمت اور جتنا کچھ چاہا علم بھی عطا فر مایا ۔ اگر اللہ تعالٰی بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالی دنیا والوں پر بڑے فضل و کرم کرنے والا ہے”۔

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ عِلْمًا وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۝ وَوَرِثَ سُلَيْمَٰنُ دَاوُۥدَ وَقَالَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ ٱلطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْمُبِينُ

Quran 27:15,16

“ہم نے یقینا داؤد اور سلیمان کو علم دے رکھا تھا۔ دونوں نے کہا تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمانی ہے۔ داؤد کے وارث سلیمان ہوئے اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم سب کچھ دیئے گئے ہیں بے شک یہ بالکل کھلا ہو افضل الہی”۔

ٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلْأَيْدِ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ۝ إِنَّا سَخَّرْنَا ٱلْجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحْنَ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِشْرَاقِ ۝ وَٱلطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَّهُۥٓ أَوَّابٌ ۝ وَشَدَدْنَا مُلْكَهُۥ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْحِكْمَةَ وَفَصْلَ ٱلْخِطَابِ

Quran 38:17-20

“تو ان کی باتوں پر صبر کر اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کر جو بڑی قوت والا تھا۔ یقیناً وہ بہت رجوع رہنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں۔ اور اڑتے جانور جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے ۔ اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت دی تھی اور بات کا فیصلہ سمجھا دیا تھا”۔

وَهَلْ أَتَىٰكَ نَبَؤُا۟ ٱلْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا۟ ٱلْمِحْرَابَ ۝ إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَٱحْكُم بَيْنَنَا بِٱلْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَٱهْدِنَآ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلصِّرَٰطِ ۝ إِنَّ هَٰذَآ أَخِى لَهُۥ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِىَ نَعْجَةٌ وَٰحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِى فِى ٱلْخِطَابِ

Quran 38:21-23

“کیا تجھے جھگڑا کرنے والوں کی بھی خبرہوئی جبکہ وہ دیوار پھاند کر عبادت کی جگہ آگئے۔ جب یہ حضرت داؤد کے پاس پہنچے ان سے ڈر گئے انہوں نے کہا' خوف نہ کیجئے ہم دونوں آپس ہی میں جھگڑا اور زیادتی کر رہے ہیں۔ آپ ہمارے درمیان حق فیصلہ کر دیجئے نا انصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راہ بتادیجئے۔ سنئے یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس تو نانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے اور مجھ پر بڑی تیزی اور سختی برتا ہے”۔(38:21-23)

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلْخُلَطَآءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّٰهُ فَٱسْتَغْفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۝ فَغَفَرْنَا لَهُۥ ذَٰلِكَ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍ

Quran 38:24,25

“آپ نے فرمایا اس کا اپنی اتنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک ایک ظلم ہے اور اکثر ساجھی اور شریک ایسے ہی ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے پر ظلم و ستم کرتے ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور حضرت داؤد سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے۔ پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور پوری طرح رجوع ہو گئے۔ پس ہم نے بھی اسے وہ معاف کر دیا یقینا وہ ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں-”

يَٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلْنَٰكَ خَلِيفَةً فِى ٱلْأَرْضِ فَٱحْكُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌۢ بِمَا نَسُوا۟ يَوْمَ ٱلْحِسَابِ

Quran 38:26

“اے داؤ دہم نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنادیا۔ تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیا کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کر ڈور نہ وہ تمہیں راہ الہی سے بھٹکا دے گی،یقینا جو لوگ راہ الہی سے بھنک جاتے ہیں، ان کے لئے سخت عذاب ہیں اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔”(38:26)

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضْلًا يَٰجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُۥ وَٱلطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلْحَدِيدَ ۝ أَنِ ٱعْمَلْ سَٰبِغَٰتٍ وَقَدِّرْ فِى ٱلسَّرْدِ وَٱعْمَلُوا۟ صَٰلِحًا إِنِّى بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

Quran 34:10,11

ہم نے داؤ پراپنا فضل کیا، اے پہاڑو اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی اور ہم نے اس کے لئے لو ہانرم کر دیا، کہ تو پوری پوری زر ہیں بنا اور جوڑوں میں اندازو رکھ۔ تم سب نیک کام کیا کر و یقین مانو کہ میں تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہوں”۔(34:10,11)

وَدَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِى ٱلْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ ٱلْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَٰهِدِينَ ۝ فَفَهَّمْنَٰهَا سُلَيْمَٰنَ وَكُلًّا ءَاتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُۥدَ ٱلْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَٱلطَّيْرَ وَكُنَّا فَٰعِلِينَ ۝ وَعَلَّمْنَٰهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّنۢ بَأْسِكُمْ فَهَلْ أَنتُمْ شَٰكِرُونَ

Quran 21:78-80

“داؤد اور سلیمان کو یاد کیجئے جب کہ وہ کھیتی کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں اس میں چہ چگ گئی تھیں، ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے ۔ اور ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھادیا، ہاں ہر ایک کو ہم نے حکمت و علم دے رکھا تھا اور داؤد کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے جو تسبیح کرتے تھے اور پرند بھی۔ ہم کرانے والے ہی تھے ۔ اور ہم نے اسے تمہارے لئے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تا کہ لڑائی کے ضرر سے تمہارا بچاؤ ہو کیا اب بھی تم شکر گزار بنو گے”؟۔( 21:78-80)

2.17 حضرت سلیمانؑ علیہ السلام

وَوَهَبْنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيْمَٰنَ نِعْمَ ٱلْعَبْدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ۝ إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِٱلْعَشِىِّ ٱلصَّٰفِنَٰتُ ٱلْجِيَادُ ۝ فَقَالَ إِنِّىٓ أَحْبَبْتُ حُبَّ ٱلْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّى حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِٱلْحِجَابِ ۝ رُدُّوهَا عَلَىَّ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلْأَعْنَاقِ

Quran 38:30-33

“ہم نے داؤد کو سلیمان نامی فرزند عطا فرمایا جو بڑا اچھا بندہ تھا اور بے حد رجوع رہنے والا تھا۔ ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوروں کی محبت کو ترجیح دی یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا۔ ان گھوڑوں کو دوبارہ میرے سامنے لاؤ پھر تو پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر نا شروع کر دیا”۔

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَٰنَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِۦ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ۝ قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكًا لَّا يَنۢبَغِى لِأَحَدٍ مِّنۢ بَعْدِىٓ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ ۝ فَسَخَّرْنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِۦ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ ۝ وَٱلشَّيَٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ ۝ وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ ۝ هَٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۝ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍ

Quran 38:34-40

“ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا۔ پھر اس نے رجوع کیا۔ کہا کہ اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے سوا کسی شخص کے لائق نہ ہو تو بڑا ہی دینے والا ہے۔ پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کر دیا۔ وہ آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے پہنچا دیا کرتی تھی۔ اور طاقتور جنات کو بھی ان کا ماتحت کر دیا ہر عمارت بنانے والے کو اور غوطہ خور کو۔ اور دوسرے جنات کو بھی جوز نجیروں میں جکڑے رہتے ۔ یہ ہے ہمارا عطیہ۔ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں۔ ان کے لئے ہمارے پاس بڑا نزد یکی کا مرتبہ ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے”۔ (38:34-40)

وَلِسُلَيْمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ وَأَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ ٱلْقِطْرِ وَمِنَ ٱلْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ۝ يَعْمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٍ كَٱلْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَٰتٍ ٱعْمَلُوٓا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِىَ ٱلشَّكُورُ

Quran 34:12-13

“ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کر دیا کہ صبح کی منزل ایک مہینہ بھر کی ہوتی تھی اور شام کی منزل بھی اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہادیا اور اس کے رب کے حکم سے بعض جنات اس کی ماتحتی میں ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرتےہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ جو کچھ سلیمان چاہتے وہ جنات تیار کر دیتے مثلا قلعے اورمجسمےاور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں ۔ اے آل داؤ داس کے شکریہ میں نیک اعمال کرو۔ میرے بندوں میں سے شکر گزار بندے کم ہی ہوتے ہیں”۔ (34:12-13)

وَلِسُلَيْمَٰنَ ٱلرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِى بِأَمْرِهِۦٓ إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا وَكُنَّا بِكُلِّ شَىْءٍ عَٰلِمِينَ ۝ وَمِنَ ٱلشَّيَٰطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُۥ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ وَكُنَّا لَهُمْ حَٰفِظِينَ

Quran 21:81,82

“ہم نے تیز وتند ہواؤں کو سلیمان کے تابع کر دیا جو اس کے فرمان کے مطابق اس زمین کی طرف چلتی تھیں جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی اور ہم ہر چیز سے باخبر اور دانا ہیں۔ اسی طرح بہت سے شیاطین ہم نے اس کے تابع کئے تھے جو اس کے فرمان سے غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی بہت کام کرتے تھے ان کے نگہبان ہم ہی تھے”۔

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ عِلْمًا وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۝ وَوَرِثَ سُلَيْمَٰنُ دَاوُۥدَ وَقَالَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ ٱلطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْمُبِينُ ۝ وَحُشِرَ لِسُلَيْمَٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ وَٱلطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ

Quran 27:15-17

“ہم نے یقینا داؤ داور سلیمان کو علم دے رکھا تھا۔ دونوں نے کہا تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ داؤد کے وارث سلیمان ہوئے اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم سب کچھ دیئے گئے ہیں بے شک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الہی ہے۔ سلیمان کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرندے جمع کئے گئے۔ ہر ہر قسم الگ الگ کھڑی کر دی گئی”۔ (27:15-17)

حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوْا۟ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمْلُ ٱدْخُلُوا۟ مَسَٰكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۝ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَٰلِحًا تَرْضَىٰهُ وَأَدْخِلْنِى بِرَحْمَتِكَ فِى عِبَادِكَ ٱلصَّٰلِحِينَ

Quran 27:18,19

“جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیو ٹیو! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، ایسا نہ ہو کہ بے خبری میں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں روند ڈالے۔ اس کی اس بات سے حضرت سلیمان مسکرا کر ہنس دیئے اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجالا ؤں جو تو نے مجھے انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش ہے۔ مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے”۔ (27:18,19)

وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِىَ لَآ أَرَى ٱلْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ ٱلْغَآئِبِينَ ۝ لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَا۟ذْبَحَنَّهُۥٓ أَوْ لَيَأْتِيَنِّى بِسُلْطَٰنٍ مُّبِينٍ

Quran 27:20,21

“آپ نے پرندوں کی دیکھ بھال کی اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھتا؟ میں اسے سخت تر سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا میرے سامنے کوئی معقول وجہ بیان کرے”۔(27:20,21

فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍۭ بِنَبَإٍ يَقِينٍ ۝ إِنِّى وَجَدتُّ ٱمْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ

Quran 27:22,23

“کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ آ کر اس نے کہا میں ایک ایسی چیز کی خبر لایا ہوں کہ تجھے اس کی خبر ہی نہ تھی۔ میں سبا کی ایک بچی خبر تیرے پاس لایا ہوں ۔ میں نے دیکھا کہ ان کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے جسے ہر قسم کی چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت والا ہے”۔

وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ ۝ أَلَّا يَسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى يُخْرِجُ ٱلْخَبْءَ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۝ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ

Quran 27:24-26

“میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہوئے پایا۔ شیطان نے ان کے کام انہیں بھلے کر کے دکھلا کر صحیح راہ سے روک دیا ہے۔ پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔ کہ اسی اللہ کے لئے سجدے کریں جو آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے” ۔(27:24-26)

قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ ۝ ٱذْهَب بِّكِتَٰبِى هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَٱنظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ۝ قَالَتْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ إِنِّىٓ أُلْقِىَ إِلَىَّ كِتَٰبٌ كَرِيمٌ ۝ إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَٰنَ وَإِنَّهُۥ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ۝ أَلَّا تَعْلُوا۟ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ

Quran 27:27-31

“سلیمان نے کہا اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے۔ میرے اس خط کو لے جا کر انہیں دے دے۔ پھر ان کے پاس سے ہٹ اور دیکھ کر وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ کہنے لگی، اے سردار و میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔ جو سلیمان کی طرف سے ہے اور جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہے۔ یہ کہ تم میرے سامنے سر کشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آجاؤ”۔ (27:27-31) 2.17.5 حضرت سلیمانؑ نے ملکۂ سبا کے نام خط ہُدہُد کے ذریعے بھیجا۔ ملکہ نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا اور مسلمان ہو کر حضرت سلیمانؑ کے پاس حاضر ہو گئی۔ اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

قَالَتْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَفْتُونِى فِىٓ أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ۝ قَالُوا۟ نَحْنُ أُو۟لُوا۟ قُوَّةٍ وَأُو۟لُوا۟ بَأْسٍ شَدِيدٍ وَٱلْأَمْرُ إِلَيْكِ فَٱنظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ ۝ قَالَتْ إِنَّ ٱلْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا۟ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوٓا۟ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةً وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ۝ وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ ٱلْمُرْسَلُونَ

Quran 27:32-35

“اس نے کہا کہ اے میرے سردارو تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشور ہ دو۔ میں کسی امر کا قطعی فیصلہ جب تک تمہاری موجودگی اور رائے نہ ہو، نہیں کیا کرتی۔ ان سب نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور قوت والے سخت لڑنے بھڑنے والے ہیں آگے آپ کو اختیار ہے۔ آپ خود ہی سوچ لیجئے کہ ہمیں آپ کیا کچھ حکم فرماتی ہیں۔ اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستےہیں تو اسے اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں فی الواقع وہ اس طرح کرتے تھے۔ میں انہیں ایک ہدیہ بھیجنے والی ہوں۔ پھر دیکھ لوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں”۔ (27:32-35)

فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ۝ ٱرْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَآ أَذِلَّةً وَهُمْ صَٰغِرُونَ

Quran 27:36,37

“جب قاصد حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا کیا تم مال سے مجھے تھپک دینا چاہتے ہو؟ مجھے تو میرے رب نے اس سے بہت بہتر دے رکھا ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے، پس تم ہی اپنے اس تحفے سے خوش رہو۔ جا ان کی طرف واپس لوٹ جا۔ ہم ان کے مقابلہ پر وہ لشکر لائیں گے جن کے سامنے پڑنے کی ان میں طاقت نہیں اور انہیں ہم ذلیل و پست کر کے وہاں سے نکال باہر کریں گے “۔(27:36,37)

قَالَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَيُّكُمْ يَأْتِينِى بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِى مُسْلِمِينَ ۝ قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ وَإِنِّى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِينٌ ۝ قَالَ ٱلَّذِى عِندَهُۥ عِلْمٌ مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَءَاهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُۥ قَالَ هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّى لِيَبْلُوَنِىٓ ءَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّى غَنِىٌّ كَرِيمٌ

Quran 27:38-40

“آپ نے فرمایا اے سردارو تم میں سے کوئی ہے جو ان کے مسلمان ہو کر میرے پاس پہنچنے سے پہلے ہی اس کا تخت مجھے لادے؟۔ ایک سرکش جن کہنے لگا' آپ اپنی اس مجلس سے اٹھیں۔ اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس لا دیتا ہوں، یقین مانئے کہ میں اس پر قادر ہوں اور ہوں بھی امانتدار ۔ جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ وہ بول اٹھا کہ آپ پلک جھپکا ئیں۔ اس سے بھی پہلے میں اسے آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں، جب آپ نے اسے اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے یہی میرے رب کا فضل ہے تا کہ مجھے وہ آزما لے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا نا شکری؟ شکر گزار اپنے ہی نفع کے لئے شکر گزاری کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا پروردگار بے پرواہ اور بزرگ ہے، غنی و کریم ہے”۔ -

قَالَ نَكِّرُوا۟ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِىٓ أَمْ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ ۝ فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرْشُكِ قَالَتْ كَأَنَّهُۥ هُوَ وَأُوتِينَا ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ ۝ وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَٰفِرِينَ ۝ قِيلَ لَهَا ٱدْخُلِى ٱلصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا قَالَ إِنَّهُۥ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَ قَالَتْ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

Quran 27:41-44

“حکم دیا کہ اس کے اس تخت میں کچھ پھیر بدل کر دو تا کہ معلوم ہو جائے کہ یہ راہ پالیتی ہے یا ان میں سے ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے ۔ پھر جب وہ آگئی تو اس سے دریافت کیا گیا کہ کیا ایساہی تیرا بھی تخت ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ گویا وہی ہے، ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے۔ اسے انہوں نے روک رکھا تھا جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی یقینا وہ کافرلوگوں میں سے تھی۔ اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو، جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ فرمایا یہ تو شیشے سے منڈی ہوئی عمارت ہے۔ کہنے لگی میرے پروردگار میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرماں بردار بنتی ہوں”۔ (27:41-44) ***

2.18 حضرت ایوبؑ علیہ السلام

وَٱذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلشَّيْطَٰنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ۝ ٱرْكُضْ بِرِجْلِكَ هَٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَشَرَابٌ ۝ وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ۝ وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَٱضْرِب بِّهِۦ وَلَا تَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَٰهُ صَابِرًا نِّعْمَ ٱلْعَبْدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ

Quran 38:41-44

“ہمارے بندے ایوب کا بھی ذکر کر جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے۔ اپنا پاؤں مارو۔ یہ ہے نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی۔ اور ہم نے اسے اس کا پورا نہ عطا فرمایا کہ اتاہ اور بھی۔ اس کے ساتھ اپنی خاص رحمت سے اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے۔ اور اپنے ہاتھ میں تیلیوں کی ایک جھاڑی لے کر ماردے اور قسم کا خلاف نہ کر، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بندہ پایا وہ بڑا نیک بند ہ تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے والا”۔(38:41-44)

2.19 حضرت عیسیٰؑ علیہ السلام

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ ۝ وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

Quran 5:46,47

“اور ہم نے ان کے پیچھے عیسی بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے آگے کی کتاب یعنی تو ریت کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم ہی نے انہیں انجیل عطا فرمائی جس میں ہدایت تھی اور نور اور وہ اپنے سے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرتی تھی اور وہ سراسر ہدایت و نصیحت تھی پار سالوگوں کے لئے ۔ انجیل والوں کو بھی چاہئے کہ اللہ تعالٰی نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے، اسی کے مطابق حکم کریں جو اللہ کے نازل کردہ سے ہی حکم نہ کریں، وہ بد کار فاسق ہیں”۔ (5:46,47)

إِذْ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ عِمْرَٰنَ رَبِّ إِنِّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِى بَطْنِى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّىٓ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ۝ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّى وَضَعْتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلْأُنثَىٰ وَإِنِّى سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّىٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ

Quran 3:35,36

“جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے رب میرے پیٹ میں جو ہے اسے میں نے تیرے نام آزاد کرنے کی نذر مانی تو تو میری طرف سے قبول فرما۔ یقینا تو خوب سنے والا اور پوری طرح جانے والا ہے۔ جب بچی تولد ہوئی تو کہنے لگیں پروردگار مجھے تو لڑکی ہوئی اللہ کوخوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا۔ میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اسے اور اس کی اولادکو شیطان مردود سے”۔ (3:35,36) بی بی مریمؑ کی والدہ کو بہت عرصے تک اولاد نہیں ہوئی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے منت مانی کہ اگر اللہ انہیں اولاد عطا فرمائے تو وہ اپنی پہلی اولاد کو اللہ کے نام پر آزاد کر دیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نذر قبول فرما لی۔جب بیٹی پیدا ہوئی تو نیت کے مطابق اسے اللہ کے نام پر آزاد کر دیا گیا۔ اب مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ اس بچی کی کفالت کون کرے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بی بی مریمؑ کی کفالت حضرت زکریاؑ کے سپرد کی گئی، جو ان کے خالو تھے اور اس زمانے کے نبی تھے۔

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا ٱلْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا قَالَ يَٰمَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ إِنَّ ٱللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

Quran 3:37

“پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین طریق پر بڑھایا اور اس کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے ، پو چھا اے مریم، یہ میوے تمہارے پاس کہاں سے آئے، جواب دیا، یہ اللہ کے پاس سے، بیشک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے”۔ (3:37) حضرت زکریاؑ نے بھی بیٹے کے لیے دعا کی تاکہ وہ توحید کی تبلیغ کر سکے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹا حضرت یحییٰؑ عطا فرمایا۔

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُۥ قَالَ رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ ۝ فَنَادَتْهُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٌ يُصَلِّى فِى ٱلْمِحْرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

Quran 3:38-39

“اسی جگہ زکریا نے اپنے رب سے دعا کی کہا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فر ما بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔ پس فرشتوں نے اسے آواز دی جبکہ وہ حجرے میں کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا تھا کہ اللہ تعالی تجھے یحیی کی یقینی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ کی سچائی کرنے والا اور سردار اور عورتوں سے بے رغبت اور نبی ہے”۔

قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى غُلَٰمٌ وَقَدْ بَلَغَنِىَ ٱلْكِبَرُ وَٱمْرَأَتِى عَاقِرٌ قَالَ كَذَٰلِكَ ٱللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ ۝ قَالَ رَبِّ ٱجْعَل لِّىٓ ءَايَةً قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا وَٱذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِبْكَٰرِ

Quran 3:40-41

“نیک لوگوں میں سے کہنے لگے اے رب میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا۔ میں بالکل بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے فرمایا اسی طرح اللہ تعالی جو چاہے کرتا ہے۔ کہنے لگے پروردگار میرے لئے اس کی کوئی نشانی مقرر کر دئے ، فرمایا نشان یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کر سکے گا صرف اشارے سے سمجھائے گا۔ تو اپنے رب کا ذکر بہ کثرت کر اور صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتارہ”۔

يَٰمَرْيَمُ ٱقْنُتِى لِرَبِّكِ وَٱسْجُدِى وَٱرْكَعِى مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ ۝ ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَٰمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ

Quran 3:43-44

“جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالٰی نے تجھے برگزیدہ کر لیا اور تجھے پاک کر دیا اور سارے جہان کی عورتوں میں سے تجھے انتخاب کر لیا۔ اے مریم تو اپنے رب کی اطاعت کیا کر اور سجدہ کرتی رہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر ۔ یہ خبر غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔ تو ان کے پاس نہ تھا جبکہ وہ اپنی قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے؟ اور نہ تو ان کے جھگڑنے کے وقت ان کے پاس تھا”۔ (3:43-44)

إِذْ قَالَتِ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَٰمَرْيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ٱسْمُهُ ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ ۝ وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ۝ قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ إِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

Quran 3:45-47

بی بی مریمؑ کو ایک عظیم خوش خبری دی گئی کہ ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جس کا نام عیسیٰ ابنِ مریم ہوگا۔ نومولود بچے کا معجزہ ظاہر ہوا“: جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالی تجھے اپنی ایک بات کی یقینی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح بن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے اور ہے بھی وہ میری نزدیکی والوں میں سے۔ وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں سے باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔ کہنے لگیں اللہ مجھے لڑکا کیسے ہو گا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ فرشتے نے کہا اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے، جب کبھی وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے”۔

وَيُعَلِّمُهُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ ۝ وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنِّى قَدْ جِئْتُكُم بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّىٓ أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَأُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ وَأُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

Quran 3:48,49

“اللہ اسے لکھنا اور حکمت اور توراۃ اور انجیل سکھائے گا۔ اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو گا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور اللہ کے حکم سے میں پیٹ کے اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا اور مردے کو جلا دیتا ہوں، اور جو کچھ تم کھاؤ اور جو کچھ اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمہیں بتادیتا ہوں، اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایماندار ہو”۔

وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ ٱلَّذِى حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُم بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ۝ إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ

Quran 3:50,51

“اور میں تو راہ کا سچانے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں، تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔ یقین مانو میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے، تم سب اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے”۔ (3:50,51) حضرت عیسیٰؑ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے معجزات عطا فرمائے۔ بنی اسرائیل نے آپؑ کو جھٹلایا اور صرف حواریوں نے ایمان لایا۔

فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ ٱلْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ۝ رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلْتَ وَٱتَّبَعْنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ ۝ وَمَكَرُوا۟ وَمَكَرَ ٱللَّهُ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ

Quran 3:52-54

“پس جب (حضرت) عیسی نے ان کا کفر معلوم کر لیا تو کہنے لگے، اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون کون ہے ؟ حواریوں نے جواب دیا، ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گو اہ ر ہیے کہ ہم تا بعدار ہیں۔ اے ہمارے پالنے والے، اللہ ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی مان لی۔ پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے ۔ اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے بھی اور اللہ تعالی سب داؤ کرنے والوں سے بہتر ہے “۔(3:52-54) جب کافروں نے حضرت عیسیٰؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔

إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوْقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ۝ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ ۝ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ ذَٰلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ ٱلْـَٔايَٰتِ وَٱلذِّكْرِ ٱلْحَكِيمِ

Quran 3:55-58

“جب اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے عیسی میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے تا بعد اروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں ، قیامت کے دن تک پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کر دوں گا۔ پس کافروں کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب کروں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا لیکن ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالی ان کا ثواب پورا پورا دے گا ۔ اللہ تعالی ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ یہ جسے ہم تیرے سامنے پڑھ رہے ہیں' آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہے” ۔

إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱذْكُرْ نِعْمَتِى عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَٰلِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ تُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًا وَإِذْ عَلَّمْتُكَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ بِإِذْنِى فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِى وَتُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ بِإِذْنِى وَإِذْ تُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِى وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ

Quran 5:110

“جس وقت اللہ تعالی فرمائے گا اے عیسی بن مریم میرے ان احسانوں کو یاد کر جو میں نے تجھے پر اور میری والدہ پر کئے ہیں جبکہ میں نے روح القدس سے تیری تائید کی تو گہوارے میں لوگوں سے باتیں کرتا تھا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور جبکہ میں نے تجھے کتاب و حکمت اور تورات و انجیل سکھائی اور جبکہ تو میرے حکم سے جانور کی صورت مئی سے بنا تا تھا۔ پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا اور میرے ہی حکم سے تو مادر زاد اندھوں کو اور کوڑھیوں کو اچھا کر دیتا تھا۔ اور جب تو میرے فرمان سے مردے نکال کھڑے کرتا تھا اور جبکہ میں نے بنی اسرائیل کی ایذاؤں کو تجھ سے ہٹا دیا جبکہ تو ان کے پاس دلیلیں لایا اور ان میں جو کفار تھے انہوں نے صاف کہد یا تھا کہ یہ تو محض کھلا کھلا جادو ہی ہے”۔ حواریوں نے حضرت عیسیٰؑ سے آسمان سے کھانے کا دسترخوان نازل کرنے کی درخواست کی۔

وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى ٱلْحَوَارِيِّـۧنَ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِى وَبِرَسُولِى قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَٱشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ ۝ إِذْ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ ٱلسَّمَآءِ قَالَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝ قَالُوا۟ نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ ٱلشَّٰهِدِينَ

Quran 5:111-113

“اس وقت میں نے حواریوں کے دل میں ڈالا کہ وہ مجھے اور میرے رسول کو مان لیں تو ان سب نے کہدیا کہ ہم یقین لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم سب حکم بردار ہیں۔ جبکہ حواریوں نے کہا کہ اے عیسی بن مریم کیا تیرے رب سے یہ ہو سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کوئی خوان نازل فرمائے؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر تم با ایمانہ ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔ انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں اس خوان میں سے ہم کھا ئیں اور ہمارے دلوں کو تسکین حاصل ہو اور ہمیں آپ کی صداقت کا بھی یقین ہوجائے اور اس پر ہم خود بھی گواہ بن جائیں”۔

قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ ٱللَّهُمَّ رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ ٱلسَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَءَايَةً مِّنكَ وَٱرْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ۝ قَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّىٓ أُعَذِّبُهُۥ عَذَابًا لَّآ أُعَذِّبُهُۥٓ أَحَدًا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

Quran 5:114,115

“حضرت عیسی بن مریم نے دعا کی کہ اے معبود برحق اے ہمارے پروردگار تو ہم پر آسمان سے کھانے بھر اخوان اتارتا کہ وہ ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے عید ہو جائے اور تیری ایک خاص نشانی بن جائے۔ اے اللہ تو ہمیں روزی دے اور تو بہترین روزی رساں ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا، اچھا میں اسے تمہارے لئے نازل فرماؤں گا۔ لیکن یہ یادر ہے کہ اس کے بعد تم میں سے جو ناشکری کرے گا میں اسے وہ سزا دوں گا جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہو”۔ (5:114,115) حضرت عیسیٰؑ سے اللہ تعالیٰ کا سوال اور ان کا جواب

وَإِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ءَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ قَالَ سُبْحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُۥ فَقَدْ عَلِمْتَهُۥ تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَآ أَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ

Quran 5:116

“جب اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ اے عیسی بن مریم کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو تم اللہ بنا لینا ؟ وہ جواب دیں گے کہ اے اللہ تیری ذات پاک ہے مجھے جس بات کے کہنے کا حق نہ تھا میں کیسے کہہ دیتا؟ میں نے اگر کہا ہو تو تو خوب جانتا ہے۔ میرے دل کی باتیں تجھ پر بخوبی روشن ہیں۔ ہاں تیرے جی میں جو ہے وہ مجھ سے مخفی ہے۔ تو تو تمام تر پوشید گیوں کو خوب خوب جاننے والا ہے”۔

مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَآ أَمَرْتَنِى بِهِۦٓ أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ ۝ إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

Quran 5:117,118

“میں نے انہیں صرف وہی کہا تھا جو تو نے مجھے فرمایا تھا کہ صرف اللہ تعالی ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تم سب کا پالنے والا ہے۔ جب میں ان میں رہا ان کی دیکھ بھال کرتا رہا پھر جبکہ تو نے آپ مجھے لے لیا پھر تو تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو تو ہر ہر چیز سے پورا با خبر ہے ۔ اگر تو انہیں سزادے تو یہ تیرے غلام ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ز بر دست غلبے والا اور حکمت والا ہے”۔

إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ۝ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

Quran 3:59,60

“اللہ کے نزدیک عیسی کی مثال ہو بہو آدم کی مثال ہے جسے مٹی سے پیدا کر کے کہہ دیا کہ ہو جا۔ پس وہ ہو گیا- تیرے رب کی طرف سے حق یہی ہے۔ خبر دار شک کرنے والوں میں نہ ہو”۔

ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ۝ ٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْمُنفِقِينَ وَٱلْمُسْتَغْفِرِينَ بِٱلْأَسْحَارِ ۝ شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِٱلْقِسْطِ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ۝ إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَٰمُ وَمَا ٱخْتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ وَمَن يَكْفُرْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

Quran 3:16-19

“اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر جب کہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر ایک مشرقی مکان میں آئیں۔ اور ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا۔ پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو بھیجا اور وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا۔ یہ کہنے لگیں، میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ ترس ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں تجھے ایک پاکیزہ لڑ کا دینے آیا ہوں”۔ (3:16-19)

فَإِنْ حَآجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا۟ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ ۝ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِٱلْقِسْطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

Quran 3:20,21

“کہنے لگیں، بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہیں لگا اور نہ میں بدکار ہوں۔ اس نے کہا بات تو یہی ہے لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے، ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشان بنادیں گے اور اپنی خاص رحمت یہ تو ایک طے شدہ بات ہے”۔

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ ۝ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يُدْعَوْنَ إِلَىٰ كِتَٰبِ ٱللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُم مُّعْرِضُونَ

Quran 3:22,23

“پس وہ حمل سے ہوگئیں اور اسی وجہ سے یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں۔ پھر دروزہ اسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا اور جبیساختہ زبان سے نکل گیا کہ کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی”۔ (3:22,23)

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا۟ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًا مَّعْدُودَٰتٍ وَغَرَّهُمْ فِى دِينِهِم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ ۝ فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَٰهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ۝ قُلِ ٱللَّهُمَّ مَٰلِكَ ٱلْمُلْكِ تُؤْتِى ٱلْمُلْكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلْمُلْكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ بِيَدِكَ ٱلْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Quran 3:24-26

“اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ آزردہ خاطر نہ ہو۔ تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ اور اس درخت کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ تو یہ تیرے سامنے ترو تازہ کی کھجور میں گرادے گا۔ اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ رحمان کے نام کا روزہ مان رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی”۔ (3:24-26)

تُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَتُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ وَتُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۝ لَّا يَتَّخِذِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلْكَٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ ٱللَّهِ فِى شَىْءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُوا۟ مِنْهُمْ تُقَىٰةً وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفْسَهُۥ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلْمَصِيرُ ۝ قُلْ إِن تُخْفُوا۟ مَا فِى صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ ٱللَّهُ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Quran 3:27-29

“اب حضرت عیسی کو لئے ہوئے وہ اپنی قوم کے پاس آئیں سب کہنے لگئے مریم تو نے بڑی بری حرکت کی۔ اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بد کارتھی۔ مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا سب کہنے لگے کہ لوبھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں”؟ (3:27-29)

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوٓءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُۥٓ أَمَدًۢا بَعِيدًا وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفْسَهُۥ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ ۝ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝ قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْكَٰفِرِينَ ۝ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحًا وَءَالَ إِبْرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمْرَٰنَ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

Quran 3:30-33

“بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔ اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے۔ جہاں بھی میں ہوں اور اس نے مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ ہوں۔ اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بد بخت نہیں کیا۔ اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاؤں گا سلام ہی سلام ہے “۔(3:30-33)

ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنۢ بَعْضٍ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۝ إِذْ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ عِمْرَٰنَ رَبِّ إِنِّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِى بَطْنِى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّىٓ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ۝ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّى وَضَعْتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلْأُنثَىٰ وَإِنِّى سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّىٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ ۝ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا ٱلْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا قَالَ يَٰمَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ إِنَّ ٱللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

Quran 3:34-37

“یہ ہے صحیح واقعہ عیسی ابن مریم کا یہی ہے د حق بات جس میں لوگ شک شبہ میں مبتلا ہیں۔ اولا اللہ کے لائق نہیں۔ وہ تو بالکل پاک ذات ہے وہ تو جب کسی کام کے سر انجام کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا۔ وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ میرا اور تم سب کا پروردگار صرف اللہ تعالی ہی ہے۔ تم سب اس کی عبادت کیا کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے”۔ اللہ تعالیٰ نے بی بی مریمؑ کو حضرت عیسیٰ ابنِ مریم کی خوشخبری دی اور حضرت عیسیٰؑ کو عطا کیے گئے معجزات کا بھی ذکر فرمایا۔

إِذْ قَالَتِ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَٰمَرْيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ٱسْمُهُ ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ ۝ وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ۝ قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ إِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

Quran 3:45-47

“جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالی تجھے اپنی ایک بات کی یعنی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام سیح بن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے اور ہے بھی وہ میزی نزدیکی والوں میں سے۔ وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں سے باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وہ نیک لوگوں میں سے ہو گا۔ کہنے لگیں اللہ مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ فرشتے نے کہا اس طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے جب کبھی وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے” ۔

وَيُعَلِّمُهُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ ۝ وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنِّى قَدْ جِئْتُكُم بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّىٓ أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَأُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ وَأُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ ٱلَّذِى حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُم بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ۝ إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ

Quran 3:48-51

“اللہ اسے لکھنا اور حکمت اور توراۃ اور انجیل سکھائے گا۔ اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو گا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور اللہ کے حکم سے میں پیٹ کے اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا اور مردے کو جلا دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھاؤ اور جو کچھ اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو میں تمہیں بتا دیتا ہوں اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایماندار ہو۔ اور میں تو راہ کا سچانے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کر دی کئی ہیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں، تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کروں یقین مانو میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے، تم سب اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے”۔

فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ ٱلْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ۝ رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلْتَ وَٱتَّبَعْنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ ۝ وَمَكَرُوا۟ وَمَكَرَ ٱللَّهُ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ

Quran 3:52-54

“پس جب (حضرت) عیسی نے ان کا کفر معلوم کر لیا تو کہنے لگے اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون کون ہے ؟ حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں۔ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہئے کہ ہم تا بعدار ہیں۔ اے ہمارے پالنے والے اللہ ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان لائے اور ہم نےتیرے رسول کی مان لی۔ پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔ اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے بھی اور اللہ تعالی سب داؤ کرنے والوں سے بہتر ہے “۔(3:52-54)

إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوْقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

Quran 3:55

“جب اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے عیسی میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کر دوں گا”۔ (3:55)

2.20 اہلِ کتاب کے بارے میں حقائق-

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ إِنَّمَا ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلْقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَا تَقُولُوا۟ ثَلَٰثَةٌ ٱنتَهُوا۟ خَيْرًا لَّكُمْ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ سُبْحَٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٌ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

Quran 4:171 · 2.20.i

” {4:171} اے اہل کتاب اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ اور اللہ پر بجز حق کے کچھ نہ کہو، مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شدہ) ہیں جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف سے ڈال دیا گیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں اس لیے تم اللہ کو اور اس کے سب رسولوں کو مانو اور نہ کہو کہ اللہ تین ہیں اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لیے بہتری ہے، اللہ عبادت کے لائق تو صرف ایک ہی ہے اور وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کافی ہے کام بنانے والا۔”

لَّن يَسْتَنكِفَ ٱلْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ٱلْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا ۝ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِۦ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْتَنكَفُوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

Quran 4:172,173 · 2.20.ii

“ مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی ننگ و عار نہیں یا تکبر و انکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور ان مقرب فرشتوں کو اس کی بندگی سے جو بھی دل چرائے اور تکبر و انکار کرے اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا۔ (172) پس جو لوگ ایمان لائے ہیں اور شائستہ اعمال کئے ہیں ان کو ان کا پورا پورا ثواب عنایت فرمائے گا اور اپنے فضل سے انھیں اور زیادہ دے گا - اور جن لوگوں نے تنگ و عار اور سرکشی اور انکار کیا انھیں المناک عذاب دے گا اور وہ اپنے لیے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، اور امداد کرنے والا نہ پائیں گے۔ “(173)

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُولٍ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِى ٱسْمُهُۥٓ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ قَالُوا۟ هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ ۝ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَىٰٓ إِلَى ٱلْإِسْلَٰمِ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

Quran 61:6,7 · 2.20.iii

حضرت عیسیٰؑ نے آخری رسول ﷺ کی پیشن گوئی کئے۔ “اور جب مریم کے بیٹے عیسی نے کہا کہ اے میری قوم بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوش خبری سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے، پھر جب وہ ان کے پاس کھلی دلیلیں لائے تو یہ کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے۔ اس شخص سے زیادہ ظالم اور کون ہے؟ جو اللہ پر جھوٹ افتر اکرے حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہےاور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا”۔

يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ ۝ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ

Quran 61:8,9 · 2.20.iv

“چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے تو کافر بر اما نیں۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تا کہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے اگر چہ مشرکین نا خوش ہوں”۔ (61:8,9)

لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمْ رُسُلًا كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُهُمْ فَرِيقًا كَذَّبُوا۟ وَفَرِيقًا يَقْتُلُونَ ۝ وَحَسِبُوٓا۟ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَعَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ كَثِيرٌ مِّنْهُمْ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

Quran 5:70,71 · 2.20.v

“ہم نے بالیقین بنواسرائیل سے عہد و پیمان لیا اور ان کی طرف رسولوں کو بھیجا جب کبھی رسول ان کے پاس وہ احکام لے کر آئے جوان کی اپنی منشاء کے خلاف تھے تو انہوں نے ان کی ایک جماعت کی تو تکذیب کی اور ایک جماعت کو قتل کر دیا۔ اور سمجھ بیٹھے کہ کوئی سزا نہ ہوگی۔ پس اندھے بہرے بن بیٹھے۔ پھر اللہ ان پر متوجہ ہوا۔ اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر اندھے بہرے ہو گئے۔ اللہ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھنے والا ہے”۔( 5:70,71)

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَقَتْلِهِمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ بَلْ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ۝ وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَٰنًا عَظِيمًا ۝ وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا ٱلْمَسِيحَ عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًۢا ۝ بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

Quran 4:155-158 · 2.20.vi

{4:155-158}(یہ سزا تھی) یہ سبب ان کی عہد شکنی کے اور احکام الٰہی کے ساتھ کفر کرنے کے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالنے کے اور اس سبب سے کہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے۔ حالانکہ دراصل ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے۔ اس لیے یہ قدر قلیل ہی ایمان لاتے ہیں۔(155) ان کے کفر کے باعث اور مریم پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعث (156) اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کردیا حالانکہ نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لیے (عیسیٰ ) کا شبیہ بنادیا گیا تھا یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں، انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے انھیں قتل نہیں کیا۔(157) بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔

فَبِظُلْمٍ مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَٰتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ كَثِيرًا ۝ وَأَخْذِهِمُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَقَدْ نُهُوا۟ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

Quran 4:160,161 · 2.20.viii

جو نفیس چیزیں ان کے لیے حلال کی گئی تھیں وہ ہم نے ان پر حرام کردیں ان کے ظلم کے باعث اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے اکثر لوگوں کو روکنے کے باعث (160) ۔ اور سود جس سے منع کئے گئے تھے اسے لینے کے باعث اور لوگوں کا مال ناحق مار کھانے کے باعث اور ان میں جو کفار ہیں ہم ان کے لیے المناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ (4:160,161)

لَّٰكِنِ ٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ مِنْهُمْ وَٱلْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَٱلْمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱلْمُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ أُو۟لَٰٓئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا

Quran 4:162 · 2.20.ix

لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں اور ایمان والے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور زکوۃ کو ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے۔ (4:162)

2.21 اللہ تعالی نے تمام نبیوں سے عہد لیا۔

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ ٱللَّهُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا۟ عِبَادًا لِّى مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن كُونُوا۟ رَبَّٰنِيِّـۧنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ ٱلْكِتَٰبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ ۝ وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا۟ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ أَرْبَابًا أَيَأْمُرُكُم بِٱلْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ

Quran 3:79,80

“کسی ایسے انسان کو جسے اللہ کتاب و حکمت اور نبوت دے یہ لائق نہیں کہ پھر بھی وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ (وہ تو کہے گا کہ ) تم سب رب کے ہو جاؤ تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب۔(79) نہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ تمہیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لینے کا حکم کرے کیا وہ تمہارے مسلمان ہونے کے بعد تمہیں کفر کا حکم دے گا”۔(3:79-80)

أَفَغَيْرَ دِينِ ٱللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُۥٓ أَسْلَمَ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ۝ قُلْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَمَآ أُوتِىَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ

Quran 3:83,84

“جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں کا عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کوسچ بتائے تو تمہیں اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے، فرمایا کیا تم اس کے اقراری ہو؟ اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو سب نے کہا ہاں ہمیں اقرار ہے فرمایا تو آپ گواہ رہو(83) اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں پس اس کے بعد بھی جو پلٹ جائیں وہ یقینا پورے نا فرمان ہیں”۔(3:83,84) ***

2.22 اہل کتاب کو اللہ تعالیٰ کا حکم

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِۦ شَيْـًٔا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُولُوا۟ ٱشْهَدُوا۟ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

Quran 3:64 · 2.22.i

“تمام اہلِ کتاب کو ایک اللہ کو ماننے کا حکم دیا گیا” (3:64):کہہ دو کہ اے اہل کتاب ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابرہے کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کریں نہ اسکے ساتھ کسی کوشریک بنا میں نہ اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنا ئیں پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں”۔

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوْرَىٰةُ وَٱلْإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعْدِهِۦٓ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۝ هَٰٓأَنتُمْ هَٰٓؤُلَآءِ حَٰجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِۦ عِلْمٌ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۝ مَا كَانَ إِبْرَٰهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۝ إِنَّ أَوْلَى ٱلنَّاسِ بِإِبْرَٰهِيمَ لَلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا ٱلنَّبِىُّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلْمُؤْمِنِينَ

Quran 3:65-68 · 2.22.ii

حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں جھگڑا نہ کرو، وہ تو خالص توحید پر ایمان رکھنے والے تھے (3:65-68) “-اے اہل کتاب تم ابراہیم کی بابت کیوں جھگڑتے ہو؟ حالانکہ توراۃ و انجیل تو ان کے بعد ہی نازل کی گئیں۔ کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے ؟۔(65) سنو تم لوگ اس میں جھگڑ چکے جس کا تمہیں علم تھا۔ پھر اب اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے۔(66)اور تم نہیں جانتے ابراہیم نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے بلکہ وہ تو یکطرفہ خالص مسلمان تھے وہ مشرک بھی نہ تھے۔(67) سب لوگوں سے زیادہ ابراہیم سے نزدیک تر دہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے -مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ تعالی ہی ہے”۔

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ إِنَّمَا ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلْقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَا تَقُولُوا۟ ثَلَٰثَةٌ ٱنتَهُوا۟ خَيْرًا لَّكُمْ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ سُبْحَٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٌ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

Quran 4:171 · 2.22.iii

اے اہلِ کتاب! حضرت موسیٰؑ کے بارے میں جھوٹ نہ کہو، بلکہ سچ بیان کرو۔(4:171) “اے اہل کتاب اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ اور اللہ پر بجز حق کے کچھ نہ کہو، مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شدہ) ہیں جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف سے ڈال دیا گیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں اس لیے تم اللہ کو اور اس کے سب رسولوں کو مانو اور نہ کہو کہ اللہ تین ہیں اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لیے بہتری ہے، اللہ عبادت کے لائق تو صرف ایک ہی ہے اور وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کافی ہے کام بنانے والا۔”

يَسْـَٔلُكَ أَهْلُ ٱلْكِتَٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَٰبًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَقَدْ سَأَلُوا۟ مُوسَىٰٓ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوٓا۟ أَرِنَا ٱللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ثُمَّ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ وَءَاتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَٰنًا مُّبِينًا ۝ وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ ٱلطُّورَ بِمِيثَٰقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا۟ فِى ٱلسَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًا ۝ فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَقَتْلِهِمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ بَلْ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا

Quran 4:153-155 · 2.22.iv

حضرت موسیٰؑ کی قوم کی نافرمانیاں اور ان پر آنے والی سزا کا ذکر ہے۔“ (4:153-155)آپ سے یہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب لائیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے انھوں نے اس سے بہت بڑی درخواست کی تھی کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کو دکھا دے، پس ان کے اس ظلم کے باعث ان پر کڑاکے کی بجلی آ پڑی پھر باوجودیکہ ان کے پاس بہت دلیلیں پہنچ چکی تھیں انھوں نے بچھڑے کو اپنا محبوب بنا لیا، لیکن ہم نے یہ معاف فرما دیا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا غلبہ (اور صریح دلیل) عنایت فرمائی۔(153)اور ان کا قول لینے کے لیے ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کردیا اور انھیں حکم دیا سجدہ کرتے ہوئے دروازے میں جاؤ اور یہ بھی فرمایا کہ ہفتہ کے دن میں تجاوز نہ کرنا اور ہم نے ان سے قول وقرار لیے (4:154) (یہ سزا تھی) یہ سبب ان کی عہد شکنی کے اور احکام الٰہی کے ساتھ کفر کرنے کے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالنے کے اور اس سبب سے کہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے۔ حالانکہ دراصل ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے۔ اس لیے یہ قدر قلیل ہی ایمان لاتے ہیں۔ ”

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَشْتَرُونَ بِهِۦ ثَمَنًا قَلِيلًا أُو۟لَٰٓئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ إِلَّا ٱلنَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ وَٱلْعَذَابَ بِٱلْمَغْفِرَةِ فَمَآ أَصْبَرَهُمْ عَلَى ٱلنَّارِ ۝ ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ نَزَّلَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِى ٱلْكِتَٰبِ لَفِى شِقَاقٍۭ بَعِيدٍ

Quran 2:174-176 · 2.22.v

“جو لوگ اللہ تعالی کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔ قیامت کے دن ان سے اللہ تعالی بات بھی نہ کرے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہیں۔(174) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے مول لے لیا ہے یہ لوگ عذاب آگ کا کیا کچھ برداشت کرنے والے ہیں۔(175) ان (عذابوں کا ) باعث یہی ہے کہ اللہ تعالی کی اتاری ہوئی کچی کتاب کو انہوں نے چھپا لیا۔ اس کتاب میں اختلاف کرنے والے یقینا دور کے خلاف میں ہیں”۔(2:174-176)

وَإِذْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ وَٱشْتَرَوْا۟ بِهِۦ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ ۝ لَا تَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوا۟ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا۟ بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا۟ فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ ٱلْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Quran 3:187-189 · 2.22.vi

” اللہ تعالی نے جب اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے بیان کرتے رہا کرو اور اسے چھپاؤ نہیں پھر بھی ان لوگوں نے اس عہد کو اپنی پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور اسے بہت کم قیمت پر بیچ ڈالا۔ ان کا یہ بیو پار بہت برا ہے(87) وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا' اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں تو انہیں عذاب سے چھٹکارہ میں نہ سمجھے ان کے لئے تو درد ناک عذاب ہے ۔(88) آسمانوں اور زمینوں کا مالک اللہ ہی ہے اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے”۔

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَٰسِقُونَ ۝ قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ ٱللَّهِ مَن لَّعَنَهُ ٱللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ ٱلْقِرَدَةَ وَٱلْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ ٱلطَّٰغُوتَ أُو۟لَٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضَلُّ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ

Quran 5:59,60 · 2.22.vii

“کہہ دے کہ اے یہود یو ! تم ہم سے صرف اسی وجہ سے دشمنیاں کر رہے ہو کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ ہماری جانب نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ اس سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ایمان لائے ہیں اور اس لئے بھی کہ تم میں سے اکثر فاسق ہیں۔ کہہ کہ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بھی زیادہ برے بدلے والا اللہ کے نزدیک کون ہے؟ وہ جس پر اللہ نے لعنت کی اور اس پر وہ غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنادیا اور وہ جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی یہی لوگ بدتر درجے والے ہیں اور یہی راہ راست سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں”۔(5:59,60)

وَإِذَا جَآءُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَقَد دَّخَلُوا۟ بِٱلْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا۟ بِهِۦ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْتُمُونَ

Quran 5:61 · 2.22.viii

“جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کفر لئے ہوئے ہی آئے تھے اور اسی کفر کے ساتھ ہی وہ جو کچھ چھپارہے ہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ خوب دانا ہے”

وَدَّت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ۝ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ ۝ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَلْبِسُونَ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَٰطِلِ وَتَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

Quran 3:69-71 · 2.22.ix

“اہل کتاب کی ایک جماعت کی چاہت ہے کہ تمہیں گمراہ کردیں در اصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں۔ اے اہل کتاب تم با وجود قائل ہونے کے پھر بھی دانستہ کفر کیوں کر رہے ہو ؟۔ اے اہل کتاب باوجود جانے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپارہے ہو؟”۔(3:69-71)

وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ ءَامِنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَجْهَ ٱلنَّهَارِ وَٱكْفُرُوٓا۟ ءَاخِرَهُۥ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۝ وَلَا تُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ ٱلْهُدَىٰ هُدَى ٱللَّهِ أَن يُؤْتَىٰٓ أَحَدٌ مِّثْلَ مَآ أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ قُلْ إِنَّ ٱلْفَضْلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ۝ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِۦ مَن يَشَآءُ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

Quran 3:72-74 · 2.22.x

“اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا کہ جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیا ہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کا فربن جاؤ تا کہ یہ لوگ بھی پلٹ جائیں”۔(3:72-74)

وَمِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَآئِمًا ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا۟ لَيْسَ عَلَيْنَا فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ۝ بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ وَٱتَّقَىٰ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

Quran 3:75,76 · 2.22.xi

“بعض اہل کتاب تو ایسے ہیں کہ اگر نہیں تو خزانے کا امین بنا دے تو بھی وہ تجھے واپس کر دیں اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ اگر تو انہیں ایک دینار بھی امانت دے تو مجھے ادانہ کریں نہاں یہ اور بات ہے کہ تو اس کے سر پر ہی کھڑار ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ ہم پر ان جاہلوں کے حق کا کوئی گناہ نہیں یہ لوگ باوجود جانے کے اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں۔(75)کیوں نہیں (مواخذہ ہوگا) البتہ جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیزگاری کرے تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے” ۔ (3:75,76)

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَأَيْمَٰنِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُو۟لَٰٓئِكَ لَا خَلَٰقَ لَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُۥنَ أَلْسِنَتَهُم بِٱلْكِتَٰبِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

Quran 3:77-78 · 2.22.xii

“بیشک جو لوگ اللہ تعالی کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ تعالی نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہیں۔یقینا ان میں ایسا گروہ بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑ تا ہے تا کہ تم اسے کتاب ہی کی عبارت خیال کرنے لگو اور دراصل وہ کتاب میں نہیں اور یہ کہتے بھی ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں وہ تو دانستہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں” ۔

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعْمَلُونَ

Quran 3:98 · 2.22.xiii

“کہہ دے کہ اے اہل کتاب تم اللہ تعالی کی آیتوں کے ساتھ کفر کیوں کرتے ہو؟ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالی اس پر گواہ ہے ” ۔ (3:98)

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنتُمْ شُهَدَآءُ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

Quran 3:99 · 2.22.xiv

“ان اہل کتاب سے کہو کہ تم اللہ تعالٰی کی راہ سے لوگوں کو کیوں روکتے ہو اور اس میں عیب ٹولتے ہو حالانکہ تم خود شاہد ہواللہ تعالی تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں” ۔ (3:99)

2.23 اہلِ کتاب کو اللہ تعالیٰ کی نصیحتیں-

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعْمَلُونَ

Quran 3:98 · 2.23.i

اہلِ کتاب رسول اللہ ﷺ کو اپنے بیٹوں کی طرح جانتے تھے (3:98) “جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے ان کی ایک جماعت حق کو جان کر پھر چھپاتی ہے۔ تیرے رب کی طرف سے یہ سرا سرحق ہے۔ خبر دار تو شک دالوں میں سے نہ ہونا ”۔

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُولٍ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِى ٱسْمُهُۥٓ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ قَالُوا۟ هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ

Quran 61:6 · 2.23.ii

“اور جب مریم کے بیٹے عیسی نے کہا کہ اے میری قوم بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوش خبری سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے پھر جب وہ ان کے پاس کھلی دلیلیں لائے تو یہ کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے”۔(61:6)

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَٰهُمْ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

Quran 5:65 · 2.23.iii

اگر اہلِ کتاب ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ ان کے تمام گناہ معاف فرما کر انہیں جنت میں داخل فرما دے گا۔ (5:65) “یہ اہل کتاب ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں معاف فرمادیتے اور ضرور انہیں راحت و آرام کی جنتوں میں لے جاتے”۔ 2.24 اگر اہلِ کتاب تورات، انجیل اور جو کچھ اللہ کی طرف سے ان پر نازل ہوا ہے، اس پر قائم رہتے تو اللہ تعالیٰ انہیں بہت وسیع رزق عطا فرماتا۔

← Chapter 1Chapter 3 →